مین پوری:حافظ محمد ذاکر (یواین اے نیوز 28فروری2020)ہمارا وطن عزیز ہندوستان آزادی کے بعد سے سب سے برے دور سے گزر رہا ہے ،جہاں ملک کی معشیت سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے، وہیں ملک کے باشندوں کی جان مال کے حفاظتی بندو بست مخدوش نظر آتے ہیں۔وطن عزیز میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے ۔مگر یہاں انسانوں کا خون سب سے سستا ہے ۔جس کا جیتا جاگتا ثبوت حالیہ دارلحکومت دہلی کا ہندو مسلم فساد ہے۔ان باتوں کا اظہار آج ہمارے نمائندے حافظ محمد ذاکر کے سامنے قصبہ بھوگاؤں کے معروف اردوادب سے تعلق رکھنے والے محمد حسین شہر یار، و سماجی کار کن شاہ زیب خان نے مشترکہ طور پر اظہار کئے ،انہو نے مزید کہا دہلی فساد نے یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں ہر ایک چیز مہنگی ہے ،سوائے انسانوں کے خون کے،انسانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔
انہو نے کہا کہ ملک کی کچھ ریاستوں میں لا قانونیت اپنے عروج پر ہے۔بدلے کے احساسات سے حکومتیں اپنے سیاسی حریفوں(مخالفین) کے ساتھ برتاؤ کر رہی ہیں ۔اور اگر ملکی سطح پر دیکھا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اب ملک میں جمہورےت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ،پرجا تنتر کی جگہ اب راج تنتر نے حاصل کر لی ہے ،ملک کے تانا شاہوں کے رویہ سے جمہوریت سسک رہی ہے۔دہلی فساد نے ہر ایک امن پسند ہندوستانی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ واقعی ملک میں تانا شاہی کاآغاز ہو چکاہے۔ پولس کی ذہنیت جانبدارانہ ہو گئی ہے ،دہلی میں فسادیوں کے ساتھ پولس کاپتھروں کو جمع کرنا،فسادیوں کے ساتھ شانہ بشانہ پتھر بازی کرنا ،اور اس کے بر عکس فریادیوں کے فون پرجان مال کی حفاظت کے لئے مدد مانگنے پر کس کس طرح جملوں کا ادا کرنا ،ان سب باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دہلی پولس کسی ایک کے حکم اور اور اس کے نظریہ پر ملک میں فساد کے دوران جانبدارانہ کام کو انجام دے رہی تھی۔
دہلی پولس نے اپنے فرائض اور ملاز مت حاصل کرنے کے وقت قانون کی بالا دستی کا حلف لینے کو بھی بھول گئی،محمد شاہزیب خان نے کہاکہ دہلی پولس کا کردار مشکوک نظر آتا ہے ۔پولس کے کردار نے اس جمہوری ملک کی جمہوریت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔اب ملک پر تانا شاہوں کا قبضہ معلوم ہوتا ہے ۔اب ملک میں جمہوریت سسک سسک کر دم ٹوڑ تی نظر آرہی ہے۔شاہ زیب خان نے تمام ملک کے امن پسندوں اور جمہوریت میں اپنی آستھا ،اعتماد،اور یقین رکھتے ہیں ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جانب غور فکر کریں ،کیوں کہ جمہوری اصولو اور ضابطوں سے ہی اس ملک کی خوبصورتی سارے جہاں میں مشہور ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں