تازہ ترین

منگل، 7 جنوری، 2020

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا جے این یو طلبہ پر حملہ کی شدید مذمت اور وزیر داخلہ سے استعفی کا مطالبہ کیا

نئی دہلی (یواین اے نیوز 6جنوری2020)ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے جے این یو کے طلباء، طالبات و اساتذہ پر نقاب بردار غنڈوں کے ذریعہ حملہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ ملک کی راجدھانی میں موجود سب سے اعلی تریں یونیورسٹی کے اساتذہ، طلباء و طالبات پر لاٹھیوں اور لوہے کی راڈ س سے یہ حملہ لاقانونیت اور غنڈہ گردی کا بدترین مظاہرہ ہے جس کی قانوں اور درس گاہوں و جامعات کی حرمت پر یقین رکھنے والے ہر شخص کو شدید مذمت کرنی چاہیے۔

جب سے ملک میں بی جے پی برسراقتدار آئی ہے ایساُلگ رہا ہے جیسے ملک میں قانون کی حکمرانی ختم ہوگئی اور غنڈہ راج قائم ہوگیا ہے۔ پہلے ماب لنچنگ کے ذریعہ مسلمانوں کے غریب اور کمزور افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ پارلیمنٹ سے اکثریت کے زعم میں عوام مخالف فیصلے کئے گئے اور قانوں بنائے گئے، آزاد جمہوری اداروں کی خود مختاری کو پامال کیا گیا، عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کو متاثر کیا گیا، یہاں تک سپریم کورٹ کے سینئر ججوں کو میڈیا کے ذریعہ اپنا احتجاج درج کرانا پڑا۔

اب جب سی اے اے, این آر سی  اوراین پی آر کے ذریعہ لوگوں کی شہریت پر ہی سوال کھڑے کئے جارہے ہیں تو پورے ملک کے طلباء بالخصوص اور مسلمان بالعموم اس کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جمہوریت میں اختلاف رائے اور احتجاج کرنے کا حق ایک بنیادی حق ہے۔ پرامن ا حتجاج کو پولس کی لاٹھیوں اور گولیوں سے کچلنے کی کوشش ملک میں لاقانونیت اور انار کی کو جنم دے رہی ہے۔ڈاکٹر الیاس نے آگے کہاکہ طلباء و اساتذہ پر ماسک بردار غنڈوں کے ذریعہ حملہ کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ بالخصوص وائس چانسلر اور رجسٹرار براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح دہلی پولس پر بھی جوابدہی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس وقت خاموش تماشائی بنی رہی۔

 دہلی پولس چونکہ مرکزی وزیر داخلہ کے ماتحت ہے لہذا محترم امت شاہ بھی اس کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔لہذا ویلفیر پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ وزیر داخلہ مسٹر امت شاہ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر مسٹر جگدیش کمار اور دہلی کے پولس کمشنر فی الفور اپنے عہدوں سے استعفی دیں۔ویلفیر پارٹی مزید یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ جن طلباء و اساتذہ کو سخت چوٹیں آئی ہیں اور جو نقصانات ہوئے ہیں اس کی بھر پائی کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ، وزیر داخلہ اور موجود پولس افسران سے جرمانہ وصول کرکے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad