دیوبند:دانیال خان(یواین اے نیوز5جنوری2020)ملاوٹ ایک ایسا قبیح فعل ہے جو ہمارے معاشرے کی رگوں میں ایک زہربن کر سرایت کررہا ہے وطن عزیز میں صحت عامہ کے مسائل،خطرناک بیماریوں کا وسیع ہوتا دائرہ کار،کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کا ہی شاخسانہ ہے ملاوٹ کا دھندہ کرنے والے اتنے بااثر ہیں کہ ان کے سامنے قانون بھی ہاتھ باندھے کھڑا نظر آتا ہے ان خیالات کا اظہار جمیعتہ فلاح انسانیت کے جنرل سکریٹری الحاج شاہ عالم قاسمی نے کیا۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں کسی عام فرد کے ملاوٹ جیسے کاروبار میں ملوث ہونے کا معمولی سا بھی شائبہ نظر آئے تو قانون حرکت میں آجاتا ہے۔
چائنا میں ملاوٹ جیساجرم کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک انسانی صحت سے کھیلنادر اصل انسانی زندگی سے کھیلنا ہے۔لیکن ہمارے ملک میں ملاوٹ کا کاروبار اس وقت عروج پر ہے اور اسے فروخت کرنے والے جعل سازوں نے ایک مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے۔ محکمہ صحت اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کا کوئی اہلکار چیکنگ یا سیمپلنگ کیلئے متعلقہ دکانوں،اسٹورز اور مارکیٹ کا رخ نہیں کرتا۔صرف دیوالی تہوار کے موقع پر فوڈ ڈپارٹمنٹ مستعد ہو جاتا ہے۔
کچھ دوکانوں پر چیکنگ کی خانہ پوری کی جاتی ہے چند دوکانوں سے سیمپل بھرے جاتے ہیں اور پھر لے دے کر معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔شاہ عالم قاسمی نے حکومت سے ملاوٹ مافیا کے خلاف شکنجہ کسنے اور ملاوٹ خوری کے جرم میں شریک ملزمان کو سخت سزائیں دینے اور شہر میں ہر ماہ چیکنگ مہم چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں