تازہ ترین

اتوار، 12 جنوری، 2020

بی جے پی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے،دیش مسلسل تنزلی کی طرف بڑھتا جارہا ہے،سجادہ نشین عبدالرحمان خان

بھوگاؤں،مین پوری،حافظ محمد ذاکر(یواین اے نیوز 12جنوری2020)شہریت ترمیمی بل کی حمایت میں گزشتہ دن ضلع مین پوری میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریا نے (گزشتہ سنیچر کو)ایک عام عوام سے خطاب کے دوران کہا کہ (سی اے اے) سے کسی کی بھی شہریت پر آنچ نہیں آئیگی،صرف اتنا ہی نہیں بلکہ نائب وزیر اعلیٰ سی اے اے کی حمایت اور اس کی افادیت کو ثابت کر نے کے لئے ضلع کے کئی اہم مقامات چوراہوںپر گشت کے دوران عوام کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی کو بھی پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سلسلے میں ضلع کے لوگوں کے تاثرات:
خانقاہ رشیدیہ کے سجادہ نشین عبدالرحمان خان عرف ببلو میاں نے کہا کہ بی جے پی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے،دیش مسلسل تنزلی کی طرف بڑھتا جارہا ہے،ملک کی اقتصادی حالت بہت نازک ہے،بے روزگاری کے سبب نوجوان پریشان ہیں،کسان قرض میں ڈوب کر خود کشی کر رہا ہے،حکومت کو یہ چاہئے تھا مذکورہ باتوں پر دھیان دیتی،ملک کو ترقی کی طرف لیجا نے والے قدم اٹھا تی،مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا،اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ مودی اور شاہ کی اقتدار والی بی جے پی حکومت میں ملک کو چلانے کی صلاحیت ہی نہیں،اپنی ناکامیابیوں کو چھپانے کے لئے طرح طرح کے قوانین لاکر ملک کی عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے،برسر اقتدار لوگ ملک کے لوگوں کومذہب کے نام پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں،اور کچھ ناعقل لوگ ہی اس کو ملک کی ترقی سمجھ رہے ہیں۔

ہاشم منصوری نے کہا کیا صرف بی جے پی کے لیڈران کو ہی سی اے اے کی افادیت کا علم ہے،اس کے علاوہ سارا ملک سراپا احتتاج بنا ہوا ہے کیا وہ لوگ اس افادیت کو نہیں سمجھ پار ہے ہیں،؟کوئی تو وجہ ہے کہ ملک کی عوام شب و روز اس شہریت ترمیمی بل کی مخلافت کر رہی ہے،جس میں ملک کے بڑے بڑے دانشور، وکلائ، مصنفین،لیڈران،اداکار،سب کے سب سراپا حتجاج بنے ہو ہیں،آخر کوئی تو بات ہے کہ یہ شہریت ترمیمی بل بی جے پی والوں کے علاوہ کسی کے سمجھ میں نہیں آرہا ہے،انہو نے بغیر نام لئے نائب وزیر اعلیٰ پر تنز کستے ہوئے کہاکہ اگر یہ کسی اور پارٹی میں ہو تے تو ان کو بھی اپنی شہریت ثابت کر نے میں پسینے آجاتے،زاہد منصور نے کہا کہ یہ بل دستور ہند اور آئین کے سراسر خلاف ہے،جس میں مذہبی منافرت چھلکتی ہے،اقرار نے کہا کہ یہ بل ہندوستان کے مستقبل کے لئے ناسور ثابت ہوگا،یہ بل ہندو مسلمان کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کر نے والا ہے، اس کی اجازت ہمارے ملک کا آئین نہیں دیتا،اسی ضمن میں انہو نے کہا آئین کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہمارے ملک کی خوبصورتی ہندو مسلم سکھ عیسائی ایکتا میں ہی منحصر ہے،ہم سب ملکر ملک میں نفرت کو پنپنے نہیں دینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad