بسم اللہ الرحمن الرحیم
از:محمد طاسین ندوی
اللہ تبارک تعالی نے دنیا میں مختلف قبائل و گروہ اورخاندان میں نوع بنوع کے لوگوں کو وجود بخشااور زندگی گزار نے کا مسلم اصول قرآن مجید کی شکل میں دیا اورقرآن مجید ایک ایسا کامل ضابطہ حیات ہے کہ جس پر کسی کو کوئی اعتراض اور شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے .محض اس لئے کہ قبائل گروہ کےآپس میں تعارف رہے اس بات کو قرآن مجید نے دوٹوک کردیا ہے چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:"یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقۡنَـٰكُم مِّن ذَكَرࣲ وَأُنثَىٰ وَجَعَلۡنَـٰكُمۡ شُعُوبࣰا وَقَبَاۤئلَ لِتَعَارَفُوۤا۟ۚ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَٱللَّهِ أَتۡقَاكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِیمٌ خَبِیرࣱ"سورةالحجرات ١٣اے آدمیو ! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آپس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کو بڑی جس کو ادب بڑا اللہ سب کچھ جانتا خبردار "تفسیر عثمانی"اللہ جل جلالہ نے جوہمیں مشعل راہ عنایت کیا ہے وہ بلااستثناءپوری انسانی برادری کے لئے.مگر ہم پوری انسانیت کی نہیں بلکہ اپنی عائلی اور خانگی زندگی کا مطالعہ کرتے اور اس پر نظر مرکوز کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہیکہ ہم اس اصول قدوسی و جبروتی سے کافی دور ہیں ہمارے یہاں تکبر، گھمنڈ، مکابرہ، شیخی بگھار نے ، لوگوں کو کمتر ،ہیچ اور گھٹیا سمجھنے کی مہلک بیماری نے اپنا پاؤں ایسا پسارا ہیکہ کہ اسکی وجہ سے غیبت، چغل خوری، الزام تراشی، بہتان الغرض ہروہ عمل جس سے ایک کو دوسرے کہ بالمقابل رذیل و ذلیل سمجھاجائے رگ و ریشے میں جانگزیں ہے.
قارئین کرام! قرآن کریم میں کسی چیزکے بارے میں برے اور سخت الفاظ میں ذکر کیا گیا بے تو بے شک وہ ایک ایسی برائی ہے جس کے بدتر ہونے کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے اجتناب کرنے کو کہا ہے اللہ کا فرمان ہے :يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا كَثِيۡرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌۖ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا يَغۡتَبْ بَّعۡضُكُمۡ بَعۡضًا ؕ اَ يُحِبُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ يَّاۡكُلَ لَحۡمَ اَخِيۡهِ مَيۡتًافَكَرِهۡتُمُوۡهُ ؕوَاتَّقُوااللّٰهَاِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيۡمٌ"سورةالحجرات ١٢ اے ایمان والو بچتے رہو بہت تہمتیں کرنے سے مقرر بعضی تہمت گناہ ہے اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا اور برا نہ کہو پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کو بھلا خوش لگتا ہے تم میں کسی کو کہ کھائے گوشت اپنے بھائی کا جو مردہ ہو سو گھن آتا ہے تم کو اس سے اور ڈرتے رہو اللہ سے، بیشک اللہ معاف کرنے والا ہےمہربان .تفسيرعثمانيآیت بالاسے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر ہم بدگمانی سے اپنے کو دور نہ رکھیں تو بہت سارےگناہ بے لذت کرلیں گے جو نہایت ہی شنیع ہوگا اور جس کا انجام نہایت ہی بھیانک ہوگا
کیا ہم میں سے کوئی بھی فردوبشر یہ پسند کرتا ہے یا کریگا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت نوچ نوچ کرکھائے؟نہیں ہرگز نہیں کوئی بھی شخص اس عمل کو پسند نہیں کرسکتا.تو ہم غور کریں کہ جو عمل اتناسنگین جسکا بدلہ ایسا کہ سنتے ہی طبیعت گھن کرے ، وہ عمل ہماری گھٹی میں پڑی ہے ہم اس کے دلداہ و رسیاہیں بغیر اس جگالی کہ ہماراروز و شب کا گزرنا ہمارےلئے باعث صد عذاب ہے جس کی سنگینیت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ". قِيلَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ "٢٥٨٩ صحيح مسلم كِتَابٌ الْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَالْآدَابُ .بَابٌ تَحْرِيمُ الْغِيبَةِ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیز ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا بہتر علم ہے۔ ارشاد فرمایا : غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہے جو اسے بری لگے کسی نے عرض کیا اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو کیا اس کو بھی غیبت کہا جائے گا؟ فرمایا جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو تو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تو یہ تو بہتان ہے۔غیبت ایک ایسا گناہ بےلذت ہے جس کے مرتکب کو اللہ تعالی باوجود ندامت اور توبہ کے اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کہ وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہےکیونکہ یہ بندہ کا حق ہے اور یہی وجہ ہے کہ شریعت میں غیبت کو تمام کبائر سے زیادہ مہلک اور سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے.
یہ تو غیبیت کی باتیں تھیں اب چلتے نمیمہ اور چغلخوری کی سنگینیت کی طرف. فرمان نبوی ہے قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ "٦٠٥٦صحيح البخاري كِتَابٌ الْأَدَبُ ، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّمِيمَةِ. حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا چغل خور جنت میں نہیں داخل ہوگا . قارئین کرام! اگر ہم اپنا محاسبہ کرتے ہیں اور اطراف وجوانب کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ فرمان باری تعالی :"أَفَحَسِبۡتُمۡ أَنَّمَا خَلَقۡنَـٰكُمۡ عَبَثࣰا وَأَنَّكُمۡ إِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُونَ"سورة المؤمنون ۱۱۵
سوکیا تم خیال رکھتے ہوکہ ہم نے تم کو بنایا
اور تم ہمارے پاس پھر نہ آؤگے .تفسیرعثمانی
آیت مذکورہ ذہن ودماغ میں گردش کرتی ہیکہ کہیں رب دو عالم کے اس زجر کو ہم نے تو یکسر بھولا نہیں دیا یقینا ایک دن ہمیں عالم جاودانی کی طرف رخت سفر باندھنا ہے اور اپنے سارے اعمال و اقوال کا حساب دینا ہے کیا ہم یہ پسندکریں گے کہ ہماری نیکیاں تقسیم ہوجائے اور ہم خائب و خاسر ہوکر اللہ کی سزا کے سزاوار ہوں اگر جواب نہیں میں ہے تو آئیے یہ عہد کریں کہ ہم فرسودہ ، باطل اور دقیانوس ذہنیت کو پاک کریں اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں اس کے شایان شان اپنی اپنی زندگیاں جینا سیکھیں اور اس کے اصول و ضوابط کو حرز جان بنائیں . اس لئے کہ جب ہمارے اعمال و افعال اچھے ہونگے تو اس کے مثبت نتائج ہوں گے اور ہم ایک اچھا بھلا انسان کی حیثیت سے اپنی زندگی گزاریں گے .اور معاشرہ و سماج بھی ہمیں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھےگا اگر ایسا نہ ہوگا تو عندالناس بھی لائق لعن وطعن اوراللہ کی پکڑ سے بھی نہیں بچ ہی سکتے. اخیر میں اللہ سے دعاگوں ہوں کہ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے غیبت، چغل خوری کینہ حسد الغرض ہر آلائش سے پاک زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین. وماذلك على اللہ بعزيز

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں