تازہ ترین

پیر، 27 جنوری، 2020

یوم جمہوریہ دیوبند کے تعلیمی اداروں سرکاری ،سماجی وسیاسی تنظیموں کے دفاتر میں روایتی انداز سے منایا گیا

]رپورٹ۔دانیال خان دیوبند ۔(یو این اے نیوز 27جنوری2020)یوم جمہوریہ دیوبند کے تعلیمی اداروں،سرکاری دفاتر،سماجی وسیاسی تنظیموں کے دفاتر میں روایتی اندازسے منایا گیا۔ اس موقع پر جشن جمہوریہ کی تاریخ اور ترانے پیش کرنے کے علاوہ طلباء وطالبات نے بہترین ثقافتی پروگرام بھی پیش کئے۔اسی تنازر میں دیوبند کے معروف دینی ادارہ جامعہ قاسمیہ دار التعلیم والصنعہ قاسم پورہ روڑ میں جشن جمہوریہ کے موقع پر جنگ آزادی میں علماء کا کردار اور موجودہ وقت کے جمہوری تقاضے کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد ہوا، جس میں علمائے کرام،


سماجی شخصیات اور بڑی تعداد میں صحافی، ادیبوں واخباری نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت ادارہ کے مہتمم مولانا ابراہیم قاسمی نے کی اور نظامت کے فرائض شاہ عالم قاسمی نے انجام دئیے۔پروگرام کا آغاز رسم پرچم کشائی سے کیا گیا،بعد ازاں ادارہ کے مہتمم مولانا ابراہیم قاسمی نے جنگ آزادی میں علماء کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے اس ملک میں مدارس اور علمائے کرام نے جو بیش بہا قربانیاں دی ہیں وہ اس ملک کی تاریخ کا ایک زرین باب ہے۔وہیں مدرسہ اسلامیہ اصغریہ میں بھی یوم جمہوریہ پر طلبہ نے مختلف ثقافتی پروگرام پیش کر حاضرین کا دل جیت لیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے نائب مہتمم مولانا تجمل حسین نے کہا کہ  ہندوستان کی جنگ آزادی کا جب ذکر ہوتا ہے تو بعض تنگ نظر مؤرخین بڑے مجاہدین جنگ آزادی علماء کی قربانیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، لیکن ان کے ذکر کے بغیر آزادی کی تاریخ نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے مسلمان اپنے ملک کے وفادار ہیں اور ملک کی تعمیر وترقی میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں۔

جامعہ الشیخ احمد مدنی کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی نے ادارہ میں پرچم کشائی کی رسم ادا کرنے کے بعد طلبہ کو  بتایا کہ 1857 کی جنگ آزادی ہو یا انیسویں صدی کے اوائل میں جنگ آزادی کی جد وجہد ہوں ان سب میں مدارس کے طلبہ اور علماء کرام نے آزادی کا علم بلند کئے رکھا اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام ہمیشہ ملک وملت اور انسانیت کے سچے بہی خواہ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے 70 ہزار علماء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم خود اپنے اکابرین، علمائے کرام اور بڑے بڑے مجاہدین جنگ آزادی اوران کی عظیم قربانیوں کو فراموش کر بیٹھے، اپنی زرین تاریخ کو ہم نے خود گرد آلود کردیا، آج ہمارے بچے اور مدارس کے طلبہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کے بزرگوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے کون کون سے تاریخی کارنامے انجام دئیے۔دارالعلوم زکریا کے مہتمم مولانا مفتی شریف خان قاسمی نے رسم پرچم کشائی کے بعد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے علماء وائمہ کرام ملک وملت اور انسانیت کے سچے بہی خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت معاشرہ کو پاک وصاف بنانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

 اصلاح معاشرہ کے لئے ہمیں سخت جد وجہد کرنی پڑے گی اور نسل نو کو تاریخ سے روشناس کرانا ہوگا۔ دارالعلوم اشرفیہ کے مہتمم مولانا سالم اشرف قاسمی اور مولانا آزاد پیرا پیرا میڈیکل کالج کے ڈائرکٹر ڈاکٹر یونس صدیقی قاسمی نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں لا قانونیت، فرقہ پرستی اور بدعنوانی عروج پر ہے۔ اس ملک کی یکجہتی اور تہذیب وثقافت کو تار تار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہر طرف ایسے حالات ہیں جن کی وجہ سے ملک تنزلی کی طرف جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو اب ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام سیکولر ذہنیت رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بلا تفریق فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں۔ دارالعلوم فاروقیہ کے مہتمم مولانا نور الہدی قاسمی بستوی اور جامعہ القدسیات للبنات کے مہتمم قاری عامر عثمانی نے کہا کہ موجودہ صورت حال سے قطعی دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، 

ہمارے پاس دین واسلام کی روشنی موجود ہے۔ اسلام میں ایسی تعلیمات موجود ہیں جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے مفید ثابت ہوتی رہیں گی اور نئے مسائل کا حل پیش کرتی رہیں گی۔ اسپرنگ ڈیل پبلک اسکول کے چیئر مین سعد صدیقی اور نواز گرلز پبلک اسکول کے ایڈمنسٹر یٹر عبداللہ نواز خان نے کہا کہ اگر تاریخ کی روشنی میں جنگ آزادی کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ قربانی مسلمانوں کی جانب سے دی گئی۔دارالعلوم وقف کے استاد مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ آزادی تو حاصل کرلی گئی، مگر اس کے لئے بڑی اذیتیں سہیں اور تکلیفیں برداشت کیں مگر اب ہمیں واقعتا آزادی کو باقی رکھنے کے لئے جدوجہد اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad