تازہ ترین

اتوار، 19 جنوری، 2020

این آر سی، سی اے اے،این پی آرکو واپس لینے کے مطالبے لیکر کیرلا اور تمل ناڈو میں ایس ڈی پی آئی کا گورنر ہاؤس مارچ

چنئی(یواین اے نیوز 19جنوری2020)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کی جانب سے این آر سی، سی اے اے،این پی آرکے خلاف ملک گیر مہم 'کاغذ نہیں دکھائیں گے 'کے ایک حصے کے طور پر کیرلا اور تمل ناڈو میں 17اور18جنوری2020کو گورنر ہاؤس مارچ کا انعقاد کیا گیا۔کیرلا میں مذکورہ مارچ کاسر گوڈ تا گورنر ہاؤس کے قریب پہنچ کر ختم ہوا۔مارچ کی صدارت کیرلا ریاستی صدر عبدالمجید فیضی نے کیا۔اس مارچ میں ریاستی نائب صدر ایم کے منوج کمار، ریاستی جنرل سکریٹری پی عبدالحمید،ریاستی سکریٹری مصطفی امان، ریاستی خازن اجمل اسماعیل ،تلسی درن، مصطفی کمیری اور مہمان خصوصی کے طور پر ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید شریک رہے ۔تمل ناڈو میںچنئی ریس کورس سے مارچ کا آغاز ہوا اور گورنر ہاؤس کے قریب اختتام کو پہنچا۔ اس ریالی میں ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو ریاستی صدر محمد مبارک، ریاستی نائب صدر امجد باشاہ ، ریاستی جنرل سکریٹریان نظام محی الدین، عبدالحمید، اے ایس عمر فاروق، ریاستی سکریڑیان امیر حمزہ۔

 رتھنم، احمد نقوی اور ریاستی ورکنگ کمیٹی اراکین اے کے کریم، شفیق احمد، راجہ محمد، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ریاستی نائب صدر محمد شیخ انصاری ، ایس ڈی ٹی یو کے ریاستی صدر محی الدین، اڈوکیٹ ونگ کے ریاستی صدر جہانگیر باشاہ، ٹی ایم ایم کے سے محمد حنیفہ ، ایم ایم کے سے عبدالحمید اور مہمان خصوصی کے طور پر ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر دہلان باقوی شریک رہے ۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی تمل ناڈو ریاستی صدر محمد مبارک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بی جے پی حکومت نے قومی شہریت بل منظور کرانے کے بعدوزیر داخلہ امیت شاہ نے اسے آسام کی طرح پورے ملک میں نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ جس کے بعد ملک بھر میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے بعد مودی حکومت نے کہا کہ اس طرح کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن این آر سی کیلئے پہلا قدم مانا جانے والا این پی آرکے تعلق سے بی جے پی حکومت نے کارروائی شروع کردی ہے ۔ جبکہ مرکزی حکومت کہہ رہی ہے کہ این آر سی اور این پی آرمیں کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے دفعات اور متعدد اعلانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق ہے ۔ 

وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا کہ اب این آر سی شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اس کا مطلب یہ کھبی بھی شروع کیا جاسکتا ہے ۔ محمد مبارک نے مزید کہا کہ این آر سی اوراین پی آرسے صرف متاثر مسلمان ہی متا ثر نہیں ہونگے تمام طبقے کے لوگوں کو دستاویزات جمع کرنے تک بڑی جدوجہدکرنا پڑے گی۔این پی آرکیلئے بغیر دستاویزات کے پہلے معلومات حاصل کرنے کے بعد اگر تصدیق کرنے والے افسران دستاویزات مانگیں گے تو ہمیں مجبور ا دینا ہی پڑ ے گا۔ جس کے بعد دستاویز ات جمع نہ کرنے والوں کو شہریت سے محروم کیا جاسکتا ہے ۔ لہذا ، ملک کو تقسیم کرنے والے ان قوانین کو لانے والی مرکزی حکومت اور اس کی حمایت کرنے والی تمل ناڈو حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اور سی اے اے,این آر سی اور این پی آرکو واپس لینے اور اس کے خلاف تمل ناڈواسمبلی میں قرارداد منطور کرنے کے مطالبے کو لیکرآج ایس ڈی پی آئی نے اس ریالی کا انعقاد کیا ہے ۔ جب تک یہ قوانین واپس نہیں لئے جاتے تب تک ایس ڈی پی آئی عوام کو متحر ک کرتے رہی گی اور ملک کے آئین اور جمہوریت کو بچانے کیلئے مسلسل اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اس ریالی میں خواتین سمیت ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کارکنان اور عوام شریک رہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad