تحریر۔مفتی حسین احمد
تمام عمر ہمیں آنسو سنبھالنے ہونگے
رواں سال میں شيخ عبدالحق اعظمی شيخ ثانی دارالعلوم ديوبند ، شيخ محمد يونس صاحب شيخ الحدیث جامعہ مظاهر علوم اور اديب جليل مولانا رياست علي ظفر بجنوري استاد دارالعلوم ديوبند كے بعد ابھی ماہ نومبر میں صاحبزادہ حكيم الاسلام حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی جيسي بلند و بالا دينى و علمى شخصیات كے سانحات رحلت كے دل دوز جھٹکوں سے هم سنبهل بھی نہیں پائے تھے کہ اب اچانک نومبر کی آخری صبح کو یہ المناک خبر موصول ہونے لگی کہ نباض وقت رئیس التحریر والتدبیر شیخ طریقت استاذی و مرشدی حضرت مولاناو مفتی محمد عبداللہ پھولپوری نے عاشقوں کی پاک سرزمین مکہ مکرمہ میں (جہاں آپ محبوب کی گلیوں کا طواف کرنے کیلئے ہر سال دیوانہ وار حاضر ہوتے تھے) محبوب حقیقی سے ملنے کی خاطر داعئ اجل کو لبیک کہ دیا (انا للہ وانا الیہ راجعون)شیخ الحدیث حضرت مفتی محمد عبداللہ پھولپوری (پ:1960 -- م: 30 نومبر 2017) ابن ابوالبرکات ابن مولانا الشاہ عبدالغنی پھولپوری محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق نوراللہ مرقدہ کے بڑے خلفاء میں سے تھے اور آپ کے دادا حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری قدس سرہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کے خلیفئہ اجل تھے حضرت پھولپوری ثانی علمیت ادبیت دانشوری اور روحانیت کے ساتھ اپنی مختصر سی زندگی میں ہمہ وقت فعال اور متحرک رہے مدرسہ و خانقاہ سے لیکر چوٹی کے کچھ نیک طینت مسلم رہنماؤں کی رہنمائی وسرپرستی اور اسفار آپ کا کاروبار حیات رہا ؛ مدرسہ عربیہ بیت العوم سرائے میر اعظم گڑھ جس میں موقوف علیہ تک کی ہی تعلیم ہوتی تھی اس میں نابغئہ روزگار اساتذہ کو لاکر دورہ حدیث شریف کا آغاز کروایا پھر افتاء تکمیل ادب اور تخصص کے شعبوں تک اس کو ترقی دی نیز تعمیری حیثیت سے وسیع وعریض اور مستحکم دارالتحفیظ اور نہایت خوبصورت و کشادہ دارالحدیث کی تعمیر آپ کا اہم تعمیری کارنامہ ہے بلا مبالغہ اللہ نے آپ کو بلاکی ذہانت اور اصابت رائے عطا فرمایا تھا پہلی نظر میں ہی معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے اور چند سیکنڈ میں جو رائے ظاہر فرما دیتے دوسروں کو گھنٹوں غور و فکر کے بعد بطور فیصلہ اسی کو حرف آخر تسلیم کرنا پڑتا راقم الحروف نے دو سال آپ سے کسب فیض کیا سال اول میں بخاری شریف جلد ثانی دوسرے سال میں الاشباہ والنظائر اور رسم المفتی جیسی بڑی اہم کتابیں آپ سے پڑھنے کی سعادت حاصل رہی ان دو سالوں میں کسی دن کا درس ایسا نہیں گذرا جسمیں آپ نے فکر معاد کے ساتھ ساتھ اہمیت معاش کا سبق نہ پڑھایا ہو بالفاظ دیگر آپ کی گفتگو فی الدنیا حسنہ اور فی الاخرہ حسنہ کی تفسیر ہوتی تھی اسی سلسلے میں اکثر یہ بھی فرماتے تھے "دھوکہ دینا دین کی کمی ہے اور دھوکہ کھانا عقل کی کمی ہے" 149
آپ کا علمی استحضار بہت غضب کا تھا جس کا اندازہ آپ کے اس معمول سے بھی بخوبی ہوتا ہیکہ کسی بھی مجلس میں قاری اپنی طبیعت اور مرضی کے مطابق جن آیات کی تلاوت کرتا حضرت وال کا بیان اس مجلس میں برجستہ انہیں آیات کریمہ کی روشنی میں ہوتا وہ بھی بایں انداز کہ ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر یوں کی ہے ابو عبداللہ اسماعیل البخاری نے اس پر یہ باب باندھا ہے اور حکیم الامت حضرت تھانوی نے اس سے سلوک کا فلاں مسئلہ مستنبط فرمایا ہے وھکذا مزید یہ کہ درمیان میں احادیث پاک کے علاوہ اسلاف کے اقوال و ملفوظات مستند حوالوں کے ساتھ اور مثنوی شریف کے معارف بھی شستہ زبان میں بیان ہوتے چلے جاتے تھے
حضرت پھولپوری ثانی رح اس دور انحطاط میں منفرد رنگ کے عالم با صفا تھے علمی رسوخ اور عملی پختگی کے ساتھ وقت اور حالات کی نبض شناسی انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے اور جامع الکمات اسلاف کرام کے ہم مرتبہ ٹھہراتی ہے آپ کے بے حد حسین سرخ و سفید نورانی چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی البتہ دوران درس و وعظ آنکھیں نم بھی ہو جاتی تھیں خاص طور پر مکی زندگی کے شدائد ؛ واقعئہ افک ؛ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بے رحمانہ شہادت کے بیان اور ایسے ہی دیگر مقامات پر بکثرت ایسا ہوتا تھا کہ آپ اچانک خاموش ہو جاتے آنکھیں بند کر آنسؤں کو دل کی زمین پر برساتے اور کچھ دیر بعد پھر گفتگو شروع فرماتے لیکن کبھی کبھی کچھ قطرے آپ کو انگلی کے پوروں پر بھی سنبھالنے پڑ جاتے تھے اب آپ کے بعد ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں فیض یافتگان کو آپ کا تذکرہ کرتے ہوئے تمام عمر آنسو سنبھالنے پڑیں گے - اللہ ہمیں صبر جمیل دے اور نعم البدل عطا فرمائے آمین
مفتی حسین احمد ھمدم
ناظم مدرسہ عزیزیہ ملت نگر ارریہ بہار

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں