تازہ ترین

منگل، 21 اپریل، 2020

رمضان، روزہ اور قیام اللیل

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ابوالحسن علی فاروقی
ماہِ رمضان کی عظمتِ شان۔ 
رمضان المبارک انفرادی عزت وشان کا مہینہ ہے،مسلمانوںکو نیکیوں کی طرف راغب کرنا،برائیوں سے روکنا اور ان کے دلوں میں شوق عبادت پیدا کردینا اس کا ادنی کرشمہ ہے،یہ توبہ وانابت اور عبادت وریاضت کا مہینہ ہے، یہ رحمتوں اور مغفرت کے نزول کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں اللہ کے نیک بندوں پر اس کے بے شمار انعامات ہوتے ہیں، کتاب اللہ نے بارہ مہینوں میں جو شرف اس مہینہ کو بخشا وہ کسی اور مہینہ کو حاصل نہ ہوا، اس مقدس مہینہ کا تعارف کراتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے: (شہر رمضان الذي أنزل فیہ القرآن) (سورۃ البقرۃ، ١٨٥) کہ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا، اسی آیت میں روزہ کے مختصر مسائل بیان کئے گئے اور فرمایا:(فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ) کہ تم میں سے جو شخص بھی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔

روزے کا مقصد اور اس کی فضلیت۔
اس بابرکت مہینہ میں اللہ تبارک وتعالی نے خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کے لئے دو عظیم المرتبت عبادتوں کا انتخاب فرمایا، ان میں سے پہلی عبادت روزہ ہے جس کی فرضیت قرآن مجید میں نازل ہوئی اور ارشاد ہوا(کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذیم من قبلکم) (سورۃ البقرۃ، ١٨٣) کہ تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے،پھر فرضیت صوم کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا (لعلکم تتقون) کہ روزے اس لئے فرض کئے گئے تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہوجائے،یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لعلکم تشکرون،لعلکم تعبدونیاان جیسے الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا، اس لئے کہ یہ عبادتیں اور یہ اعمال وقتی ہوتے ہیں بر خلاف تقوی کے،کہ تقوی کسی خاص عمل یا وقتی عبادت کا نام نہیںہے، بلکہ تقوی نام ہے ایک خاص مزاج اور طرز زندگی کا وہ طرز زندگی جو دین فطرت کے مطابق اور احکام شرعیہ کے موافق ہو،مذکورہ آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ روزوں کے اندر زندگی بدلنے کی تاثیر وصلاحیت اللہ کی طرف سے بدرجہئ اتم رکھی گئی ہے،اور یہ نفسانی خواہشات کو کچلنے اورحصول تقوی کی بہترین ٹریننگ اور عظیم ذریعہ ہے،روزہ کی عظمت وافضلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ جل شانہ اس کے متعلق فرماتا ہے: الصوم لي وأنا أجزي بہ (الترمذي)، کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں خود دوں گا۔
رمضان ہم سے کس چیز کا تقاضہ کرتا ہے۔
رمضان المبارک طرز زندگی کو تبدیل کرنے اور اصل مقصد تخلیق (وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) (سورۃ الذاریات،٥٦) کی طرف لوٹنے کا مہینہ ہے،یہ مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس میں اپنی زندگی کو بدلنے کی کوشش کی جائے،اور اپنے نفس کو عبادت وریاضت کا عادی بنا دیا جائے،اس لئے کہ یہ مہینہ انسان کی سال بھر کی عبادات اور اعمال پر نمایاں طور پہ اپنے غیر معمولی اثرات مرتب کرتا ہے،اس ماہ مبارک میں توبہ، استغفار،عبادات اور نیکیوں کا اہتمام اس لئے بھی کثرت سے کرنا چاہئے کہ اس میں ایک نفلی عبادت کا ثواب عام دنوں کے ایک فرض کے برابر،اور ایک فرض کا ثواب عام دنوں کے ستر فرائض کے برابرہوتا ہے،اور اس ماہ مبارک کے ایک عمرہ کا ثواب ایک حج کے برابرشمار ہوتا ہے،اس باعظمت مہینہ کی وہ رات جس کو لیلۃ القدر کہا جاتا ہے، وہ آیت قرآنی میں ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر بتائی گئی ہے۔
رمضان کی آمد اور مسلمانوں کی مغفرت۔
اس طرح کے بے شمار انعامات اور برکتوں کا نزول اس پاک مہینہ میں عام بات ہے،حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا:اذا جاء رمضان فتحت أبواب الجنۃ وغلقت أبواب النار وصفدت الشیاطین (رواہ مسلم)کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئے جاتے ہیں۔ جس طرح سے اس ماہ میں نیک عمل کا اجر وثواب بے حساب ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تبارک وتعالی اس مبارک مہینہ میں اپنے بے شمار بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اوران کی خطائیں معاف ہوتی ہیں، اور یقینا بعض بدبخت ایسے بھی ہیں جن کی بخشش اس ماہ مبارک میں بھی نہیں ہوتی ہے، ایسے ہی شخص کے متعلق حضور ؐایک حدیث میں فرماتے ہیں: ورغم أنف رجل اذا دخل علیہ رمضان ثم انسلخ قبل أن یغفر لہ (رواہ الترمذي) کہ وہ شخص ذلیل ہو جس کی زندگی میں رمضان آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر گزر گیا۔
اس ماہ مبارک میں ہم کیا کریں؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس باعظمت مہینہ میں ہم ایسا کون سا عمل کریں جو ہماری بخشش اور مغفرت کاذریعہ بنے، میں نے ابتدائی سطور میں ایک بات یہ عرض کی تھی کہ اس ماہ مبارک میں مسلمانوں کے لئے دو عظیم المرتبت عبادتوں کا انتخاب کی گیا (١) روزہ (٢)قیام اللیل یعنی تراویح، یہ دونوں عبادتیں ایسی ہیں کہ ایک مسلمان کی بخشش اور مغفرت کے لئے کافی ہیں، چنانچہ نبی ؐکا ارشاد ہے:من صام رمضان وقامہ ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (رواہ الترمذي) اس حدیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو شخص نیک نیتی کے ساتھ ان دونوںعبادتوں کا اہتمام کرے گا اس کے سابقہ گناہ بخش دئے جائیں گے، امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور فاروقیؒ ان(دونوں) کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''مغفرت ورحمت الٰہی جو اس مہینہ میں بندوں پر نازل ہوتی ہے اس کی ایک مخصوص نعمت ہے،مگر اس نعمت سے وہی لوگ مستفید ہوسکتے ہیں جو اس ماہ مبارک کا حق ادا کریں، حق اس کا کیا ہے؟ کوئی ایسا حق نہیں جس کا ادا کرنا مشکل ہو، بلکہ وہ ایسا حق ہے کہ ہر ادنی اور اعلی نہایت آسانی کے ساتھ اُس کو ادا کرسکتا ہے، جو شخص دن بھر روزہ رکھے اور رات کو نماز تراویح پڑھے وہ اس مہینہ کے حق سے فارغ البال ہے''۔ (النجم لکھنؤ، ٧رمضان المبارک ١٣٣٠؁ھ، ص:١)
تراویح کی فضیلت اور اس کا امتیاز۔
دوسری عبادت تراویح ہے، یہ رمضان المبارک کی خصوصیت اور اس کا امتیاز ہے،یہ رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں نہ قضا نہ ادا کسی بھی صورت درست نہیں ہے، اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ حفاظت قرآن کا سب سے بڑا ذریعہ اور وسیلہ ہے، اسی لئے وہ طبقہ جو تحریف قرآن کا عقیدہ رکھنے کے باوجود اپنے مسلمان ہونے کا قائل ہے، اس کو تراویح سے بڑی الرجی ہے، اسی جانب لطیف سا طنزیہ اشارہ کرتے ہوئے امام اہل سنتؒ فرماتے ہیں:'' جانتے ہو نماز تراویح کیا چیز ہے،وہ ایک سنت مؤکدہ ہے جو بفضل الٰہی اہل سنت کے مخصوصات سے ہے، اس نماز کا اہتمام رسول خدا ؐ نے شروع فرمایا اور اس کی تکمیل حضرت فاروق اعظمؓ کے ہاتھوں ہوئی ''۔(ایضا)
نماز تراویح فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز ہے، یہ اللہ سے قربت اور گناہوں سے مغفرت کا عظیم ذریعہ ہے، اللہ کے رسول ؐ اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے تھے: من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (رواہ البخاري) کہ جو شخص بھی رمضان میں ایمان اور اخلاص نیت کے ساتھ (رات میں) نماز کے لئے کھڑا ہوا اس کے سابقہ گناہ معاف کردئے جائیں گے۔
روزے اور تراویح کا اہتمام اور بندوں پر اللہ کا انعام۔
مضمون کے عنوان کے پیش نظر جن دو عبادتوں کا تذکرہ کیا گیا ان کی ایک اہم فضیلت اور مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ ان پر عمل کرنے والے کا شمار حدیث رسول ؐ:جاء رجل الی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ أرأیت ان شہدت أن لا الہ الا اللہ وأنک رسول اللہ وصلیت الصلوات الخمس وأدیت الزکاۃ وصمت رمضان وقمتہ فممن أنا؟ قال: من الصدیقین والشہداء (صحیح ابن حبان) کی رو سے صدیقین و شہداء میں ہوگا، اور وعدہئ الٰہی (فأولٰئک مع الذین أنعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین)(سورۃ النسائ، ٦٩) کے مطابق وہ بڑے انعامات کا مستحق ہوگا۔
لہٰذا ہم اللہ تعالی کے حضور دعا گو ہیں کہ ہم کو اس مبارک ومقدس مہینہ میںان دونوں عبادتوں اور ان کے ساتھ ساتھ تمام فرائض ونوافل اور اچھی باتوں پہ عمل کرنے اور ان کا پورا پورا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور تمام گناہوں اور بری باتوں سے ہم کو محفوظ رکھ اور ہمارا شمار ان لوگوں میں فرما جن پر تیرا انعام ہوا۔آمین۔ 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad