از قلم: محمد فرقان (خادم جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور)
کرونا وائرس کی عالمی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس وبا کی دہشت سے ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ عالمی ادارہئ صحت نے اسے میڈیکل ایمرجینسی قرار دے دیا ہے۔ لیکن اب تک اسکا کوئی علاج سامنے نہیں آپایا ہے۔ اس کے روک تھام کیلئے عالمی پیمانے پر احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جارہی ہیں۔ جس کے پیش نظر ہمارا وطن عزیز ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے۔ مارکیٹیں، تعلیمی ادارے، فیکٹریاں، ٹرانسپورٹ اور ہر قسم کی معاشی سرگرمیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اور عوام کو ان کے گھروں تک محدود رکھنے کے لیے جاری احکامات پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔ جس کے چلتے تمام شہریوں کو بیحد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص کر مزدور اور غریب طبقہ جنکی معمولات زندگی روزانہ کی محنت اور کمائی پر نربھر کرتی تھی، وہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، بلکہ فاقہ کی نوبت آپہنچی ہے۔ میں اگر مزید وضاحت کے ساتھ کہوں تو مزدوروں اور غریبوں کے لیے ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے اور لگتا ہے یہ مہلک وائرس غریب کو مزید غریب تر کرنے آیا ہے۔ غریب بستیوں میں رہنے والی عوام یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کورونا سے موت یقینی نہیں ہے لیکن اگرحالات یہی رہے تو وہ بھوک سے ضرور مر جائیں گے۔ غربت کے ساتھ اب بھوک کی چکی میں پستے اس غریب عوام کی روز کی کمائی کا آسرا لاک ڈاون نے بند کردیا ہے۔ بھوک سے نہ صرف مرد بلکہ عورتیں، بوڑھے اور بچے سب متاثر ہیں، اور حالات انہیں مسلسل کئی دنوں تک بھوکا سلا رہے ہیں!
سلا دیا ماں نے بھوکا بچے کو یہ کہہ کر
پریاں آئیں گی خواب میں روٹیاں لے کر
کرونا وائرس کے پیش نظر حالیہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غرباء اور بے سہارا لوگوں کے سامنے بھوک ایک بڑا مسئلہ بن کھڑی ہوگئی۔ حالانکہ سرکار غرباء اور ضروتمندوں سے ضروری اشیاء خوردنی پہنچانے کے دعوے ضرور کررہی ہے لیکن ابھی تک اس عمل کو یقینی نہیں بنایا جاسکا ہے، جس کے سبب لوگ پریشان ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارے اوپر یہ فریضہ ہیکہ ہم اپنے اردگرد رہنے والے غرباء اور مساکین کی مدد کریں، بھوکے کو کھانا کھلائیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل بھوکے کو کھانا کھلانا ہے۔ نبی آخر الزماں ؐ کے توسط سے جو نظام زندگی بنی نوع انسان کو میسر آیا اس کی تعلیمات میں مرکزیت اسی نقطہ کو حاصل ہے۔ کھانا کھلانے کی اہمیت و فضیلت کے سلسلے میں احادیث میں کئی روایت موجود ہیں۔ جس میں بھوکے کو کھانا کھلانے والے کو اللہ کی خوشنودی اور جنت کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ نیز پڑوسیوں کو کھانا کھلانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔صحیح مسلم کی روایت ہیکہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ''جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کردو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو۔'' ایک دوسری حدیث میں ہیکہ ''وہ بندہ مؤمن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔'' وہ لوگ جوخود تو پیٹ بھر کر کھاتے ہیں لیکن فقراء و مساکین کا خیال نہیں رکھتے ان کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ وہ قیامت کے دن جہنم میں ہوں گے اور اپنے جہنم میں جانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ:'' لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ''کہ ''ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ ہی مسکینوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے''(المدثر: 44)۔ اگر غرباء و مساکین بھوک کو کورونا سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں تو بے جا نہیں۔ ان لوگوں کو ماسک اور سینی ٹائزر سے کوئی غرض نہیں، غرض ہے تو فقط روٹی سے، جو انہیں دستیاب نہیں ہورہا۔ کچھ لوگ اور تنظیمیں صدق دل سے لوگوں کی خدمت کررہے ہیں اور مستحقین تک ضروری اشیاء پہنچانے میں لگے ہیں لیکن سرکار اور کئی تنظیموں کے دعوے ابھی تک زمین پر نظر نہیں آرہے ہیں۔ جسکے سبب بھکماری سے کئی افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اس سلسلہ میں خصوصاً جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم کی سخت تاکید پر رضاکاران جمعیۃ روز اول سے غربائ، مساکین، مستحقین اور ضرورتمندوں کی نشاندہی کرکے ان تک کھانے پینے کی اشیاء پہنچا کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی پر عمل کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کرناٹک، ضلع بنگلور کی شاخ جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور نے علاقوں کا معائنہ کرکے ایسے خاندانوں کی نشاندہی کی ہے جو بہت زیادہ محتاج اور مستحق ہیں، جس میں خاص کر وہ سفید پوش طبقہ بھی شامل ہے جو نہ کسی سے مانگ سکتا ہے اور نہ کسی کے آگے اپنا دامن پھیلا سکتا ہے۔ایسے لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور کی جانب سے روز مرہ کھانے پینے کی اشیاء پر مشتمل کٹ تیار کرکے مختلف علاقوں میں تقسیم کی جارہی ہیں۔چونکہ لاک ڈاؤن کی مدت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے اور آئندہ حالات اور بھی نازک ہوسکتے ہیں، ایسے میں ریلیف کا کام پڑے پیمانے پر کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے، جس کیلئے بڑی تعداد میں غلہ، اناج اور رقم درکار ہے۔ لہٰذا تمام اہل خیر حضرات سے ہماری گزارش ہیکہ ملی فریضہ کو پورا کرتے ہوئے اپنے عطیات، زکوٰۃ اور صدقات سے ضرورت مندوں کی بھرپور امداد کری۔شہر بنگلور کے الیاس نگر رنگ روڈ پر واقع جناب نور اللہ صاحب کے ایس ایم زڈ شادی محل (SMZ Function Hall) کے گوڈان میں جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور اناج اور غلے کو اسٹاک یعنی جمع کررہی ہے۔ جو حضرات اناج یا غلہ پہنچانا چاہتے ہیں وہ اس مقام پر پہنچا سکتے ہیں۔یا جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور کے کارکنان سے ان نمبرات پر تعاون کے سلسلے میں رابطہ کرسکتے ہیں نیز ضرورتمند اور مستحقین بھی ان نمبرات پر رابطہ کرسکتے ہیں:
9008985786, 8660776193, 9845302010, 9019177000, 8495087865
امید ہیکہ اہل خیر حضرات اس طرف جلد از جلد متوجہ ہوں گے کیونکہ اگر تاخیر کی گئی تو حالات کو یہ حقیقت ثابت کرنے میں تاخیر نہ لگے گی کہ بھوک، کورونا تو کیا ہر شے سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپکے امداد کو قبول فرمائے، اور اس وبائی مرض سے پوری انسانیت کی حفاظت فرمائے- آمین
(مضمون نگار جمعیۃ علماء ساؤتھ بنگلور کے رکن عاملہ اور مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر ہیں!)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں