ایک ایسے وقت میں جب کہ ہندوستان کی مرکزی حکومت کی انسانیت دشمنی پر پوری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے،ایک ایسے وقت میں جب کہ کروڑوں ہندو اور مسلمان ہندوستان کی ظالم حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہیں ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک کے جوان بچے ہندوستان کی مرکزی حکومت کے بدترین ظلم و زیادتی کے شکار ہیں،ایک ایسے وقت میں جبکہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جے این یو کے ہمارے بھائی بہناور بچے بچیاں، مرکز کی بھاجپا گورنمنٹ کے خلاف خون کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اسی ظالم حکومت کے خلاف اترپردیش میں ہمارے بے شمار بھائیوں نے جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا ہندوﺅں نے سڑکوں پر اتر کر اپنے اور ہم سب کے حق کی لڑائی لڑائی کا آغاز کیا ہے،مختلف طبقات کے غیرمسلم ہندوستان کی اسٹریٹ پر اترے ہوئے ہیں۔
اور حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف اپنا جان مال سب کچھ نچھاور کررہےہیں یہاں تک کہ موجودہ مرکزي حکومت کے خلاف ہندوستان کے باہر یوروپ، افریقہ اور خلیجی ممالک سے بھی آواز بلند ہورہی ہے ان کوششوں میں ادنٰی درجے پر ایک بہت ہی معمولی کارکن کے طورپر بڑے پیمانے پر کام کررہے ایکٹوسٹ کے ساتھ کہيں نا کہیں بندہ بھی شریک ہے،اسلیے بھی ہمیں اسوقت کے کاموں کی دشواریوں اور صبرآزما صعوبتوں کا کچھ احساس بھی ہے ایسے ماحول میں یہ خبر آرہی ہے کہ دیوبند مدرسہ کے فاضل ایک صحافی نے جن کا نام عبدالقادر شمس قاسمی جوکہ روزنامہ راشٹریہ سہارا میں صحافت کی ملازمت کرتے ہیں انہوں نے مرکزی حکومت کے مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکر کے ہاتھوں سے ایوارڈ وصول کیا ہے۔
ایک مولوی صحافی کی اس ابن الوقتی کو دیکھتا ہوں اور اُن بچوں کو یاد کرتاہوں جنہوں نے موجودہ ظالمانہ قوانین اور حکومت کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہندوستان کے صدرِ جمہوریہ کے ہاتھوں اپنی ڈگریاں لینے سے منع کردیا، تو مجھے اپنی علماء برادری کے عبدالقادر شمس قاسمی کی اس حرکت سے ذلت محسوس ہوتی ہے.نجانے وہ کونسی گھڑی ہوگی جب ایسے مردہ ضمیروں نے مدارس سے سند حاصل کرلی نجانے وہ کونسی منحوس گھڑی ہوگی جب ایسے بے شرم لوگوں نے ارنب گوسوامی، امیش دیوگن اور روہت سردانا کی کمی پوری کرنے کے لیے اردو صحافت کی دنیا میں قدم رکھا ہوگا ان سب سے بڑھ کر وہ لوگ موقع پرست، مفاد پرست اور بے غیرت ہیں جو عبدالقادر شمس قاسمی کو، بھاجپا کے ہاتھوں ایوارڈ ملنے پر مبارکباد دے رہےہیں مبارکباد دینے والوں کے پیش نظر بھی صرف یہی ہےکہ حکومت کے اس منظور نظر ایوارڈ یافتہ کی ہی سہی ہمیں خوشامد اور چاپلوسی حاصل ہوجائے۔
یہ ہماری قوم کے ایسے لوگ ہیں جو حکومت کے خلاف جاری عوامی تحریک کو کمزور کررہےہیں، تعلیم، صحافت اور ثقافت کے چوردروازے سے سرکار کو کمک پہنچا رہےہیں یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں دیکھ دیکھ کر ہنود بھی شرماتے ہیں ملک جب ایسے نازک گھڑی سے گزر رہاہے اور جب بالی ووڈ کے اداکاروں سے لے کر ملحدوں کا پورا دھڑا ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ظالموں کے خلاف سرتاپا احتجاج بنا ہوا ہے ایسےمیں حکومتوں کو عالمی سطح پر اپنی شبیه کو متوازن کرنے کے لیے ایسی تصاویر اور تقریبات کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جو بھی نسل پرست اور متعصب حکومت کی ایسی ضرورت کے لیے استعمال ہوگا وہ قوم و ملک کے مشترکہ کاز کا غدّار ہی کہلائے گا اسے دھتکارا جائےگا، اس کے ایوارڈ کو بے ضمیری اور بے غیرتی کا وظیفہ ہی کہا جائےگا۔
سمیع اللّٰہ خان

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں