اعظم گڑھ،مظفرپور/ریحان اعظمی(یواین اے نیوز 8جنوری2020)اعظم گڑھ کے مظفر پور میں بنارس اور اعظم گڑھ شاہ راہ پر واقع جامعہ اسلامیہ آج کل سرخیوں میں ہے۔ معاملہ وہاں کے سولہ طالب علموں کے اخراج کا ہے۔ اطلاع کے مطابق سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ایک ہفتہ پہلے یعنی جمعہ کو وہاں کے طالب علموں نے احتجاج کرنے کا ارادہ بنایا تھا،پولس انتظامیہ کی طرف سے باہر پروٹیسٹ(مظاہرہ)کرنے پر پابندی تھی،اس لئیے وہاں کے اساتذہ نے بچوں کو اپنے جامعہ کے اندر مظاہرہ کرنے کی اجازت دی،بچے کافی مشتعل بھی ہوئے مگر جامعہ کے احاطے میں ہی احتجاج کیا۔یواین اے نیوز کے نمائندے نے جامعہ کے آفس پر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر وہاں پر موبائل سوچ آف رہا جس پر جامعہ کے ایک استاذ سے یواین اے نیوز کے نمائندے کی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کی معاملہ وہی ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں۔
آپ کو بتادیں کی جامعہ نے اپنے لیٹر پیڈ پر ان سولہ بچوں کا نام جاری کیا جنکے نام یہ،محمد اسعد نیپالی بن محمد محسن،اسم محمد اسجد نیپالی بن محمد محسن، عبدالکریم بن عبدالقیوم، فرحان بدربن نسیم احمد،امتیازاحمد بن محبوب عالم،محمد عمیرین بن زبیراحمد، محمد آصف بن عبدالسلام، ابو طلحہ بن مختار احمد،فیض اللہ بن شمشاد عالم،مظفر امام بن صفرالامام، حشمت اللہ بن مشتاق احمد، محمد عارف بن محمد یعقوب، ذوالفقار بن محمد ذوالنون عالم، محمد مستقیم بن محمد قمرالزماں،محمد کامران بن حبیب الرحمن،محمدخبیب بن نسیم احمد۔یہ سب عربی درجات کے طالب علم ہیں۔
ان پر جامعہ کی طرف سےالزام لگایا گیا ہے کہ انہوں جامعہ کے اندرونی کاموں میں رکاوٹ ڈالی جبکہ لیٹر پیڈ پر سات نکات لکھا گیاہے۔(ایک) انجمن جمیعۃ الاصلاح کے پروگرام کا بائیکاٹ کرنا (نمبردو)عبدالماجد انصاری( بجلی والے) کے کمرہ کی گھیرا بندی کرنا( نمبرتین) اساتذہ کے تنبیہ و تاکید کے بعد بھی مرکز کے سامنے میدان میں احتجاج پر مصرر رہے اور عصر کی نماز کے لیے مسجد نہ جا کر میدان ہی میں رہے اور وہیں دوسری جماعت کا انتظام کیا(نمبرچار)تعلیمی بائیکاٹ کرنے کی کوشش کی اور تعلیمی نظام کو متاثر کیا( نمبرپانچ) احتجاج میں پیش پیش رہےاور دفتر میں آکر طلبہ کی قیادت کی( نمبرچھ) مین گیٹ پر قبضہ کرکے کے چھٹی کے بعد بھی روکا تاکہ انتشار پیدا کیا جائے(نمبرسات)مسجد میں لاؤڈ اسپیکرسے انتظامیہ کی اجازت کے بغیر اعلان وخطاب کی کوشش،مزکورہ جرائم و ناشائستہ حرکتوں کی وجہ سے طلبہ کا اخراج کرنا ناگزیر سمجھا گیا یا انکا جامعہ میں رہنا جا معہ کے نظام کے لیے نہایت ضرررساں ثابت ہورہا تھا۔
یہ سب باتیں جامعہ کے لیٹر پیڈ میں موجود ہیں۔وہیں سوشل میڈیا پر کافی لوگوں نے اس واقعے پر اپنی ناراضگی بھی ظاہر کی اور کئی لوگوں نے تو کھل کر جامعہ کے ناظم کو برا بھلا کہا۔ جامعہ کے ایک اساتذہ نے بتایا کی جن لڑکوں کا اخراج ہوا ہے انکو مدرسے کے قوانین توڑنے کی وجہ سے ہوا ہے ناکہ این آر سی کو لیکر،انہوں نے مزید بتایا کی سوشل میڈیا پر غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔نا انکے کہیں پوسٹر لگے اور ناہی ناظم جامعہ نے کوئی دھمکی دی،جب ہم نے سوال کیا کہ جامعہ سے ان طالب علموں کا سامان پھینکا گیا تو انہوں نے کہا کی ان طالب علموں کو مدرسے کی گاڑی سے انکے سامان کے ساتھ چھوڑا گیا ہے۔لوگ غلط افواہ پھیلا رہے ہیں۔
وہیں مولانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جامعہ کا اندرونی معاملہ ہے، اس سے عوام کو یا آپ لوگوں کو کیا مطلب ہے؟ہم ناظرین سے کہیں گے کی اسکا جواب آپ خود تلاش کریں کی عوامی چندے سے چلنے والے مدارس و مکاتب وجامعات میں عوامی معاملہ ہے یا نہیں؟نوٹ۔ہمارے پاس ساری ریکارڈنگ موجود ہے۔وہیں دوسری طرف ہم ان تمام طلبہ سے کافی رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ اگر کوئی بھی طالب علم ہم سے رابطہ کرنا چاہے یا اپنی بات کو رکھنا چاہے ہمارے واٹ سپ نمبر پر یا پھر ہمارے پیج پر رابطہ کریں ہم انکی بھی آواز کو عوام تک پہنچائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں