کسی سے ہو نہی پائی مگر وضاحتِ عشق
۔۔۔
عشق میں ہاں سے ہاں ملاتے ہیں
عشق میں ایں و آں نہیں ہوتی
عشق ِ حقیقی یعنی معرفت میں ڈوبے ہوئے تصوف کے کچھ اشعار دیکھئے۔
عشق سے ماورا نہیں ہے عشق
یعنی خود ہے خدا نہیں ہے عشق
۔۔۔
معرفت کے طریق اور بھی ہیں
صرف ایک راستہ نہیں ہے عشق
۔۔۔
جلنے والوں سے پوچھ کر دیکھو
روشنی ہے دیا نہیں ہے عشق
۔۔۔
عشق اور صنفِ نازک کی جمالیاتی عنصر کی خوبصورت عکاسی کرتا ہوا یہ شعر بھی دیکھئے۔
طرزِ حیا ہے زینت و زیبائش ِ جمال
ناپید ہو یہ وصف تو عورت میں کیا رہے
باقی احمد پوری نے اپنی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے عہد اور ماحول کی ترجمانی کی ہے۔ اپنے ماضی کی روایتوں کو بھی برتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات کی پہلو دار عکاسی کی ہے۔ساتھ ہی معاشرے کے انتشار کو نمایاں کیا ہے حقوق یافتہ طبقات کی خود غرضی اور قوم پرستانہ مفادات کی کشمکش بھی ان کے اشعار میں دیکھی جاسکتی ہے۔باقی احمد پوری کا انداز بیان میں لہجہ دھیما اور آواز اور زبان اپنے پیشرو سے قدرے مختلف ہے اس لئے جذبے کی آفاقیت فکر بن کر سامنے آتی ہے۔جن میں زندگی اور حقائق کے ادراک میں تہہ داری ہے۔
باقی کی غزلوں میں سلاست، روانی، نغمگی اور الفاظ کے دروبست سے تاثراتی امواج کی پیدائش شاعری کی کامیابی کی علامتیں ہیں۔
ڈاکٹر سعید روشن (بانسوارہ، راج ستھان)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں