دہلی(یواین اے نیوز یکم مارچ2020)محمد عبدالغنی ریاستی جنرل سیکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ کے پریس نوٹ کے بموجب مسلم لیگ کے قومی جنرل سکریٹری ورکن پارلیمنٹ جناب پی کے کنہالی کٹی نے شمال مشرقی دہلی کے فساد سے متاثرہ علاقوں میں اپنے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو فسادات ہوئے ہیں وہ گجرات 2002ء کے طرز پر پر انجام دیے گئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ جب مسلم لیگ کے اراکین پارلیمنٹ پر مبنی وفد نے فسادات سے تباہ حال علاقوں کا جائزہ لینے پر بتایا گیا کہ یہ فسادات منظم پیمانے پر کیے گئے اور ان فسادات کی وجہ بی جے پی کے قائد کپل مشرا کی کی جانب سے اشتعال انگیز تقاریر ہیں انہوں نے کہا کہ مزید کہا کہ دلی سرکار، مرکزی وزارت داخلہ، مرکزی حکومت فسادات کو روکنے میں یکسر ناکام ہوچکی ہے انہوں نے متاثرین سے تفصیلات طلب کئے تو معلوم ہوا کہ دلی پولیس فسادیوں کے سامنےتماشائی بن گئی تھی۔
دلی پولیس عوام کے جان ومال کے تحفظ اور قانون پر عملدرآمد میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے یہ بات بڑی بدبختی کی ہے کہ گجرات 2002ء میں جو فسادات ہوئے تھے اس وقت گجرات کے چیف منسٹر مسٹر نریندر مودی اور وزیرداخلہ مسٹر امیت شاہ ہی تھے اور اب ملک میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی اور وزیر داخلہ مسٹر امیت شاہ ہیں انہوں نے کہا انہوں نے گجرات کے فارمولے کے طرز پر شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات سے مسلمانوں کی جان و مال کو تباہ کیاگیا انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ کےجج جسٹس مرلی دھرنے جب دہلی فساد کے تعلق سے کپل شرما پر ایف آئی آر درج نہ کرنےپر پولیس پر شدید تنقید کی تو مرکزی حکومت نے ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ امن و قانون پر یقین نہیں رکھتی بلکہ فرقہ وارانہ فسادات کے بھڑکانے والوں کو تحفظ دینے میں یقین رکھتی ہے انہوں نے ہندو مسلم فساد سے متاثرین کی راحت رسانی کے طور پر مسلم لیگ کی تنظیم کیرالہ مسلم کلچرل سینٹر کی جانب سے 50 لاکھ روپے کی فوری راحت رسانی کے لیے امداد کا اعلان کیا اور بھی مزید جائزہ لینے کے بعد بازآبادکاری کی امداد کااعلان کیا جائے گا۔
جناب نواز غنی، جناب پی وی عبدالوہاب، جناب ای ٹی محمد بشیر (تمام مسلم لیگ اراکین پارلیمنٹ) کے ہمراہ GTP ہسپتال پہنچ کرزخمی افراد سے بات چیت کی تو بتایا گیا کہ ان کا علاج معالجہ نہیں کیا گیا اور دلی کے فسادات میں شہید ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم بھی ابھی تک نہیں کروایا گیامسلم لیگ کے قائدین نے جب ڈاکٹروں سے بات کی تو ڈاکٹروں نے انہیں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا اور فسادات کی تفصیلات بتانے سے مرکزی حکومت کی لاپرواہی افسوسناک بات ہے مسلم لیگ نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت فسادات میں شہید، لاپتہ، اور زخمی ہونے والوں کے اعدادوشمار اور مالی نقصانات کے اعدادوشمار بتانے کا بھی مطالبہ کیا اور دلی حکومت اور مرکزی حکومت سے متاثرین کے لیے مکمل راحت رسانی اقدامات روبعمل لانے کا مطالبہ کیا اور تمام شہریوں کی جان و مال کو تحفظ جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں