تازہ ترین

بدھ، 22 جنوری، 2020

پیٹھن ضلع اورنگ آباد میں شہریت قانون اور این آرسی کے خلاف احتجاجی ریلی شہریت قانون ملک کے سیکولر دستور کے مغائر ہے،اسے فوری واپس لیا جائے ۔ مولانا ندیم صدیقی

اورنگ آباد(یواین اے نیوز 21جنوری2020) آج یہاں پٹھن ضلع اورنگ آباد میں سی اے اے این آرسی اور این پی آر جیسے کالے قانون کے خلاف سارے ہندو مسلم عوام کی جا نب سے ایک احتجاجی ریلی نہرو چوک سے لے کر کھنڈوبا مندر تک نکالی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں ہندو مسلم بھائیوں نے بہت جوش و خراش کے ساتھ شرکت کی اور بھر پور انداز میں اس کالے قانون کی مذمت کی ۔اس احتجاجی ریلی کے اختتام سے قبل جمعیۃ علما مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب ،جتیندر اوہاڑ صاحب ایم ایل اے کلوا ممبرا ،جناب نوشاد صاحب اورنگ آباد کے علاوہ تمام سماج اور دھرم سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران ،سیاسی لیڈران نے اپنے مشترکہ خطاب میںسی اے اے اور این آرسی کے نفاذ کی سخت مذمت کر تے ہوئے کہا کہ یہ قانون ملک کے سیکولر دستور کے مغائر ہے اس میں ایک خاص طبقہ کے ساتھ منافرت کا پہلو ہے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اسے فوری واپس لیا جائے ،این آرسی بھارتی عوام کی توہین ہے کہ انہیں بھارتی ہونے کا ثبوت دینا پڑے اس لئے این آرسی کو ریجیکٹ کیا جائے۔

اس موقع پر جمعیۃ علما مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے اس احتجاجی ریالی سے خطاب کر تے ہوئے فر مایا کہ ہمارا یہ احتجاج ہندو مسلم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے ،یہ دستور کی حفاظت ،سونودھان کی بقا ،اور ملک کی حفاظت کا معاملہ ہے ۔حکومت اس کو ہندو مسلم کا مسئلہ بنانا چاہتی ہے ،یہ مسئلہ ہندو مسلم کا ہے ہی نہیں ،یہ سنویدھان بچانے کی لڑائی ہے ،یہ ملک کی حفاظت اور انسانیت کو بچانے کی جنگ ہے ،جمعیۃ علما نے ہمیشہ انسانیت کی بھلائی کے لئے کام کیا ہے اور یہ کالا قانون انسانیت کی رواداری کے خلاف ہے اس لئے جمعیۃ علما صو بے بھر تمام احباب کے ساتھ احتجاج کر رہی ہے ،اگر حکومت نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو ہم اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت یہ قانون واپس نہ لے لے ۔ اس ریالی کو کامیاب بنانے میںشہر کی تمام ہندو مسلم بھائیوں نے سیاسی سماجی کارکنان نے بڑھ چرھ کر حصہ لیا ،بڑی کامیابی کے ساتھ یہ احتجاجی ریالی اختتام پذیر ہوئی ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad