تازہ ترین

اتوار، 22 مارچ، 2020

تالی،تھالی بجاکر صرف وہم کو دور کیا جاسکتا ہے کورونا وائرس کو نہیں:اے ایچ ہاشمی

مین پوری:حافظ محمد ذاکر(یواین اے نیوز22مارچ2020)خدا کرے ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جی کی کورونا وائرس کو ختم کر نے کی پیشکش کامیاب ہو جائے،جو آج انہو نے پورے ملک میں کرفیو کی شکل میں پیش کی۔کر فیو کسے کہتے ہیں آج ان لوگوں نے بھی کرفیو کو جان پہچان لیا،جو صرف  خبروں  وغیرہ میں سنا اور دیکھا کرتے تھے۔اس ملک بندی کے پس پشت کیا مقصدہے،حکومت اور وزیر اعظم کی منشا ء کیا ہے۔مگرمودی جی کی اس منشاء میں ملک کے مختلف لوگوں کا مختلف رجحان رہا،ایک وہ گروہ جو جو بی جے پی یا وزیر اعظم سے عقیدت رکھتا ہے،اس نے تو صرف یہی سمجھا کہ کرونا وائرس سے محفوظ رہنے یا اسے ختم کرنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے،جو ہمارے وزیر اعظم نے بیان کیا۔یعنی صبح سات بجے سے رات نو بجے تک گھروں میں قید رہو اور شام کو اپنے مکانوں کی بالکنی میں کھڑے ہو کر تالی،تھالی،یا شنکھ بجا نا،یہی وہ راستہ ہے جس سے کورونا وائرس کو دفن کیا جاسکتا ہے۔ایک گروہ وہ ہے جو اس کو سیاسی نظریہ سے دیکھ رہا ہے،کہ ملک میں سیکڑوں جگہ این،آر،سی،این،پی،آر،سی اے،اے،جیسے کالے قانون کو ختم کرا نے کے لئے جولوگ حکومت کے خلاف پر امن مظاہرہ کر رہے ہیں۔

حکومت کے لئے سردرد بن چکے ملک کے مختلف شاہین باغوں کو اس  ترکیب  سے ہٹا یا جائے۔تیسرا گروہ ان دانشوروں کا ہیجو سابقہ مذکورہ باتوں سے بالکل اتفاق نہیں رکھتے۔ان کاکہنا ہے کہ حکومت کے پاس اس کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے کوئی مضبوط انتظام نہیں ہیں۔اگر حکومت کے پاس کورانا وائرس سے نمٹنے کے لئے پختہ انتظامات ہوتے تو وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعہ شہروں اور قصبوں میں اینٹی وائرس کا چھڑکاؤ ٹھیک اسی طرح  کرتے، جس طرح انہو نے کانوڑیوں کے اوپر گلاب کے پھولوں کی بارش  کی تھی۔مودی حکومت کے پاس اتنے بھی انتظامات نہیں ہیں کہ وہ طبی خدمات کر نے والوں کوپہنے کے لئے ماسک،یا ہاتھ دھونےکے لئے اسٹیلائزر کا بھی مناسب انتظام کر سکے۔ہاشمی نے کہا کہ مودی جی نے ملک بندی کا اعلان تو کیا مگر یہ سوچا کہ دارلحکومت دہلی میں ہی  ہزاروں لوگ بغیر چھت کے زندگی گزار رہے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں روز مررہ کی مزدوری کر نے والوں کے لئے مودی جی نے کتنا فنڈ پاس کرایا؟مودی جی کا یہ مشورہ کہ تالی،تھالی،شنکھ بجاؤ،،،کس ٹیکنا لوجی سے یہ سبق حاصل کیا ہے؟مجھے نہیں معلوم،مگر اتنا ضرور کہونگا کہ اپنی ناکامی کو چھپانے کےلئے وہ طریقہ بتایا ہے جو کسی ایک خاص دھرم کی خصوصی عباداتی علامات ہیں۔جس سے کم از کم اکثریتی طبقہ ہی خوش ہو جائیگا۔

 احتشام حسین ہاشمی(اےایچ ہاشمی) نے کہا کہ مودی جی کے اس بیان کے بعد سائنٹس، ڈاکٹر، اور دانشوروں نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔انہو نے کہا کہ اس ترقی یافتہ دور میں ایسی باتیں یا ایسا مشورہ صرف ایک مزاق سا لگتا ہے۔انہو نے کہا کہ تالی،تھالی بجاکر صرف وہم کو دور کیا جاسکتا ہے،کورونا وائرس کونہیں۔انہو نے کہا کہ مودی جی کے اس بیان سے ہم متفق ہیں کہ کورانا وائرس سے بچنے کے لئے ہاتھوں کا دھونا،کلی کرنا،ناک صاف کرناوغیرہ وغیرہ۔ ایسی باتوں کو آج سے چودہ سو سال پہلے ہمارے نبیﷺ نے وضو کا نام دیاتھا۔جسےایک مسلمان نمازی پورے دن میں پندرہ مرتبہ دھوتا ہے۔اور آج سائنس،ڈاکٹربھی کرونا جیسے اور بھی مہلک امراض سے بچنے کے لئے یہی اولین طریقہ بتا رہے ہیں۔اگر اس جگہ مودی جی ہاتھ دھونا،منھ دھونا،ناک صاف کرنا جسے وضو کہتے ہیں،اگروضو کہ کر اعلان کر دیتے تو ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ بھی خوش ہو جاتا ہے ۔مودی جی کے اس بیان سے بھلے ہی ان کے عقیدتمند لوگ خوش ہوں،مگر عالمی سطح پر آپ کی جگ ہنسائی ضرور ہوئی ہے۔اگرتالی یا تھا لی بجانے کا مقصد طبی خدمات کر نے والوں کی حوصلہ افزائی ہے،تو بھی یہ بےموقعہ ہے۔ابھی تو یہ مرض سر پر سوار ہے۔ہاشمی نے کہا کہ جولگ اس کو عذاب خدا وندی سمجھ رہے ہیں،وہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں،اور جو لوگ اسے وبا ئسمجھ رہے ہیں وہ لوگ دواکا استعمال کریں۔ٹوٹکے بازی سے یہ مرض جانے والا نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad