پٹنہ(یواین اے نیوز 12جنوری2020)امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے این آر سی، سی سے اے اور این پی آر کے خلاف ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی سیاہ قانون ہے،جو ملک کی سالمیت، جمہوریت اور سیکولرزم پر حملہ ہے اور اس کے تانے بانے کو ختم کرنے کے لیے لایا گیا ہے، اس قانون نے ہندوستانی آئین اور دستور کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ اس قانون کے ذریعہ حکومت نے ہندوستانی آئین اور دستور میں دیے گئے مساوات اور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق نہ کرنے کی یقین دہانی ختم کر دی ہے، اور آئین کی روح کے خلاف قانون پاس کر لیا ہے۔
جو سراسر ظالمانہ اور آمرانہ ہے۔ یہاں تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی ملک کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہہ پڑے کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گذر رہا ہے، انہوں نے سی اے اے کو آئینی قرار دینے کی ایک پٹیشن پر سنوائی کرتے ہوئے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس قانون کو سپریم کورٹ آئینی قرار دے اور سبھی ریاستوں کے لیے اس قانون کے نفاذ کو لازمی قرار دے،چیف جسٹس نے کہا کہ اس کو لے کرکافی تشدد ہو رہا ہے، آپ اور پریشانی پیداکرنا چاہتے ہیں، ہم ایک مشکل دور سے گذر رہے ہیں، آپ ایسا مشورہ دیںجس سے امن پیدا ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں