تازہ ترین

منگل، 14 جنوری، 2020

آوارہ مویشیوں کی وجہ سے درد سب سہ رہے ہیں مگر بولتا کوئی نہیں:

حافظ محمد ذاکر.مین پوری:آوارہ مویشیوں کو لے کر خصوصاً گایوں کو لے کر اب انتظامیہ بھی پریشان نظر آنے لگا ہے،بے تحاشہ آوارہ مویشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے عوام پریشان ہے،آوارہ مویشیوں کی وجہ سے آئے دن ایکسڈنٹ کے واقعات رونما ہو تے ہیں،جبکہ ریاست اتر پردیش کی یو گی حکومت نے آوارہ گایوں کے لئے ہر ضلع قصبہ میں گؤ شالہ بنوائے ہیں،جس کے بہتر انتظامات کے لئے  ضلع مجسٹریٹ بھی وقتاً فوقتاً معائنہ بھی کرتے رہتے ہیں،

گؤ شالہ میں موجود گایوں کی دیکھ بھال بہتر طریقہ سے ہو رہی ہے،یہاں تک کہ ان کی صحت کی بھی دیکھ بھال کی جارہی ہے،باقاعدگی سے گؤ شالہ میں موجود گایوں کو خوارک بھی پلوائی جارہی ہے،اس کے با وجود ابھی بھی سڑکوں پر سیکڑوں کی تعداد میں آوارہ گائیں گھومتی نظر آتی ہیں،ہاں اب اتنا ضرور ہے کہ گایوں کی تعداد اب سڑکوں پر کم ہے،لیکن پھر بھی ابھی بھی گایوں کے ساتھ ساتھ آوارہ سانڈ گھوم تے نظر آتے ہیں،

جو بعض اوقات نسل انسانی کو ضرر پہنچاتے ہیں، بعض مرتبہ تو کئی کسانوں اور راہگیروں کی جانیں بھی تلف ہو گئی ہیں،آج بھی صبح آٹھ بجے کے قریب بھوگاؤں بس اسٹینڈ پر درجنوں گائیں جس میں سانڈ بھی تھے گھومتے نظر آئے،بس اسٹینڈ پر موجود سواریوں کو ان سے بچتے دیکھا گیا،لوگوں نے ان آورہ باقی بچی گایوں اور سانڈوں کا بھی انتظام کئے جانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے،تاکہ آوارگی سے گھومتے یہ جانور کسی کوضرر نہ پہنچا سکیں ،  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad