تازہ ترین

پیر، 27 جنوری، 2020

ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملہ ہائی کورٹ سماعت شروع کیئے جانے کے حق میں،دفاعی وکلاء نے عدالت سے کہا کہ ابھی تک مکمل دستایزات مہیا نہیں کرائے گئے

ممبئی(یو این اے نیوز 27جنوری 2020)7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے میں آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے فریقین کو کہا کہ وہ بحث کرنے کے لیئے تیار رہیں جس پر دفاعی وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ابتک مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں کرایا گیا ہے خصوصاً نچلی عدالت کے ایسے قریب ڈھائی سو دستاویزات ہیں جن کی نقول ابھی تک دفاعی وکلاء اور ملزمین کو نہیں دی گئی ہے جس پر ہائی کورٹ نے استغاثہ کو حکم دیاکہ وہ دفاعی وکلاء کو جلد از جلد مطلوبہ دستاویزات مہیا کرائیں اور سماعت دو ہفتوں کے لیئے ملتوی کردی۔دو رکنی بینچ کے جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس سریندر تاؤڑے کو ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)کے وکلاء ادیتیہ مہتا، گورو بھوانی، شاہد ندیم، عبدالحفیظ، ہیتالی سیٹھ نے بتایا کہ اب تک انہیں استغاثہ کی جانب سے ملزمین کے خلاف داخل کیئے گئے دستاویزات میں سے ایسے ڈھائی سو دستاویزات موصول نہیں ہوئے ہیں۔

 جو کافی اہمیت کے حامل ہیں لہذا معاملے کی سماعت شروع کرنے سے قبل استغاثہ کو حکم دیا جائے کہ وہ دفاعی وکلاء کو دستاویزات مہیا کرائے۔اے ٹی ایس کی نمائندگی کرنے والے سرکاری وکیل راجا ٹھاکرے نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس معاملے میں بحث کرنے کے لیئے تیار ہیں اور اگلے دو ہفتوں کے اندر دفاعی وکلاء کو مطلوبہ دستاویزات مہیا کرانے کی کوشش کریں گے۔واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے نے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمین احتشام قطب الدین صدیقی، کمال انصاری، فیصل عطاء الرحمن شیخ، آصف بشیر اور نوید حسین کو پھانسی اور ۷/ ملزمین محمد علی شیخ، سہیل شیخ، ضمیر لطیف الرحمن، ڈاکٹر تنویر، مزمل عطاء الرحمن شیخ،ماجد شفیع، ساجد مرغوب انصاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

 جبکہ ایک ملزم عبدالواحید دین محمد کو باعزت بری کردیا تھا۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے کہا کہ دفاعی وکلاء بحث کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن جب تک انہیں مطلوبہ دستاویزات موصول نہیں ہوجاتے ان کے لیئے بحث کرنا ممکن نہیں ہوگا لہذا اگر استغاثہ انہیں ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دستاویزات مہیا کرادیتی ہے تو دفاعی وکلاء اس تعلق سے لائحہ عمل تیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی وکلاء نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کرنے کی تیاری بھی کررہے ہیں اور جلد ہی ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی جائے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad