عوام سے شرکت کی گزارش اورکالے قانون کی واپسی تک پر امن جدوجہد کا عزم:پاسبان آئین ہند کمیٹی کا اعلان
کالا قانون سی اے اے،این آر سی کے خلاف اوریونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ تشدد کی مذمت میں پاسبان آئین ہند کمیٹی کی پریس کانفرنس
مالیگاؤں(یواین اے نیوز 14جنوری2020) دستور کے تئیں سی اے اے، این آر سی اور این پی آرکو لے کر بھارت بھر میں بے چینی کا ماحول ہے۔ مذہب کے نام پر بنائے گئے اس قانون سے بھارت کا مشترکہ ورثہ اور بھائی چارہ نفرت کی نذر ہو رہا ہے۔ بھارتی عوام کی یہ توہین بھی ہے کہ ان سے شہری ہونے کا ثبوت مانگا جا رہا ہے۔ایسے کالے قانو ن کی مخالفت اور بھارتی آئین کی حفاظت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے پُر امن ’’ترنگا مارچ‘‘ 19؍ جنوری 2020ء اتوار کی صبح 10؍بجے شہیدوں کی یادگارکے پاس سے علمائے اہلسنّت و ائمہ کرام کی قیادت میں نکالا جائے گا۔ جو امام احمد رضا عیدگاہ (دریگاؤں) پر ختم ہوگا۔جہاں کالے قانون کے خاتمہ اور ملک میں قیامِ امن کے لیے دعائیہ مجلس کا انعقاد ہوگا۔یہ پہلو بھی تشویش ناک ہے کہ حکومت نفرتوںکو بڑھاوا دینے کا کام کر رہی ہے۔یونیورسٹی اور تعلیم گاہوں میں ملک کی ترقی کے لیے محبانِ وطن تیار کیے جاتے ہیں؛ ایسے تعلیمی مراکز بھی اب تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی بچیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تشدد کی پاسبانِ آئین ہند کمیٹی نے مذمت کی۔
اور یہ مطالبہ دھرایا کہ :[۱] سی اے اے آئین ہند کی دفعات ۱۴،۱۵ اور دیگر کئی آئینی بنیادوں کے خلاف ہے اس لیے اسے فوری طور پر حکومت واپس لے۔ مذہب کے نام پر یہ کالا قانون ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔[۲] بھارتی عوام این آر سی اور این پی آرسے سخت تشویش میں مبتلا ہے۔ لوگوں کا سکون غارت ہو گیا ہے۔ پورا ملک اس کے خلاف احتجاج کر رہا ہے اس لیے ایسے کالے قانون بھی واپس لیے جائیں۔ جب تک یہ کالے قانون واپس نہیں لیے جاتے جمہوری احتجاج جاری رہے گا۔ ملک کے آئین کے تحفظ کے مقصد سے پاسبانِ آئین ہند کمیٹی جس میں شہر بھر کے علما، ائمہ اور سرکردہ افراد شامل ہیں کی طرف سے پُر امن احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔[۳] یونیورسٹیوں میں حملہ کرنے والے غنڈوں اور باوردی اہلکاروں کے خلاف بھارتی آئین کے مطابق کارروائی کا پورا ملک منتظر ہے۔
اس طرح کا پریس نوٹ پاسبانِ آئین ہند کمیٹی مالیگاؤں کے مفتی نورالحسن مصباحی، مولانا احمد رضا ازہری، مفتی نعیم رضا مصباحی، مفتی محمد عرفان مصباحی نے کمیٹی سے منسلک تمام ذمہ داروں کی طرف سے جاری کیا۔اور یہ اپیل کی ہے کہ 19؍جنوری اتوار کی صبح10؍بجے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ’’ترنگا مارچ‘‘ میں ترنگے پرچم کے ساتھ شریک ہوں۔قائدین نے یہ بھی کہا کہ شہر کی تمام کلبیں، ادارے، انجمن، طلبہ اور اساتذہ بھی شریک ہوں۔ نیز اختتام پر امام احمد رضا عید گاہ میں ہونے والی دعائیہ مجلس میں بھی مع احباب شرکت کریں۔واضح ہو کہ یہ دعائیہ مجلس صرف مَردوں کے لیے ہوگی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں