ذوالقرنین احمد لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے کہتا آرہا ہوں اور بڑے بڑے صحافی دانشورانِ قوم زمینی سطح پر ہورہی مسلم نوجوانوں پر مذہبی اسکالر، ملی سیاسی رہنماؤں، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر بے جا قانونی کارروائی کی جارہی ہے سچی صحافت کا کا گلا گھونٹ دیا جارہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کچھ بڑی پلاننگ کر رہی ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف کوئی خاص تیاری یا اس سے لڑنے کیلے زمینی سطح پر کام نہیں دیکھائی دے رہا ہے سوائے عوام کو گھروں میں رہنے کی اپیل کے۔ کورونا وائرس سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کیلے میڈکیل اسٹاف ڈاکٹرس، آئسولیشن وارڈ، پرسنل پروٹکٹیو اشیاء، یہ تمام چیزیں مہیا کروانی چاہیے نہ کہ صرف گھروں میں محصور کر دیا جائے ملک کی معیشت صفر کے برابر ہے۔
میڈیا کا استعمال کرکے بہت ہی آسانی سے ایک بڑا گیم پلان کیا جارہا ہے اقلیتی برادری کے خلاف، ہوش میں آئیے کہی وقت ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ ملی قیادت کو حکومت سے مذاکرات کرنے چاہیے کہ لاک ڈاؤن کے بعد کیا پالیسی ہے۔ ملک کی معیشت تباہ ہورہی ہے عوام بھوکی مر رہی ہے، مسلمانوں کیخلاف میڈیا زہر گھولنے کا کام کر رہا ہے۔ بھوکے مر رہے مزدوروں کی حکومت کو فکر نہیں ہے۔ اور پی ایم کئیر فنڈ میں کرووڑوں روپیہ جمع کیا جارہا ہے۔ جس کا استعمال عوام پر نہیں کیا جا رہا ہے۔ نا ہی اس صورتحال سے نمٹنے کیلے کیا جارہا ہے۔ فرقہ پرست عناصر حکومت کے پروں کے سائے میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ لیکن جب ملک کی معیشت کمزور ہوگی آپسی اختلافات مذہبی کے نام پر نفرتیں عروج پکڑے گی تو حقیقت سامنے آئیں گی کونسی حکومت کس کی ہمدرد ہے۔ حکومت اصل مسائل سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں کورونا وائرس سے چاہے عوام مر کیوں نہیں جاتی کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے جب کسی لیڈر کا بیٹا مرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ لیڈر کا بیٹا مرا ہے، پوری دنیا میں میڈیا خبریں پھیلاتا ہے۔ اور کئی غریب اس لاک ڈاؤن میں بھوک سے تاب نہ لاتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں لیکن کہی کوئی چرچہ نہیں ہوتی ہے نہ حکومت کی پیشانی پر بل آتا ہے نہیں اسکے گھر جاکر پرسہ دیا جاتا ہے۔
عوام پر کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن میں سختی کے ذریعے خوف طاری کرکے بے بس بے یار و مددگار حالات کا شکار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لگتا ہے حکومت اپنے منصوبوں کی تکمیل کیلے ایمرجنسی نافذ کرنے پر کیا اثرات مرتب ہوگے اسکا ٹرائل لے رہی ہیں۔ کیونکہ اب آر ایس ایس کی سیاسی جماعت بی جے پی کو یہ بات بھی پریشان کیے ہوئے ہیں کہ مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار میں آئی ہے اور یہ موقع اگر ہاتھ سے جاتا ہے تو اس سے بہتر موقع ملنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ کیونکہ عالمی سطح پر بی جے پی اور وزیر اعظم کے حیثیت مجروح ہوچکی ہے۔ ملک کے سسٹم کو پوری طرح سے آر ایس ایس فرقہ پرست تنظیم سے وابستہ افراد کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔
چہرے کچھ اور ہے اور کام کچھ اور کر رہے ہیں۔ کورونا وائرس کے خوف سے حکومت نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلے سب سے پہلے تبلیغی جماعت پر الزامات لگائے اور میڈیا کے ذریعے ملک میں وباء کو پھیلانے کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا انہیں مجرم بنا دیا گیا۔ سیکڑوں جھوٹی خبروں کے ذریعے عام عوام کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھر دی گئی۔ سبزی بیچنے والوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک شہر میں مسلم عورت کو جو پریگننٹ تھی ڈیلوری کیلے ایڈمٹ نہیں کیا گیا، اور اسکی وجہ سے بچے کی موت ہوگئی ہے۔ اسی طرح ایک مسلم بزرگ ہرٹ اٹیک کے مریض کو ڈاکٹر نے ایڈمٹ کرنے سے انکار کیا۔ احمد آباد کے ہاسپیٹل میں مسلم اور ہندوؤں کیلے الگ الگ وارڈ بنائے گئے ہیں۔ ان سب کے پیچھے حکومت کی سازشیں موجود ہے جو میڈیا کے ذریعے سے عام عوام کے ذہنوں کو متنفر کرنے کا کام انجام دے رہی ہے۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، این آر سی کروانے کیلے اب حکومت کو دیگر کمیونٹی کی عوام کا سپورٹ ملنا بھی طے ہیں جتنی نفرت اور بے بنیاد الزامات لگا کر مسلمانوں کے خلاف پیدا کی گئیں ہے۔ اسکا خمیازہ اس سورت سامنے آئے گا کہ ہر فرقہ پرست مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے لگے گا۔ اب تک صرف فرقہ پرست سیاسی سماجی لیڈران زہر گھولنے کا کام کرتے تھے لیکن اب ایک عام آدمی بھی جس کی میڈیا نے ذہن سازی کی ہیں مسلمانوں پر کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے وہ بھی زبان درازی کر رہا ہیں۔
سوشل میڈیا ان نفرت کے پجاریوں سے بھرا پڑا ہے جو سماج میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ جس سے صرف ایک کمیونٹی متاثر نہیں ہوگی بلکہ پورا ہندوستان متاثر ہوگا۔ اور خانہ جنگی کی صورتحال کا سامنا ملک کو کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت ان تمام باتوں کو اسی لیے نظر انداز کر رہی ہیں کیونکہ انہیں اپنے مقصد کی تکمیل کیلے یہ تمام زہریلے عناصر تقویت دینے کا کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ نفرت کی آندھی بڑی تباہی کا سبب ہوگی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں