سنت کبیر نگر(یواین اے نیوز7جنوری2020)عرصہ دراز ہوا اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ مخالفانہ روش کی لہریں ایک بعد ایک تسلسل کے ساتھ چلی آرہی ہے بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ مسلمانوں کے قلب وجگر پر بجلی بن کر گرا، اسی طرح بی جے پی سرکار جب سے آئی ہے تب سے مسلمانوں پر آئے دن کہیں نہ کہیں سے حملہ کر رہی ہے، آج ہم کس ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں کیا اسی ہندوستان کو دیکھنے کے لئے بلا تفریق مزہب وملت ہمارے آباواجداد نے قربانیاں پیش کی تھیں۔
مگر ایک خاص گروپ اور نظریے کے سنگ دل اور نفرت کے بیج بونے والے لوگوں کو حکومت کا باگ ڈور تھام کر ہمیں غیر ملکی اور گھس پٹھیا کہہ کر این، آر سی اور سی اے بی یعنی شہریت ترمیمی بل کے آڑ میں ہمارے اوپر ظلم کیا جارہا ہے، جب صوبہ آسام میں این آر سی کی فہرست جاری کی گئی تو 19لاکھ لوگ اس لسٹ سے باہر ہوگئے جس میں چودہ لاکھ کے قریب خود ہندو مذہب کے لوگ شامل تھے مگر 10دسمبرکی تاریخ میں لوک سبھا اور 11دسمبر 2019 میں راجیہ سبھا میں بھی سی اے بی کر پاس کرالیا گیا۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند کی دستخط کے شہریت ترمیمی بل قانون بن چکاہے، یہ پہلا ایسا بل ہے جس کی مخالفت پورے ملک میں ہورہی ہے کرفیو کے باوجود بھی لوگ احتجاج کر رہے ہیں، جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے طلبہ و طالبات نے احتجاج کیا توان پر لاٹھی پارسائی گئ ان کی حمایت میں پورے ملک میں ندوۃ العلماء لکھنو، اور مولانا ابوالکلام آزاد حیدرآباد، اور بہت سارے یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات اور سماجی کارکن نے احتجاجی مظاہرے کئے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں