لکھنؤ۔(یو این اے نیوز 30ستمبر 2020)لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو بابری مسجد انہدام کے لگ بھگ 28 سال بعد بدھ کے روز اس کیس کا فیصلہ سنادیا۔جسمیں بی جے پی کے کئی سینئر لیڈران کو بابری مسجد انہدام کا کلیدی مجرم مانا جارہا تھا انکے ساتھ سبھی 32 ملزمان کو بری کردیا
۔ہندوستان کے آئین کے مطابق عدالت کی جانب سے اس کیس کا فیصلہ سنانے کے وقت اس مقدمے میں نامزد سبھی 32ملزموں کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا تھا ۔لیکن کورونا کی وبا اور اس متاثر 6ملزمان عدالت میں حاضر نہیں ہوسکے۔انکو عدالت کی کارروائی اور اسکا فیصلہ ویڈیو لنک کے ذریعے سنایا گیا۔جسمیں جج نے سبھی ملزمان کے خلاف پختہ ثبوت نہ پائے جانے کی وجہ بری کردیا ہے۔
اس مقدمے کے ملزمان میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے شریک بانی اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، سابق مرکزی وزرا مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سمیت کئی سینیئر سیاستدان کے نام شامل تھے
واضح رہے کہ مسلم پرسنل بورڈ نے کہا ہیکہ ہم اس فیصلہ کے خلاف عدالت جائنگے۔دلچسپ یہ ہوگا کہ اب اس فیصلہ کے بعد سی بی آئی کیا رخ اپناتی ہے ،کیاوہ فیصلے کے بعد اس پورے معاملے کو اونچی عدالت لیکر جائی گی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں