قصہ عقد مسنون مولانا طاہر مدنی کا
ستمبر 1982 کا واقعہ ہے، میں ان دنوں مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا اور چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا، جامعة الفلاح بلرياگنج أعظم گڑھ میں واقع ہے اور میرا گاؤں زمین رسول پور وہاں سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، ہمارے والد محترم مولانا صغیر احسن اصلاحی مرحوم جامعہ میں حدیث و فقہ کے استاذ تھے، اتفاق سے میرا سبجیکٹ بھی وہی ہے اور میرے صاحب زادے عبیداللہ طاھر سلمہ جو اس وقت مدینہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی دلچسپی کا مضمون بھی یہی ہے، اس طرح تیسری پشت تک روایت برقرار ہے. والد صاحب کے ایک پرانے دوست جناب ماسٹر عبد الجليل مرحوم شبلی کالج میں استاذ تھے، گاؤں ہی کے رہنے والے اور رکن جماعت تھے، وہ چند روز بعد سفر حج کیلئے روانہ ہونے والے تھے. سفر سے قبل انہوں نے اپنی بچی کے نکاح کا پروگرام بنایا اور تاریخ طے ہوگئی، لیکن لڑکا شاید آمادہ نھیں تھا، چنانچہ عین وقت پر وہ لاپتہ ہوگیا اور مجلس بغیر نکاح کے برخاست ہوگئی، یہ ایک تکلیف دہ واقعہ تھا اور ماسٹر صاحب کے اعزاء و احباب کو بڑا صدمہ ہوا، بالخصوص اس وجہ سے کہ ان کی سفر حج کیلئے روانگی میں محض چند دن باقی تھے، والد محترم بھت سادہ مزاج تھے اور شادی بیاہ کے معاملات میں سادگی پسند فرماتے تھے، ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ اپنے رفیق کا غم ہلکا کریں اور ان کے سفر سے قبل ہی متبادل نظم کردیں. واقعہ کے دو روز بعد میں جامعہ اپنے دوست شیخ علیم الحق عمری حفظہ اللہ سے ملاقات کیلئے آیا تھا جو ان دنوں طلبہ کو حدیث پڑھاتے تھے، بعد عصر والد محترم نے مجھ سے کھا کہ ماسٹر صاحب کے ساتھ جو سانحہ ہوا ہے، تم جانتے ہو، وہ حج کیلئے جانے والے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اتنے لمبے اور طویل سفر میں ایک بوجھ لے کر جائیں، اس لیے میری خواہش ہے کہ ان کی بچی کا نکاح تم سے ہوجائے، میں نے کہا؛ جیسا آپ کا حکم ہو. والد صاحب جلد فیصلہ کرنے کے عادی تھے، انھوں نے کہا کہ مغرب کی نماز مسجد بازار خاص میں پڑھو، اسی کے قریب ان دنوں ماسٹر صاحب کی رہائش گاہ تھی. اس دوران والد صاحب نے ان سے بات کی ہوگی، میں چند احباب کے ساتھ مغرب میں وہاں پھونچ گیا، نماز بعد اعلان ہوا کہ سنتوں کے بعد آپ حضرات تشریف رکھیں، ایک نکاح ہوگا، لوگ حیران تھے کہ اچانک کس کا نکاح ہونے والا ہے، مجلس نکاح منعقد ہوئی اور مولانا محمد عیسی قاسمی حفظہ اللہ نے میرا نکاح پڑھایا، دعائیں دی اور خورمہ تقسیم ہوا. اس وقت تک ہمارے گھر والدہ محترمہ وغیرہ کو کوئی خبر نہ تھی، بعد از نکاح جب میں والد محترم کے ساتھ گاؤں پھونچا، تب لوگوں کو اطلاع ہوئی، سب نے والد محترم کے فیصلے کا احترام کیا اور اگلے دن سادگی سے رخصتی ہوگئی، ایک دن بعد ماسٹر صاحب بھی سفر حج پر روانہ ہوگئے، چھٹیوں کے بعد میں جب مدینہ پھونچا تو خدمت کا بھی موقع ملا. ھمارے والد محترم فرمایا کرتے تھے کہ رشتے لگائے نھیں جاتے بلکہ یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ رشتہ کہاں لگا ہوا ہے، اس کا عملی تجربہ خود اپنے نکاح میں ہوا.
اللہ کا شکر و احسان ہے آج 35 برس کا عرصہ گزر گیا، اللہ نے بڑی پر سکون عائلی زندگی عطا فرمائی، اہلیہ محترمہ بھی جامعہ میں فقہ پڑھاتی ہیں، جامعة الصالحات رام پور سے فارغ ہیں، پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بڑا بیٹا عبداللہ طاھر لکھنؤ کے ایک کالج میں میتھ اور کیمسٹری پڑھا رہا ہے، اس کے بعد کے دو عبید اللہ طاھر اور عبد الرحمن طاھر مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور رابع عبید الرحمن طاھر، جامعہ سے فضیلت کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، ماشاءاللہ حافظ قرآن بھی ہے، پانچواں فضل الرحمن طاھر جامعہ میں عربی اول کا طالب علم ہے اور بیٹی کلیہ البنات میں عالمہ پنجم کی طالبہ ہے. عبد اللہ اور عبیداللہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہو چکے ہیں اور ماشاء اللہ اب میں پوتے پوتی والا ہوچکا ہوں، دونوں بیٹوں کی شادی میں نے سادگی سے بغیر بارات و جہیز کے انجام دی. اس وقت اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ نکاح سادگی سے کرنے کی مہم چلائی جائے اور اسے رسوم و رواج کے بوجھل بندھنوں سے آزاد کرایا جائے.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں