تازہ ترین

جمعہ، 3 نومبر، 2017

ہندویواواہنی کے صوبائی سیکریٹری ناگیندر پرتاپ نے جمعہ کے خطبے پر کی بے تکی باتیں، علماء دیوبند نے کہا مسجد کے دروازے سب کے لئیے کھلے ہیں، وہ بھی آکر سنیں خطبہ۔


ہندویواواہنی کے صوبائی سیکریٹری ناگیندر پرتاپ نے جمعہ کے خطبے پر کی بے تکی باتیں، علماء دیوبند نے کہا مسجد کے دروازے سب کے لئیے کھلے ہیں، وہ بھی آکر سنیں خطبہ۔
دیوبند،رپورٹ،فیروز خان(یواین اےنیوز3نومبر2017)ہندو یوا واہنی کے صوبائی سکریٹری ناگیندر پرتاپ کی جانب سے جمعہ کی نماز سے قبل دئیے جانے والے خطبہ پر کی جانے والی بے تکی بیان بازی کو دیوبند کے علماء نے غلط اور سیاسی پینترے بازی بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجدوں کے دروازے سب کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور مسجدوں میں جانے کی سبھی کو اجازت ہے اس لئے انہوں نے ناگیندر پرتاپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود مسجد میں جاکر خطبہ کو سنیں اور معلوم کریں کہ خطبہ کے ذریعہ نمازیوں کو کیا باتیں بتائی جاتی ہیں۔ یوپی رابطہ کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ دینیات سے منسلک ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے ناگیندر پرتاپ کی جانب سے نماز جمعہ سے قبل خطبہ دئیے جانے کے سلسلہ میں بے تکی بیان بازی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناگیندر پرتاپ کا یہ کہنا کہ مساجد میں نماز سے پہلے دئیے جانے والے خطبہ میں عبادت کرنے کی باتوں کے علاوہ نمازیوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم نے لڑکر پاکستان لیا تھا، اب ہنس کر ہندوستان لیں گے۔ اس کے علاوہ شرح پیدائش نے اضافہ کی باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ اردو اور عربی سے نابلد شخص ناگیندر کو یہ منگھڑت کہانی کہاں سے معلوم ہوئیں۔ انہوں نے ہندو یوا واہنی کے لیڈر کی جانب سے اسطرح کے زہریلے بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزیر اعلی ہندو مسلم اتحاد کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کے گرگے اپنی فتنہ انگیزیوں سے کسی طرح باز نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ایسے فتنہ گروں کی زبانوں کو بند کرنا نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ مساجد میں خاص طور پر جمعہ سے پہلے دئیے جانے والے خطبات میں کسی قسم کی دنیاوی باتیں نہیں کی جاتی بلکہ خطبات کے دوران نمازیوں کو دین کی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ ان باتوں کا کسی دنیاوی کام یا فتنہ گری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور ان کا استعمال صرف اور صرف خدا کی عبادت کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں دنیاوی مسائل پر بحث ومباحثے نہیں کئے جاتے۔ ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ جو تنگ نظر لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں انہیں مسجدوں میں آنے کی کھلی دعوت ہے وہ آئیں اور دیکھیں کہ مساجد میں خطبات کے ذریعہ کس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مسلسل نفرت انگیز بیان بازیاں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے پیدا کر رہی ہیں، جو ملک کے لئے نقصان دہ ہے، اس لئے اس طرح کی بیان بازی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان کی بیان بازیوں کی جانچ ہونی چاہئے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad