نئی دہلی(یواین اے نیوز22جنوری2020)امتیازی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر آج (22/جنوری 2020) کی سپریم کورٹ کی کاروائی ملک و عوام کے فوری سلگتے مسائل کو حل کر پانے میں ناکام رہی۔ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے میں متنازعہ قانون پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا گیا، بلکہ اسے ملتوی کر دیا گیا۔ تاہم، یہ بڑی مایوس کن بات ہے کہ عدالت نے حتمی فیصلہ آنے تک حکومت کو قانون پر کوئی بھی عمل نہ کرنے کا حکم بھی نہیں دیا۔جب سے سی اے بی پارلیمنٹ میں پاس ہوا ہے، اسی وقت سے ملک بھر میں شہریوں کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ ان پر یہ خوف اور اندیشہ طاری ہے کہ اس قانون اور این پی آر اور این آر سی جیسے مرکزی حکومت کے دیگر فیصلوں کے ان کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
ان کاروائیوں کی وجہ سے جو مظاہرے ہو رہے ہیں، ان کا اثر عوام کے روزمرّہ کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ طلبہ، خواتین، بچے اور بزرگوں سمیت لاکھوں لوگ جو لگاتار گذشتہ کئی ہفتوں سے پورے ملک میں سڑکوں پر دن رات سراپا احتجاج ہیں، وہ عدلیہ سے فوری راحت کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن کوئی نتیجہ ملنے کے لئے ان کی انتظار کی گھڑی مزید کئی ہفتوں کے لئے بڑھا دی گئی۔سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے میں سی اے اے-این آر سی-این پی آر کے خلاف جاری ملک گیر احتجاجات کا کچھ حاصل نہیں ملا۔ بلاشبہ، اس سے آنے والے دنوں میں ان احتجاجات کو اور زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
سی اے اے کے خلاف لڑائی مذہب کی بنیاد پر شہریت کے حق سے محرومی کا سامنا کرنے والے لاکھوں لوگوں کی لڑائی سے کم نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ ہندوستان کے سیکولرزم و جمہوریت کی روح کو بچانے کی لڑائی ہے۔ یہ نفرت اور تشدد کی ہندوتوا سیاست کے خلاف پرامن و جمہوری طریقوں سے سیکولر ہندوستان کی نظریاتی لڑائی ہے۔لہٰذا حالات کا تقاضا ہے کہ ان مظاہروں کو اور زیادہ عزم و حوصلے کے ساتھ سپریم کورٹ میں قانون لڑتے ہوئے جاری رکھا جائے، جب تک کہ ملک آر ایس ایس- بی جے پی کے کنڑول سے آزاد نہ ہو جائے۔ آنے والے ایام میں پاپولر فرنٹ سڑکوں پر موجود تمام شہریوں اور جماعتوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں