جونپور(یواین اے نیوز14جون2020)پیوپلس اویرنس فورم کے جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے اترپردیش کے ضلع جونپور کے بھریٹھی گاؤں کے واقعہ کو انتہائی افسوس ناک بتاتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ معاملے کی ساری تفصیلات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک معمولی سے واقعہ کو جان بوجھ کر طول دیتے ہوئے اپنے دفاع میں آتش زنی کا فرضی معاملہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور ماضی میں بھی اس طرح کے فرضی معاملات بنانے کے بے شمار واقعات سامنے آتے رہے ہیں اور انتظامیہ کو یہ بات دھیان میں رکھنی چاہیے تھی مگر انتظامیہ تو سرکار کے اشارے پر کام کرتی ہے اور اسی لئے موجودہ حالات اور یوگی کی بھگوا سرکار کے دور میں انتظامیہ کی یک طرفہ کاروائی پر مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔
زیڈ کے فیضان نے سوال کیا کہ کمشنر اور آءی جی کا گاؤں جا کر صرف ایک فریق کے لوگوں سے ملاقات کر حالات کا جائزہ لینا جبکہ دوسرے فریق سے ملنا تک گوارا نہ کرنا، بڑے پیمانے پر اقلیتی طبقے کو یک طرفہ گرفتار کرنا،ان کے خلاف بہت ساری سنگین دفعات کے ساتھ ساتھ مہاماری ایکٹ کا بھی نفاذ وغیرہ جیسے عمل کیاانتظامیہ کے طریقہ کار پر انگشت نمائی نہیں کر تے؟انھوں نے مزید سوال کیا کہ جب دونوں فریقوں کو چوٹیں آئی ہیں اور یہ بات عیاں ہے کہ جہگڑے کی شروعات کس وجہ سے ہوی اور کس نے پہل کی تو پھر دوسرے فریق کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے کیا معنی نکالے جاءیں؟انہوں نے کہا کہ واقعہ کی مختلف رپورٹس،جلے ہوئے چھپر وں کے فوٹوگرافس اور بہت ساری ٹیلیفونک گفتگو کا بیورا میرے سامنے ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ جس طرح سے چیف منسٹر نے ذاتی دلچسپی لے کر احکامات جاری کرتے ہوئے دس لاکھ سے زیادہ کی رقم معاوضہ کے طور پر دینے کا اعلان کیا ہے
اور سماج کلیان وبھاگ کے ذریعے بھی ایک ایک لاکھ روپیہ دینے نیز مکھیہ منتری آواس یوجنا کے تحت مکانات مہیا کرانے کی ہدایت دی ہیں،اس سے تو مستقبل میں لوگوں کے اپنے مکانات خود ہی جلا کر فرضی کیس بنا نے کی بات سوچنے کے رجحانات میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ معاوضہ کی رقم نقصان سے پچیسوں گنا زیادہ ہے۔زیڈ کے فیضان نے ایسے نامساوی حالات میں مسلمانوں سے نظم وضبط بناءے رکھنے،نقل مکانی نہ کر نے اور ثابت قدم رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں عدلیہ پر یقین رکھتے ہوئے اچھی طرح معاملات کی پیروی اور دیگر قانونی چارہ جوئی کریں،مجھے قوی امید ہے کہ انصاف ضرور ملے گا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں