تازہ ترین

جمعرات، 23 جنوری، 2020

جمہوری ملک میں آمرانہ رویہ دستور ہند کے خلاف:حاجی محمد اسحاق

مین پوری:رپورٹ ۔حافظ محمدذاکر(یو این اے نیوز 23 جنوری 2020)بر سر اقتدار بھارتی جنتا پارٹی کی بوکھلاہٹ صاف دکھائی دے رہی ہے،رام لیلہ میدان سے چاہیں نریندر مودی کہ یہ الفاظ ہوں ”یہ جھونٹ ہے یہ جھونٹ ہے“  یا لکھنؤ کی ریلی میں امت شاہ کے آمرانہ انداز کے الفاظ ”کوئی کتنے بھی دھرنے کر لے“ مگر ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے،ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہوں جنہو نے سارے جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھ کرہٹ دھرمی کا جو ثبوت دیا ہے،یہ سب قابل ِ مذمت ہے، کیا جمہوری ملک میں اس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے؟

یہ بات تو کہنے والے لیڈران بھی سمجھتے ہیں کہ یہ فحش انداز برا ہے،مگر دیش کی عوام کی ناراضگی کا خوف،ملک میں ہر سو ہو نیوالے پر سکون مظاہرے،گلے میں ہڈی کی مانند پھنس جانے والے ”سی،اے،اے،قانون،ہندوستان کی عوام کا مزاج سمجھ نے میں غلطی کر جانے والے،بی جے پی کے لیڈران کا بوکھلاجانا کوئی بڑی بات نہیں، شاہین باغ میں دستور ہند کی حفاظت میں احتجاج کر نے والی خواتینوں کو 500روپیہ کا لالچی بتانا،ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ کہنا مرد لوگ گھروں میں لحاف میں لیٹے ہیں،اور اپنی عورتوں کو مظاہروں میں چوراہے چوراہے بھیج رہا ہے، کیا یوگی جی کوہندوستان کی تاریخ کا علم نہیں؟

ملک کی آزادی میں یہ خواتین اونتی بائی،بیگم حضرت محل،جھلکاری بائی،رانی لکشمی بائی،جھانسی کی رانی،سروجنی نائیدو،وغیرہ یہ بھی تو خواتین ہی تھیں جنہو نے ہر محاذ پر اس ملک کی سلامتی کے لئے مظاہروں اور آندولنوں کے ساتھ ساتھ اپنی جان کی قربانیاں بھی پیش کیں،اس وقت کے انگریزوں کے غلام بھی یہی آواز بلند کر رہے تھے،جو ریاست کے وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ سیاسی منچ سے بلند کر رہے ہیں، ہندوستانی مردوں کو یہی طعنہ دیا جاتا تھا جو آج ایک آزاد ملک کی سب سے بڑی ریاست کے وزیر اعلیٰ دے رہے ہیں،اگر اسوقت کی خواتین آندولن،مظاہرے نہ کرتیں تو کیا یہ آج کے بابا جی آزاد ہندوستان کی ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوتے؟اس وقت کی لڑائی ملک کو آزاد کرا نے کی تھی،

اور آج کی لڑائی ملک کے قانون کو بچا نے کی ہے،جس طرح اسوقت ملک کی ماں بہن بیٹیوں نے ملک کو بچا یا،انہیں سر فروشوں کی بیٹیاں آج ملک کے دستور کو بچا نے کے لئے اپنے عیش عشرت بھول کر سرکوں پر نکلی ہیں، کیونکہ یہ وطن پیارا ہے،یہ خواتین ہی  تمہاری آمریت کو جمہوریت کے دائرے میں رہ کر ہی تیغ بالا کر دیں گی،کیونکہ ان بیٹیوں کی رگو میں دوڑ نے والا خون ہندوستانی ہے،جن کے اجداد نے اپنے خون کی ایک ایک بوند اس ملک پر قربان کی ہے،اپنے آہنی ارادوں سے ملک کے دشمنوں کو گھٹنے ٹیک نے پر مجبور کر دیا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad