تازہ ترین

جمعہ، 28 فروری، 2020

امن ہی حل تک رسائی کا واحد طریقہ ہے ، تشدد سے کسی بھی مسئلہ کا حل نکالا نہیں جاسکتا ۔ پروفیسر قادر محی الدین

چنئی(یواین اے نیوز 28فروری2020)انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر پروفیسر قادرمحی الدین نے ترونل ویلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشدد سے کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں نکالا جاسکتا ، امن ہی کسی بھی مسئلہ کے حل تک رسائی کا واحد طریقہ ہے ۔ پروفیسر قادر محی الدین نے دہلی فساد ات کے سلسلے میں اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی رہنما کپل مشرا نے اپنے تقاریر میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والوں کو گولی مارنے اور حملہ کرنے کی بات کی تھی ، جس کے بعد ہی دہلی میں فسادات بھڑک اٹھے تھے۔آ ج دہلی میں جو حالات ہیں وہ نہایت ہی تشویشنا ک ہیں ۔ اس کی وجہ مرکزی حکومت کی طرف سے حال ہی میں CAA,NRC اورNPRقوانین کی منظوری ہے ۔ ان قوانین کی مخالفت میں دہلی سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، بھوک ہڑتال مظاہرے، کانفرنس، عوامی اجلاس اور سیمیناروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس جمہوری ملک میں ہر کسی کو حکومت کے ناقص قانون کی مذمت کرنے کا حق ہے ۔ لیکن حکمران طبقہ ہونے کے نشے میں احتجاج ختم کرنے کا دعوی کرکے عوام کو تشدد کا نشانہ بنانا اور عوام کو نقصان پہنچانا جمہوری ملک میں نہیں چل سکتا ہے۔

 بی جے پی رہنما کپل مشرا نے مظاہرین پر گولی مارنے اور انہیں وہاں سے ہٹانے کی بات کی تھی ۔ جس کیلئے ان پر کوئی کارروائی تک نہیں ہوئی، جس کے نتیجے میں ہوئے تشدد کی وجہ سے 13افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے اور 36افراد زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں مکانات، دوکانیں جلائی گئی ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایسے تمام متاثرین کا تعلق اقلیتی مسلمانوں سے ہے ۔ ایسے میں اس تشدد کے ذمہ دار کپل مشرا کو فوری گرفتار کرکے مناسب سزا دیا جانا چاہئے ۔ تشدد سے کسی بھی مسئلہ کا حل نکل نہیںسکتا ہے ۔لہذا کسی بھی مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے ۔ ملک کی میڈیا سے گذارش ہے کہ وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ خبریں بنائیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسر قادر محی الدین نے کہا کہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے تعلق سے حز ب اختلاف جماعتیں خوف و ہراس نہیں پھیلا رہی ہیں۔ چونکہ شہریت ترمیمی ایکٹ آئین ہند کے منافی ہے ، لہذا انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 سپریم کورٹ کے ہدایت کے مطابق این آر سی صرف آسام کیلئے تھا لیکن اس کو پورے ہندوستان میں لانے کی بات کہہ کر مرکزی حکومت ہی عوام میں خوف اور الجھن پیدا کررہی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ قومی شہری رجسٹریشن (NRC) میں پوچھے گئے تمام سوالات قومی مردم شماری کے اندراج (NPR)میں شامل ہیں۔ اس کے مطابق آپ کو آپ کانام، والد اور والدہ کانام ، ان کی جائے پیدائش اور ان کے دستاویزات پوچھے جارہے ہیں۔ دراصل شہریت ایکٹ1955میں نافذ کیا گیا تھا اور 1969میں پیدائش کا اندراج کا قانون بنا تھا۔ جس کے بعد ہی پیدائش کے تعلق سے باقاعدگی سے تفصیلات ریکار ڈ کی گئیں ہیں۔ ایسے میں اس سے پہلے کی تفصیلات پوچھے جائیں گے تو آپ جواب کیسے دے سکتے ہیں ؟۔ اس سے پہلے جس طرح مردم شماری کی گئی تھی اسی طرح کرنے کے بجائے مرکزی حکومت نئے نئے سوالات کررہی ہے ۔ اس قانون کی وجہ سے ہی آج ملک میں خوف کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ لہذا مرکزی حکومت کو ہی اس کی ذمہ داری لیکر اس قانون کو واپس لینا چاہئے ۔ تمل ناڈو وزیر اعلی بھی اس معاملے میں عوام کو گمراہ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں این پی آر میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات اگر معلوم نہیں ہیں تو نہیں دیا جائے۔ 

عوام کا خوف یہ ہے کہ اگر کچھ سوالات کے جوابات نہ دینے کے پاداش میں انہیں غیر شہری قرار دے دیا جائے گا تو کیا ہوگا۔ ایک اور بات عام ہے کہ اس قانون سے متاثر ہونگے یہ بات غلط ہے ۔ اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں تقریبا 200سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔ ہندوستان کے 11ریاستوں میں اس قانون کے خلاف اسمبلی میں قرار داد منظورکئے گئے ہیں۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے اس قانون کے خلاف عوام میں جاکر کروڑوں دستخط حاصل کئے ہیں۔ ان میں سب مسلمان نہیں ہیں۔ تمل ناڈ وکے ایک اخبار نے سروے رپورٹ شائع کیا ہے کہ تمل ناڈو میں تقریبا 63فیصد عوام شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہیں۔ جبکہ تمل ناڈو میں مسلمان صرف 6یا 7فیصد ہیں۔ تمل ناڈو حکومت سے انڈین یونین مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس قانون کے خلاف9مارچ کو شروع ہونے والے بجٹ سیشن کے دوران اسمبلی میں قرار داد منظور کرے۔ مرکزی حکومت سے کہیں کہ2010میں جس طرح مردم شماری کی گئی تھی اسی طرح تمل ناڈو میں مردم شماری کی جائے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad