تازہ ترین

منگل، 25 فروری، 2020

دہلی تشدد: اشوک نگر میں مسجد میں آگ لگائی گئی، مینار پر بھگوا دھاریوں نے ہنومان کا جھنڈا لگایا

نئی دہلی: دہلی کے اشوک نگر میں منگل کو دوپہر میں ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔‘جئے شری رام’اور‘ہندوؤں کا ہندستان’کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک بھیڑ نے مسجد کو گھیر لیا اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا لگا دیا۔مسجد کے آس پاس کی  دکانوں کو لوٹا گیا جس میں ایک جوتے چپل کی دکان بھی شامل ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ لوٹ پاٹ کرنے والے لوگ ان کے علاقیکے نہیں تھے۔ اس علاقے میں زیادہ تر ہندو ہیں،

 لیکن کچھ مسلمان بھی ہیں۔ آگ لگنے کے بعد آگ بجھانے کے لیے کچھ اہلکار پہنچے تھے، لیکن یہاں پر پولیس نہیں تھی۔مقامی  لوگوں نے بتایا کہ پولیس نے علاقے سے مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو نکال لیا ہے۔گزشتہ اتوار سے ہی دہلی میں تشدد اورجھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی رہنماکپل مشرا نے اتوار کو دہلی پولیس کو الٹی میٹم دیا تھا کہ شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ  کر رہے لوگوں کے ذریعے بند کی گئی سڑک کو خالی کرایا جائے نہیں تو وہ  پولیس کی بھی نہیں سنیں گے کہا کپل مشرا ہوں یا کوئی اور، اشتعال انگیز بیانات دینے والے پر سخت کارروائی ہو: گوتم گمبھیرعدم اتفاق کا حق جمہوریت کے لیے ضروری ہے: جسٹس دیپک گپتادہلی تشدد: ایف آئی آر درج کرانے کی مانگ والی عرضی پر سپریم کورٹ بدھ کو شنوائی کرے گا اس کے اگلے دن ہی دو گروپ  کے بیچ جھڑپ ہوئی اور شرپسندوں نے دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی 


اور پبلک پراپرٹی کو کافی نقصان پہنچایا۔اس تشدد میں اب تک 13 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جس میں دہلی پولیس کے ہیڈ کانسٹبل رتن لال بھی شامل ہیں۔ کئی علاقوں میں یہ الزام  لگایا گیا ہے کہ پولیس سی ایاے  کی حمایت کرنے والوں کا ساتھ دے رہی ہے اور پتھربازی میں مددکر رہی ہے۔دی وائر کے ان پٹ کے ساتھ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad