تازہ ترین

پیر، 13 اپریل، 2020

اتحاد بین المسلمین

ایک طرف عالم کفر پوری طاقت اور پورے جوش و خروش کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہے ان کے رہنماؤں اور پنڈتوں نے اپنی عوام کو ہمارے خلاف متحد کر دیا وہ جس کی طرف اشارہ کرتے ہیں انکے سکھائے ہوئے بزدل پوری ہمت کے ساتھ اس کام کو انجام دے دیتے ہیں۔۔

ایک طرف مسلمانوں کی جماعت ہے جس کی بہادری سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں جس نے بڑی بڑی سلطنتوں کو اپنے پاوں سے روند ڈالا جس نے بڑے بڑے ظالم اور سرکش و جابر حکمرانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا آج اسی قوم پر پھر عالم کفر یکجا ہو گیا ہے اور ہم مسلکی تعصب اور الزامات کے ہزاروں الفاظ میں ایک دوسرے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم نے تاریخ کو پس پشت ڈال دیا ہم مسلک کا چوغہ پہن کر علامة الدھر بن گئے بس اگر نہیں بنے تو مسلمان نہیں بنے۔۔۔

یہ عصبیت تو مسلمانوں میں تو نا تھی یہ مسلکی حملہ تو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا یہ فرقہ واریت کی جنگ تو پہلے کبھی نا تھی ہم نے خود اسکو بنایا اسکو پالا پوسا یہاں تک کہ اسے امت کے درمیان چھوڑ دیا۔۔۔

ہمیں آج جس کی زیادہ ضرورت ہے وہ اتحاد بین المسلمین ہے جس طرح کافروں نے اپنے گرو گھنٹالوں پر بھروسہ کیا۔ اس سے بڑھ کر ہمارے پاس ہمارے رہنما ہمارے آقا ہمارے شافع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت ذات موجود ہے ہمیں سب کچھ بتا دیا ہمیں اب کسی ادیان کی یا کسی مسلک کی یا کسی فرقہ کی ضرورت نہیں۔ اختلاف ہر دور میں ہوا صحابہ کے دور میں بھی ہوا لیکن کسی کے درمیان عصبیت نہیں تھی یہ عصبیت تو بعد کی پیداوار ہے ہم میں ہر ایک اپنے مسلک کی کتاب پڑھ کر خود کو مناظر اسلام سمجھ بیٹھتا ہے۔۔۔۔

آج عالم اسلام پھر سے پکار رہا ہے رنگ و نسل اور مسلکی تعصب اور فرقہ واریت سے باہر نکل کر ملک و ملت کی اسلام اور ایمان کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوں اگر کسی مسلمان کو افغانستان میں تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو انڈیا کے دیہات میں رہنے والے مسلمان کے دل کو تڑپ اٹھنا چاہئے اگر کسی مسلم کو امریکہ میں کوئی کانٹا چبھتا ہے تو انڈیا میں بسنے والے مسلمانوں کا جگر تڑپ جانا چاہئے اگر کسی مسلم کو برما میں شہید کیا جاتا ہے تو اسکے بدلے کی تیاری ہر ملک کا مسلمان کرے ہمیں مسلکی چادر کو پھاڑنا ہوگا ہمیں سرحدی بندھنوں کو کاٹنا ہوگا ہمیں ذاتی معاملات کو پس پشت ڈالنا ہوگا ہمیں عالم اسلام کی حفاظت کے لئے اٹھنا ہوگا ہم سے سے ہر ایک کو خالد بن ولید کی شجاعت لانی ہوگی انس بن نظر کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا محمد بن قاسم کی للکار بننا ہوگا صلاح الدین کی یلغار بننا ہوگا حسین احمد مدنی کا وارث بننا ہوگا محمود الحسن کی استقامت لینی ہوگی اور عطاء اللہ کی طرح خطیب بننا ہوگا اور ملا عمر کا عزم و ولولہ بننا ہوگا اور ممتاز قادری کی طرح عاشق رسول بننا ہوگا یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ہم مسلکی چادر کو پھاڑ کر آگ کے حوالے کریں گے اس دہکتی آگ میں جو ہم سب کو ایک کر دے۔

ائے گلستان اسلام کے رکھوالوں ائے چمنستان اسلام کے مجاہدوں وقت کی آواز پر لبیک کہو اور مظلوموں کی آہ پر دستک دو اپنی صفوں میں اتحاد  پیدا کرو مسلکی جنونیت کو دفن کردو عالم کفر کے لئے (اشداء على الكفار) کی عملی تفسیر بنو اور اپنوں کے لئے (رحماء بینھم) حق ادا کرنے والا بن جاو اللہ امت کو فرقہ واریت سے پاک دے اور مسلکی چادر کو پھاڑ دے اور مصلحت پسندی کی دیوار کو شق کر دے اللہ اس امت کو متحد کردے کلمہ کی بنیاد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہونے کی بنیاد پر آمین یا رب العالمین

سارا کفر ہے یکجا مومن تو خود سنبھل ذرا
گر ان سے ہے نپٹنا بس ایک راستہ بچا 
مومن نہیں ہمیں اب ایمان بننا ہوگا

بقول علامہ اقبال 

اخوت اسے کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں.  
تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے. 

#عالمیمسلمقومیت 

#سرحدیبندھنوںسے_آزاد

حمزہ اجمل جونپوری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad