شکیل بن حنیف، غلام قادیانی جیسے فتنوں سے مسلمانوں کو بچانے کے تمام علماء کی ذمہ داری،مفتی محمد حذیفہ قاسمی
کانپور(یواین اےنیوز3نومبر2107)اسلام کے اساسی عقائد میں’’توحید‘‘یعنی اللہ کو ایک ماننا،اس کی ذات و صفات میں کسی کوشریک نہ کرنا اور ’’رسالت ‘‘ یعنی حضرت محمد عربی ﷺ کو نبی اور آخر ی نبی ماننا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و فرامین یعنی ’’احادیث مبارکہ ‘‘کو حجت ماننا انہیں بنیادی عقائد کوسمجھانے اور عوام وخواص کے دین و ایمان کو اپنے اور اپنے اہل خانہ ،بچوں وبچیوں ،آئندہ آنے والی نسل کو دین وایمان پر باقی رکھنے ،اس فکر کو پیدا کرنے کے لئے اور راہ حق سے منحرف کرنے کی کوشش سے باخبر کرنے ، خود اور اپنے متعلقین و احباب کودین حق سے انحراف سے محفوظ رکھنے کیلئے مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کی جانب سے مورخہ 10؍نومبر بروز جمعہ بعد عشاء آئی اے ریزارٹ واجدپور جاجمؤ میں ایک روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے ۔ اس کی تیاریاں شباب پر ہیں ۔ اسی سلسلے میں حلقہ جاجمؤ کے علماء وائمہ مساجد کی اہم نشست جامع مسجد اشرف آباد جاجمؤ میں منعقد ہو ئی جس میں بطور مہمان خصوصی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم تنظیم مشہور عالم دین مولانا مفتی سید محمد حذیفہ صاحب قاسمی نے شرکت کی ۔ مولانا حذیفہ قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دین اسلام میں توحید اور آخرت کے بعد ایک اہم اساسی اور بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کے محبوب پیغمبر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں ،آپؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی آنے والانہیں ہے۔اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام جوبنی اسرائیل کے نبی تھے جنہیں بغیر باپ کے اللہ نے اپنی قدرت سے پیدا کیااور پھر زندہ آسمان پراٹھا لیا ،قرب قیامت جب حضرت مہدی کا ظہور ہو چکا ہوگا اور اسلامی فوجیں ان کی قیادت میں دجالی اور طاغوتی طاقتوں سے بر سر پیکار ہوں گی ،اور اسلامی فوج کچھ کمزور پڑ رہی ہوگی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کانزول ہوگا وہ دجال کو قتل کریں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کی نسل کا خاتمہ کریں گے۔ یہ تمام عقائد ختم نبوت ، ظہور مہدی ، نزول مسیح پوری کیفیات و علامات کے ساتھ قرآن و حدیث میں واضح طور پر مذکورہے۔ لیکن سادہ لوح مسلم عوام کو دین حق سے بہکانے اور ذات ختم رسالت سے ان کے رشتے کو کاٹنے کیلئے ہر دور میں کچھ ایسے بدبخت روئے زمین پر رونما ہوتے رہے جو مہدویت ، مسیحیت یا نبوت کا دعویٰ کرکے ناموس رسالت پرحملہ کرنے کی مذموم کوشش کرتے رہے۔ انہیں فتنوں میں سے مرزا غلام احمد قادیانی کا برپا کردہ فتنہ قادیانیت ،غلام احمد پرویز کا رائج کردہ فتنہ انکار حدیث اور شکیل بن حنیف کا دور حاضر کا نیا فتنہ شکیلیت ہے ۔ یہ تمام فتنے ہمارے شہر تک پہنچ چکے ہیں۔ ان فتنوں کے بانیین کی اپنی کوئی علمی حیثیت نہیں لیکن ان کی پشت پرطاغوتی طاقتیں ہیں جو انہیں قوت فراہم کرتی رہتی ہیں اور ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر گولی چلاتی رہتی ہیں۔ تمام علماء ، ائمہ اور عوام الناس کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان فتنوں کی سنگینی کو محسوس کریں اور ان کا قلعہ قمع کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر ہم نے موضوع کی اہمیت کو نہیں سمجھا تو وہ وقت دور نہیں کہ ہمارا بیٹا ، ہمارا بھائی ، ہمارے خاندان کے افراد اس فتنے کا شکار ہو جائیں اور ہمیں پتہ بھی نہ چلے۔ اجلاس کے نگراں مجلس تحفظ ختم نبوت کانپورکے صدر مولانامحمد متین الحق اسامہ قاسمی قائم مقام قاضی شہر کانپور نے شہر ،اطراف شہر اور ملکی صورتحال پرمنحرف فکر رکھنے والوں کا تعارف کراکر مسئلہ کی اہمیت اجاگر کیا۔ تمام شرکاء مجلس علماء ،ائمہ نے اجلاس کو بھرپور کامیابی اور اجلاس کے بعد بھی ہمیشہ لوگوں کے ایمان واخلاق کی نگرانی اور عقائد و اعمال کا تحفظ کرتے رہنے اور کسی بھی فتنہ سے باخبر رکھنے اور محفوظ رکھنے کی جدوجہد کا نشست میں وعدہ اور عہد کیا۔ نشست میں مولانا عبد الغفار قاسمی، حافظ نور الہدی جامعی، مولانا عرفان احمد قاسمی، مولانا عبد التواب قاسمی، مولانا محمد شریف قاسمی ،مفتی محمد ناصر جامعی، مفتی عزیز الرحمان قاسمی، مفتی اسعدالدین قاسمی،حافظ محمد جمیل ، مولانا محمد ریاض قاسمی ،مولانا شرف الدین ، مولانا عبد الوکیل ، مولانا ریاست علی ، مولانا محمد عیسیٰ ، مولانا غلام محمد مظاہری،حافظ محمد جمیل کے علاوہ دیگر علماء کرام و ائمہ مساجد موجود تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں