تازہ ترین

جمعرات، 23 اپریل، 2020

لاک ڈاؤن کے بڑھتے ایام اور باشندگان ہند کی حالت زار

ازقلم: ------------انعام الرحمن اعظمی دارالعلوم تحفیظ القرآن سکھٹی مبارک پور
جیسا کہ ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس وقت پورا ملک دوسرے ملکی لاک ڈاؤن کے دور سے گزر رہا ہے- گذشتہ 14/اپریل کو پہلے مرحلے کا لاک ڈاؤن ختم ہوا جو 21/دنوں کا تھا، لیکن ملکی حالات کو مدنظر نظر رکھتے ہوئے گذشتہ 14/اپریل کو وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دوسرے مرحلے کے 19/دن کے لاک ڈاؤن کے اضافہ کا اعلان کرتے ہوۓ دوسرے مرحلے کا لاک ڈاؤن کی مدت 3/مئ تک کردی ہے،اور ملک کی عوام سے سات باتوں میں ساتھ دینے کی اپیل کی، اور ان سات اپیلوں سے ہم بخوبی واقف ہیں، باشندگان ہند نے پہلے لاک ڈاؤن کے ایام کو کسی طرح صبر و تحمل کے ساتھ گزار لئے لیکن دوسرے لاک ڈاؤن کے ایام کو باشندگان ہند کیسے گزاریں یہ بہت غور وفکر کا مقام ہے ان لوگوں کے لئے جو اقتدار میں ہیں، کیا صرف اعلان کردینا اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہی حکمران کی ذمہ داریوں میں سے ہے یا پھر اس کے علاوہ جو ان کے ماتحت لاکھوں لاکھ لوگ زندگی کی صبح و شام کررہے ہیں ان کی دیکھ بھال کرنا بھی ان کی حکومتی ذمہ داریوں میں سے ہے، 

اۓ حاکم و محکوم کے تعلق سے حدیث میں ان کی ذمہ داری کے متعلق  آپ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے اس کو جاننے کوشش کرتے اس کے بعد باشندگان ہند کی حالت زار جو ملک کے مختلف حصوں میں ہیں اس کو قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں، 
جیسا کہ ہر شخص کو  اس بات کا اعتراف ہے کہ انسانوں کے درمیان باہمی ربط و تعلق کا ہونا فطری عمل ہے، کوئی انسان تنہا دوسروں سے الگ تھلگ رہ کر زندگی نہیں بسر کرسکتا ہے، خواہ معاش و معیشت کا مسئلہ ہو یا امن و امان کا اسے لازماً باہمی تعاون کی ضرورت ہوتیہے ،اور وہ ضرورت مند ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ خیر خواہی اور اس کی نگہبانی کی جاۓ اور وقت ضرورت اس کی مدد کی جائے  ایسے شخص کو (راعی وحاکم) کہتے ہیں اور جس کی حفاظت و نگہبانی کی جاۓ اسے ( رعیت ورعایا) کہتے ہیں یہ زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے،ایک مشہور حدیث میں اس کی بھر پور وضاحت کی گئی ہے، جو بخاری و مسلم کے علاوہ احادیث کی دیگر کتابوں میں بھی آئ ہے، 

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا
( كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته والام راع هو مسؤل عن رعيته والمرأة في بيت زوجها راعية وهي مسؤلة عن رعيتها والخادم في مال سیدہ راع وهو مسؤل عن رعيته فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته ( بخاری)تم سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے ماتحت لوگ اور رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی، امیر اور خلیفہ ذمہ دار ہیں اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی، مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے سلسلے میں باز پرس ہوگی، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہوگی، خادم اپنے آقا کے سازوسامان کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی نگرانی سے متعلق باز پرس ہوگی، پس تم میں ہر شخص ذمہ دار ہے اور اور اس سے اس کے ماتحت افراد و رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی،اب مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں باشندگان ہند کی حالت زار اور موجودہ حکمران کا جائزہ لیا جائے چاہے صوبائی طور پر ہو یا پھر مرکزی طور پر،حدیث بالا میں ابتداء ہی اس بات کا عمومی طور پر ذکر ہے کہ تم سے ہر شخص ذمہ دار ہے اس بعد چند مخصوص لوگوں کی ذمہ داریاں بیان کرنے کے بعد آخر میں پھر عمومی طور بیان کیا گیا کہ تم سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس کی ذمہ داری کے بارے میں باز پرس ہوگی،اب ہم ملکی لاک ڈاؤن کے حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حکمرانوں اور باشندگان ہند کا بھی جائزہ لیتے چلیں کہ ریاستی یا مرکزی حکومت اپنے ماتحت رعایا کا کس قدر خیال کررہی ہیں اور کس حد تک ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے، یہ ہم سب شب و روز لاک ڈاؤن کے اس مشکل حالات میں مشاہدہ کررہے ہیں،  پہلے اور دوسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن کے کئی ایسی تصویریں دیکھنے کو ملی جو دلوں کو تڑپا دینے والی اور بدن میں سکتہ طاری کر دینے والی تھیں، لیکن حکومت پر ان کی اس بدحالی کا کچھ اثر پڑتا نظر نہیں آرہا ہے، وہ بچارے کئی کئی دنوں سے بھوک و پیاس سے بے  حال اپنے بال بچوں کو لیکر سیکڑوں میل سفر کرنے پر مجبور ہوگئے، آخر یہ کس کی رعیت یا کس کی ماتحتی میں زندگی کی صبح و شام گزار رہے ہیں، 

آخر ان کی بھوک و پیاس کا ذمہ دار کون ہے،؟
 وہی ہوسکتا جو اس ملک کا حاکم یا حکمراں ہے، لیکن پھر بھی موجودہ وقت کے حکمرانوں کو بالکل احساس نہیں ہے کہ آخر باشندگان ہند کیسے اس مشکل کن حالات سے لڑیں گے، آخر  کتنے صبر و تحمل کے ساتھ پہلے لاک ڈاؤن کے اختتام کا انتظار کیا ہوگا، اور ان کے من میں کتنی امیدیں رہی ہونگی جو بیان نہیں کی جاسکتی، آخر ان کے صبر وتحمل کے بعد وہ صبح آگئ جس کا انتظار ان مزدوروں اور ملک کے مختلف ریاستوں میں کام کررہے باشندگان ہند اور مختلف دیہاتوں میں زندگی بسر کررہے عوام الناس جو اگر صبح سے شام تک کام کرنے کے بعد اپنے بال بچوں کی زندگی کے سازوسامان تیار کرتے ہیں اور آئندہ کل ان کا یہی معمول ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی دوسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن میں اضافہ کا اعلان ہوا ہوگا ان تمام تر امیدوں پر پانی پھر گیا ہوگا جس کا انتظار پچھلے 21/دنوں سےتھا آخر کار دوسرے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ان ہزاروں ہزار مزدوروں کے صبر کا بندھن ٹوٹ ہی گیا اور ملک کے مختلف حصوں میں باشندگان ہند سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت وقت سے درخواست کی کہ ہمارے لئے گھر جانے کا کوئی بندوبست کیا جائے، ورنہ ہم اس بیماری سے نہیں فاقہ کشی سے دم توٹنے پر مجبور ہوجائیں گے،لیکن حکمرانوں کو مزدوروں کی اس بے بسی پر ذرا بھی ترش نہ آیا، بلکہ ان مزدوروں کہ بزور طاقت پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج کرکے ان کو سڑکوں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی، اس کے علاوہ اور بہت سی خبریں اور تصوریں آنکھوں کے سامنے گزری جس کو دیکھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے، ابھی کچھ روز پہلے ایک خبر موصول ہوئی کہ دہلی سے پیدل سفر کررہے ایک مزدور نے اپنے آبائی گاؤں سے تقریباً 100/کلو میٹر قبل ہی بھوک و پیاس کی شدت کی وجہ زمین پر گر جانے کی وجہ سے اپنی زندگی کی آخری سانس لی، اور سڑک پر ہی اس کی روح پرواز ہوگئ، آخر اس مزدور نے آس پاس کھڑے لوگوں سے مدد چاہی لیکن لوگوں نے اس کے اوپر کرونا کا شبہ کرتے ہوئے اس کو مدد فراہم کرنے سے انکارکردیا، ایسی ایک نہیں بہت سی خبریں وائرل ہورہی ہیں اگرچہ میڈیا اس کو منظر عام پر نہ لاۓ، آخر ان مزدوروں کی فاقہ کشی کی وجہ سے ہو رہی اموات کا ذمہ دار کون؟ 

اور اس کے علاوہ باشندگان ہند کا ایک بہت بڑا طبقہ مختلف دیہاتوں اور  سڑکوں کے کنارے جھوپڑیوں میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہی نہیں بلکہ دانے دانے کے محتاج ہونے کے ساتھ ساتھ سانپ اور مینڈک کو مار کر کھانے پر مجبور ہورہاہے ، لیکن افسوس کی ریاستی یا مرکزی حکومت اس کی طرف بالکل توجہ نہیں دے رہی ہیں، لیکن ایسے حالات میں ان لوگوں کو بھول جانا احسان فراموشی ہوگی جنہوں نے اپنے طور پر یا پھر کسی تنظیم نے اجتماعی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں باشندگان ہند کی حالت زار کو مدنظر رکھتے ہوئے بغیرکسی بھید بھاؤ کے ان کی امداد کے لیے آگے اۓ ، 
میں اپنی طرف سے اور تمام باشندگان ہند کی طرف ان لوگوں کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتا جنہوں نے مشکل کن حالات میں بغیر کسی بھید بھاؤ کئے خدمت خلق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے حوصلے کو اور بلند کرے نیز باشندگان ہند کو اس مہلک بیماری سے نجات عطا فرمائے آمین-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad