پٹنہ(پریس ریلیز) معروف گلوکار مکیش کے نغمے ہمارے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ یہ نغمے نہ صرف ہمارے دلوں کو سکون دیتے ہیں بلکہ ہمیں زندگی جینے کا ایک نیا حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ یہ باتیں آج ادبی اور ثقافتی تنظیم سوارنجلی کے زیر اہتمام میوزیکل گروپ جیمس بینڈ کے تعاون سے منعقد ایک پروگرام میں تنظیم کے جنرل سکرٹری اور معروف ادیب ڈاکٹر دھرو کمار نے کہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مکیش چندر ماتھر نے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کے ایل سہگل کی آواز میں کیا تھا۔ لیکن بعد میں مکیش نے اپنی آواز میں ایسی انفرادیت لائی کہ ان کی آواز مشہور اداکار راج کپور کی آواز بن گئی۔
مکیش کے انتقال کے بعد راج کپور نے یہاں تک کہہ دیا کہ آج میری آواز ختم ہو گئی۔ دھرو کمار نے کہا کہ ایسے گلوکار بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن یہ گلوکار آنے والی نسلوں کے لئے موسیقی کا ایک عظیم سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں۔ 27 اگست 1976 کو مکیش کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا تھا۔ اس موقع سے ہر سال 27 اگست کو سورانجلی اور میوزیکل گروپ جیمس بینڈ کے مشترکہ تعاون سے انھیں خراج عقیدت پیش کرنے لئے فن کاروں کی ایک محفل آراستہ کی جاتی ہے۔ جس میں موسیقی کار پپو گپتا، جمی گپتا، اشوک کمار، ادئے پاٹھک کے سازوں پر ریاست اور ملک کے معروف فنکار اپنی آوازوں میں عظیم گلوکار مکیش کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
سرسوتی اسٹوڈیو، پٹنہ سیٹی میں منعقد اس پروگرام میں سرنجن راج ویر، آدیتیکا راج، احمد رضا ہاشمی، انیل رشیم، ستراج اور دیگر گلوکاروں نے مکیش کے نغمے گائے۔ پروگرام کے کنوینر انیل رشیم نے بتایا کہ جیمس بینڈ کے تعاون سے سورانجلی ہر سال 31 جولائی کو محمد رفیع کی برسی کے موقع پر بھی انھیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس سال یہ پروگرام بہت محدود پیمانے پر منعقد کیا گیا۔ مکیش کا پورا نام مکیش چندر ماتھر تھا۔ وہ 22 جولائی 1923 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی آواز معروف اداکار راج کپور،منوج کمار، فیروز خان، سنیل دت اور دلیپ کمار کی آواز سمجھی جاتی تھی۔ اداکار موتی لال راج ونش نے مکیش کو ایک شادی میں گاتے ہوئے سنا اور ان کی آواز سے متاثر ہو کر وہ انھیں ممبئی لے آئے۔
اسی دوران مکیش کو 1941 ء میں فلم نردوش میں ادکار اور گلوکار کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع مل گیا۔ اس فلم میں انھوں نے اپنا پہلا نغمہ " یہ دل ہی بجھا ہوا تو" رکارڈ کروایا۔ موسیقیکار نوشاد کی مدد سے مکیش نے اپنے منفرد لہجے میں گانا شروع کیا جس کے بعد ان کا شمار ہندی فلموں کے مایہ ناز گلوکاروں میں کیا جانے لگا۔ 1974 ء میں مکیش کو ان کے گانے " کئی بار یونہی دیکھا ہے" کے لئے بہترین گلوکار کا نیشنل فلم فیئر ایوارڈ ملا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں