نئی دہلی(یو این اے نیوز 27 فروری 2020) دہلی تشدد معاملے میں اب تک کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں برادریوں میں واٹس ایپ کے کچھ گروپس بنائے گئے تھے۔اسمیں ویڈیو ڈال کر لوگوں کو بھڑکایا گیا،اور اشتعال انگیز پیغامات فارورڈ کئے گئے،اس کے علاوہ کس علاقے میں پتھر مارنا ہے،ان گروہوں کے توسط سے یہ بھی بتایا جارہا تھا۔پولیس ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق،اب تک 50 سے زیادہ موبائل فون قبضے میں لئے جاچکے ہیں۔اسی کے ساتھ ہی،تفتیش میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ دیسی کٹوں کا بندوبست اتر پردیش بارڈر یعنی یوپی کی سرحد سے کیا گیا تھا۔
اور اسکا تشدد میں بھر پور استعمال کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے واٹس ایپ گروپ کا استعمال کرتے ہوئے یوپی سرحد سے دنگائیوں کو بھی بلایا۔اس وقت پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج میں مقامی رہنماؤں کی بھی تلاش رہی ہے۔ سائبر سیل فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے لوکیشن کی تلاش بھی کررہا ہے۔ پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ مقامی گروہ بھی اس تشدد میں سرگرم تھے۔ پولیس امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پورے معاملے کی تفتیش جٹی ہوئی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں