بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم: محمد طاسین ندوی
اللہ تبارک تعالی نے اس روئے زمین پر مسلمانوں کو پیدا کیا اور ان پر انواع و اقسام کا انعام فرمایا بعض کا تعلق رہنے بسنے سے ہے تو بعض کا معاملات و عبادات سے چونکہ یہ امت اجابت ہے پچھلی امت کی طرح ان پر بھی نماز کو فرض کیا لیکن خاص خصوصیت کے ساتھ کہ اس امت محمدیہ کے لئے روئے زمین کا چپہ چپہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت مرحمت کیا مسلمانان جہاں چاہیں جس جگہ چاہیں اپنی نماز ادا کریں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اس جگہ و مکان کا پاک و صاف ہونا ضروری ہے۔
قارئین کرام! آئیے بابری یا میر باقی مسجد کی باتیں کریں مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے حکم سے سن ١٥٢٧ء میں میر باقی کے ذریعہ ریاست اتر پردیش کی مشہور جگہ اجودھیا میں تعمیرکروائی گئی تھی, یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کے ساتھ دو چھوٹے گنبد تھیگنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں صحن بھی شامل تھا گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونا کا پلاسٹر کیا گیا تھا مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لیے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا مختصر یہ کہ یہ مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار تھی۔
١٩٤٩ء میں مسجد کو بند کرا دیا گیا اور ٤٠ سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی بی جے پی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی اور تحریک کے دوران ٦دسمبر١٩٩٢ء كوہزاروں ہندوکارسیوکوں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے اعلیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں اس اسلامی شاہکاراور تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا گیا جس کے بعد دہلی و ممبئ اور ہندوستان کے دیگر شہروں میں تقریباً دو ہزار سے زائد مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں مار دیا گیا پھر کیا ہوا ہم سبہوں نے پڑھا سنا اور دیکھا مقدمہ کورٹ تک پہنچا لیکن ہندوستانی عدلیہ نے بھی اپنا بھرم کھویا کیونکہ ہندوستانی عدلیہ بھی بی جے پی حکومت ساز باز رکھنے والا ٹھہرا اسلام و مسلمان دشمنی یہاں بے نقاب ہوا اور فیصلہ ہندو وادکے حق میں دیا گیا۔
موجودہ بی جے پی دور اقتدار نے وہ سب کچھ کیا جس سے مسلمانیت ہی نہیں بلکہ انسانیت سر مشار ہورہی ہے آج مورخہ٥ اگست بروز بدھ ٢٠٢٠ء رامندرکا شیلانیاش ہونے جارہا ہے اور ہندوستان کا یہ عالم ہیکہ ہر طرف وبائی بیماری کو رونا سے رہائشی پریشان ہیں کام کاج بالکل معطل ہے ایسا محسوس ہورہا کہ دنیا بالکل تھم اور سہم سی گئی ہو.جہاں حکومت وقت نے سوشل ڈسٹائنسنگ والا اصول وضابطہ بنایا تھا آج بخود اس کا خون کرنے والا ہے کہاں ہیں ڈبلیو ایچ او کے لوگ اور اس کے ترجمان جس نے اس بیماری سے بچنے کا حل اس سماجی دوری کو بتایا تھا کیا اسے یہ سری گتی قیدیوں نظر نہیں آرہی ہے.یقینا آرہی ہوگی لیکن الکفر ملة واحدة بالکل بجا اور درست ہے اسوقت سارے اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں اور خواب آور گولیاں کھا کھا کر سو رہے ہیں اگر مسلمان کچھ کرنے پر آمادہ ہوں تو سب کے سب خواب خرگوش سے بیدار ہوجائیں گے کو رونا کا خطرہ بڑھتا نظر آئیگا فرمان نبوی الدنیاسجن المؤمن وجنة الكافر یقینا ایک جامع حدیث ہے۔
کفار داد عیش دے رہے ہیں ایمان والے مظلوم و مقہورہیں نہ کوئی داد رسی کرنے والا اور نہ ہی کوئی کچھ سننے والا ہے لیکن پھر بھی ہم ہی راہ حق والے ہیں ہماری بابری مسجد کو مسمار کردیا جانے سے یا اس کی جگہ پر غاصبانہ قبضہ کرلینے سے یہی ہوا کہ رام مندر کی بنیاد رکھ دی گئ, مندر کی تعمیر کی کوشش ہورہی ہے لیکن وہ جگہ مسجد کے حکم میں ہے اور رہے گی..ہم حوصلہ بلند رکھیں آج نہیں تو کل, یہاں نہیں تو وہاں,ہماری ہی بالادستی ہوگی ان شائاللہ تعالی بس ہم اپنی حقیقت کو جانیں اور پہچانیں.اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اے اللہ ہمارے حالات کو بہتر کردے ہمارا ایمان جو مردہ ہوتا نظر آرہا ہے پھر سے روح ڈال دے تو ہی ظاہر وباطن سے باخبر ہے ہمارا ظاہر وباطن اچھا کردے.آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں