ریحان اعظمی۔آج کل ہندوستان کی مارکیٹ اتھل پتھل ہورہی ہے۔جہاں ایک طرف ہر کوئی اپنے روزگار سے ہاتھ دھو رہاہے،وہیں آپ چھوٹا سا کاروبار کرکے ماہ واری لاکھوں کما سکتے ہیں۔ کوئی بھی بزنس شروع کرنے سے پہلے کچھ باتوں کا دھیان رکھنا بہت ضروری ہے۔
سب سے پہلے آپ اپنے دماغ سے یہ خیال نکال دیں کہ آپ کون ہیں؟ پھر دوسری چیز آپ لوکیشن یعنی علاقہ کا سلیکشن کریں کہ کہاں پر آپ کا بزنس گرو یعنی بڑھ سکتا ہے۔ آج ہم جس چیز کی بات کرنے جارہے ہیں وہ ہے کلفی یا آئس کریم کا بزنس ہے۔ اگر آپ اچھی والی کلفی ہرروز 200 پیس بیچتے ہیں جو کہ پچیس سے تیس روپیہ کی ایک پیس ملتی ہے۔ اس سے آپ لاکھوں کما سکتے ہیں۔ چلیں وقت ضائع کئیے بغیر ایک سرسری طور پر جائزہ لیتے ہیں۔
مان کر چلیں آپ ایک دن میں 200 کلفی بیچ دئیے وہ بھی 25 روپیہ کی تو
200×25=5000
اگر وہیں مہینے کا اوریج نکالیں تو
5000×30=150000
یہ تو ہوگئی ٹوٹل کمائی کی۔
اگر آپ اسکا خرچ نکالیں تو ایک راؤنڈ فیگر لیں ایک کلفی بنانے میں آپ کو پانچ سے آٹھ روپیہ لگے گا ہم نے آٹھ روپیہ ایک کلفی کا مان کر چلتے ہیں۔
200×8=1600
اگر ایک مہینے کی لاگت نکالیں تو
1600×30=48000
روپے بنتے ہیں۔
اگر آپ یہ کام خود کرتے ہیں تو آپ کو بجلی کا اور دکان کا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ہم ایک دکان کا کرایہ 10 ہزار مان کر چلتے ہیں۔ اور بجلی کا 15سو اب ہم اسکو
48000+10000+1500=59500
روپیہ خرچ ہوگا۔
وہیں اگر ہم اس کام کو کسی ایک لیبر کے ذریعے کرواتے ہیں تو ایک لیبر اگر دیہات علاقے میں تو 5000 ہزار لے گا اگر شہر کے علاقے میں ہیں تو دس ہزار لے گا۔ ہم شہر کا حساب لگاتے ہیں۔اب اس حساب میں آپ دس ہزار اور جوڑ دیں۔
59500+10000=69500
پانچ سو روپیہ اور خرچ ڈال دیں تو ہمارا تقریباً ٹوٹل خرچ ہوا 70ہزار روپیہ۔ ہم نے ٹول کمائے تھے۔
150000
اب اس میں سے 70 ہزار نکال دیں۔ اب ہمارے پاس 80 ہزار روپیہ آرام سے بچے گا۔ یہ ہوئی آپ کی کمائی۔ پھر دیر کس چیز کی شروع کریں آج سے اور کمائیں اچھی خاصی رقم۔
نوٹ۔ اگلی بار ہم آپ کو پانچ روپیہ دس روپیہ 15 روپیہ والی کلفی کے بارے میں بھی بتائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں