تازہ ترین

جمعہ، 10 جنوری، 2020

داعش معاملہ بذریعہ گوگل پاکستان کے نقشہ کا معائنہ کرنا مضحکہ خیز الزام ہے، ایڈوکیٹ شریف شیخ ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ نے ملزم اللہ رکھاکی ضمانت عرضداشت پر فیصلہ محفوظ کرلی


ممبئی 10جنوری.  ممنوع تنظیم داعش کے توسط سے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا مبینہ منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت گرفتار اللہ رکھا ابو بکر منصوری نامی ملزم کی ضمانت عرضداشت پر آج ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دفاعی وکیل شریف شیخ نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ اس معاملے میں حالانکہ این آئی اے اور اے ٹی ایس نے چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن چارج شیٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہیکہ ملزم کو صرف اور صرف شک اور دیگرملزم کے بیانات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے نیز قانون کی نظر میں ایسے ثبوتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے نیزملزم کے خلاف انفرادی طور پر کوئی ثبوت تحقیقاتی دستہ عدالت میں پیش نہیں کرسکا ہے۔


ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس بی پی دھرم ادھیکاری اور جسٹس نتن بورکر کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے ملزم کے دفاع میں مقرر کیئے گئے وکیل شریف شیخ نے مزید بتایا گیا کہ خصوصی جج نے ضمانت عرضداشت مستر دکرتے ہو ئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملزم اللہ رکھا کے خلاف ویسے تو بالراست اور انفرادی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن اگر اس کا مقدمہ دیگر ملزم کے ساتھ منسلک کرکے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دونوں ملزمین نے ملکر کا سارش رچی تھی نیز دونوں ملزمین کے خیالات مجرمانہ ہیں۔ 

ایڈوکیت شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ صرف خیالات کی بنیاد پر ملزم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کرکے نہیں رکھاجاسکتا بلکہ تفتیشی ایجنسی کو ثابت کرنا ہوگاکہ وہ حقیقی طور پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔شریف شیخ نے دوران بحث عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم ماضی میں کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا لہذا اسے ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ اپنے خاندان کا اکلوتا کمانے والا فرد ہے جس کی گرفتاری کے بعد سے اس کا خاندان مفلسی کی حالت میں زندگی گذارنے پر مجبو رہے۔


ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے ملزم پر الزام عائد کیا ہیکہ ملزم نے بذریعہ گوگل پاکستان، کینڈا اور دیگر ملکوں کے نقشوں  معائنہ کیا تھا،شریف شیخ کے اس بیان پر دونوں ججوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مسکرادیا اور کمرہ عدالت میں موجود دیگر وکلاء بھی ہنسنے لگے جس کے بعد جسٹس دھرم ادھیکاری نے سرکاری وکیل چملکر کو کہا کہ وہ عدالت میں ملزم کے خلاف موجود ثبوت وشواہدپیش کریں۔
وکیل استغاثہ چملکر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے اور اس نے دیگر ملزم کی مدد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس تعلق سے اس نے گجرات میں واقع انڈین آئل کارپویشن کی عمارتوں کے فوٹوز بھی ارسال کیئے تھے۔


وکیل استغاثہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کے خلاف مفرور ملزم اور گرفتار شدہ ملزم فیصل مرزا کی مدد کرنے کے پختہ ثبوت موجود ہیں لہذا ملزم کو ضمانت پر نہیں رہا کیا جانا چائے۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کی ضمانت عرضداشت پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ دوران سماعت آج عدالت میں جمعیۃ علماء مہاراشٹرکی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ کی معاونت کرنے کے لیئے وکلاء متین شیخ، شاہد ندیم، ہیتالی سیٹھ، کرتیکا اگروال، عادل شیخ و دیگر موجود تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال تحقیقاتی دستوں نے ملزمین فیصل مرزا ور اللہ رکھا کو داعش کے ہم خیال اور ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف فرد جرم بھی عائد کیا تھا۔آج کی عدالتی کاررووائی کے اختتام پر جمعیۃ علماء قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وکلاء نے عدالت کے سامنے موثر طریقے سے بات رکھ دی ہے اور انہیں امید ہیکہ عدالت ثبوت وشواہد کی روشنی میں ملزم کی ضمانت عرضداشت پر مثبت فیصلہ کریگی۔

انہوں نے کہاکہ تفتیشی ایجنسی نے ملزم کے خلاف ثبوت وشواہد موجود ہونے کا جو دعوی کیا ہے اس کی قانونی حیثیت نہ کے برابر ہے لہذا انہیں عدالت سے امید ہیکہ وہ انشاء اللہ ملزم کے حق میں فیصلہ صادر کریگی۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad