تازہ ترین

منگل، 14 جنوری، 2020

مس کال۔ مس کال مودی

از:۔مدثراحمد،ایڈیٹر،روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ۔کرناٹک۔

     بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ حکومت اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کے تعلق سے لوگوں میں بیداری لانے کیلئے گھر گھر جارہی ہے اور لوگوں کے سامنے منتیں کر رہی ہے کہ شہریت ترمیم قانون (سی اے اے)این آر سی کی وجہ سے ملک کے شہریوں کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ اس لئے ہماری تائید کریں، سوال یہ ہے کہ جب ملک کے شہریوں کو اس قانون سے کوئی نقصان نہیں ہیاور اس قانون نافذ بھی کیا جاچکا ہے تو حکومت کو گھر گھر جاکر بیداری لانے اورموبائل فون پر مس کال۔ مس کال کا کھیل کھیلنے کی ضرورت کیاہے؟۔ بھارت کی تاریخ کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ جب بھی بھارت میں ایمرجنسی کا دور نافذ کیا گیا تھا اس دوران کسی بھی حکومت نے اپنی تائید کروانے کیلئے کبھی بھی لوگوں کے گھروں تک قدم نہیں رکھا۔نہ ہی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی تائید کرے۔ خاتون آہن (آئیرن لیڈی) اندرا گاندھی نے جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کیا تھا اس وقت بھی آج کی طرح حکومت نے اپنی تائید میں بات کرنے کیلئے لوگوں کو مجبور نہیں کیا تھا۔ البتہ ظلم وستم کا پارہ آج کے دور سے کم تھا۔

بھارت میں نافذ کئے جانے والے سی اے اے، این آر سی کے تعلق سے وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندرمودی جہاں اپنی پیٹ خود تھپ تھپارہے ہیں وہیں بھارت کی 90 فیصد آبادی حکومت کی مذمت کررہی ہے۔ محض کچھ لوگ جن کا تعلق بی جے پی سے ہے یا پھر وہ بی جے پی کی ذہینی غلامی کا شکار ہوچکے ہیں وہی لوگ اس قانون کی تائید میں لگے ہوئے ہیں۔ 90 فیصد آبادی جن میں بھارت کے معروف سائنسدان، قابل وکلاء، بیورو کریٹس اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اس قانون کی مخالفت میں کھڑی ہے تو کیا یہ لوگ بیوقوف ہیں جو مودی اور امیت شاہ کی مخالفت میں اتر آئے ہیں۔ دراصل این آر سی اور سی اے اے مودی حکومت کیلئے گلے کی ہڈی ثابت ہوچکی ہے۔ جسے وہ ناتو ننگل پارہے ہیں اورنہ ہی اُگل پارہے ہیں۔ لوگوں میں بار بار یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اتنی مخالفتوں کے باوجودبھارت کی حکومت کیونکر ملک سے یہ قانون ہٹانے یا اس قانون میں ترمیم لانے کے بجائے اپنی زد پر اڑی ہوئی ہے اور وہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ دراصل حکومت پوری طرح سے کمزور ہوچکی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کیلئے بہادروں کی طرح میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے مس کال والے کھیل کو جاری کیا ہیاور انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ لوگ ایسی حرکتوں میں زیادہ جذباتی ہوجاتے ہیں۔

 خاص طور پر مودی بھگت اپنی ساخت کو بچانے کیلئے مس کال۔ مس کال کے کھیل کو دن رات کھیلنے کیلئے تیاری کر چکے ہیں۔ دوسری جانب اس مس کال۔ مس کال کے مقابلے میں این آر سی اورسی اے اے کی مخالفت میں مس کال دینے کیلئے ایک نمبر جاری کیا ہے۔ اوریہ نمبرمختلف تنظیموں کے ذریعے سے چلائے جارہے ہیں۔یہ تو ایسی بات ہوئی کہ جنگ کے میدان میں دشمن ہم پر گولا بارود پھینکیں اور گمراہ کرنے کیلئے کھانے کے پیاکٹس بھی دیاور ہم پیاکٹس پر جھپٹ پڑے اوروہ اپنے حملے مزید تیز کردے۔ جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ بیت المقدس فتح کرنے کیلئے روانہ ہوئے تھے اس دوران ان کی فوج کے عزائم اورایمان اتنا پختہ تھا کہ وہ کسی بھی لالچ میں نہیں آتے تھے۔ فوج کا معمولی فوجی بھی اپنے عزم پر ڈٹا ہواتھا۔ جب عیسائیوں و یہودیوں کو اس بات کا احساس ہوا کہ فوج کسی کی لالچ میں آنے والی نہیں ہے تو انہوں نے اپنے مسیحی پیشوا سے رجوع کیا۔ مسیحی پیشوا نے کافی سوچنے کے بعد یہ مشورہ دیا کہ جس راہ سے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی فوج کا گذرہو وہاں پر برہنہ لڑکیوں کی تصویریں بنائی جائیں اوراس کے نیچے لکھا جائے گا اس سے خوبصورت لڑکیاں ہماری فوج کے ماتحت ہیں ضرورت مند فوجی رابطہ کریں۔ جب سلطان ایوبیؒ کی فوج اس راہ سے جارہی تھی تو کچھ نوجوان فوجی ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے اپنے عزم میں کمزور ہوتے دکھائی دئے۔ اور وہ مذکورہ پتہ پر جاپہنچے،جب محاذ آرائی ہورہی تھی۔

 اس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ کی فوج کو نقصان ہونے لگا۔ سلطان پریشان ہوئے اوروہ اپنے جانشینوں وعلماء سے اس بابت تبادلہ خیال کرنے لگے۔ ایک عالم دین نے انہیں بتایا کہ فوج میں شامل کچھ فوجی بدکار ہوچکے ہیںاس لئے ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سلطان نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا اوربدکار فوجیوں کی نشاندہی ہونے کے بعدانہیں سلاخوں میں پھینک دیا۔ اسکے بعدجو جنگ ہوئی اس میں سلطان کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بالکل اسی طرح سے این آرسی۔ سی اے اے۔ این پی آرکے خلاف آج بھارت کی عوام متحد ہوکر جسطر ح سے لڑرہی ہے۔ ان حوصلوں کو توڑنے کیلئے حکومت مس کال جیسی سازشوں کو لارہی ہیاور آنے والے دنوں میں یقیناً وہ شہریوں کو لالچ میں مبتلاء کریگی یا پھر ایسے مسائل میں مبتلاء کریگی کہ لوگ مجبور ہونے لگیں گے، مثال کے طور پر گیس کی سپلائی روکنے، سبسڈی کی کٹوتی، پنشن لینے والوں کی پنشن روکنے، سرکاری ملازمین کی ترقی روکنے، طلباء کو ملنے والی سہولیات سے محروم کرنے، غریبوں کو دئے جانے والے اناج کی فراہمی کو روکنے یا دستاویزات دینے پر کم شرح سود میں قرضے دینے کی اسکیم یا سازشیں بھی جاری کریگی۔

ان تمام سازشوں اوراسکیموں سے اپنے آپ کو دوررکھنا ہی آج کے دور کے حق پرستوں کی نشانی ہے۔ مسلمانوں کو لالچ دینے کی عادت نئی نہیں ہے۔ خود نبی کریم حضرت محمدمصطفیٰ ﷺکو بھی اہل مکہ، کفار عرب،یثرب کا شاہ بھی تحفے، خزانے دولت کی لالچ دے کر اسلام سے باز رہنے کی گذارش کی تھی۔اسکے بعد یہ دور صحابہ پر بھی رہا تابعین پر بھی رہا، اولیاء پر بھی رہا، لیکن ہردور میں حق پرستوں نے ایسی لالچوں کو ٹھکرایا اوروہی دنیا وآخرت میں کامیاب رہے۔ آج ہماری اورآپ کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ مس کال۔ مس کال کا کھیل کھیلنے کے بجائے میدان عمل میں کود جائیں اورمودی کو ہمیشہ کیلئے مس کردیں،مودی اور سنگھ پریوار کی سوچ کو ملک سے ہمیشہ کیلئے مس کروائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad