تازہ ترین

بدھ، 29 نومبر، 2017

حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ آئین کی پیروی کرتے ہوئے خواتین کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے۔ ومن انڈیا موؤمنٹ


حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ آئین کی پیروی کرتے ہوئے خواتین کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے۔ ومن انڈیا موؤمنٹ
چنئی (یواین اےنیوز29نومبر2017) ۔ومن انڈیا موؤمنٹ (ڈبلیو،آ‏ئی،ایم) کی قومی ایگزیکٹیوکمیٹی کا اجلاس ومن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر یاسمین فاروقی کی صدارت میں گزشتہ 19نومبر کو چنئی میں منعقد ہوئی ۔ اجلاس میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ،خواتین کی حفاظت، ملک میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور عدم تحفظ کے ماحول پر غور و خوص کیا گیا اور اجلاس کے اختتام میں تین اہم قراردادمنظور کئے گئے۔ 1)۔ ہادیہ کی رہائی : ہادیہ کے مقدمے سے خواتین تنظیموں کے ساتھ ساتھ متعلقہ شہری بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ ہادیہ نے گزشتہ دو سال قبل ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور اپنی آزادی کے لیے گزشتہ دو سال سے وہ قانونی لڑائی لڑتی آرہی ہیں۔ ومن انڈیا موؤمنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ کیرلا ریاستی خواتین کمیشن نے ہادیہ کے خلاف ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تعلق سے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ خواتین کمیشن کو ہادیہ سے ملاقات کرنا چاہئے اور ہادیہ کو ہراساں کرنے کے الزامات کی صفائی دینی چاہئے۔2)۔ قیمتوں میں اضافہ: نریندرمودی کی قیادت والی این ڈی اےحکومت میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا تمام ریکارڈ توڑدیا ہے۔ اچھے دن اور وکاس کا دور دور تک نشان نہیں ہے۔ ضروری اشیاء کی قیمتوں کے اضافے سے عام آدمی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح بی جے پی کے نزدیکی رکھنے والے کچھ سرمایہ دار دالوں کی اضافی قیمتوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ خام تیل کی بین الاقوامی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ حکومت ایندھن پر زیادہ ٹیکس لگا رہی ہے حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی قیمت فی لیٹر 38/-روپئے ہونی چاہئے۔نوٹ منسوخی اور حی ایس ٹی سے عام عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ حکومت کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں گرام دال کی قیمت 75%فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مئی 2014 میں گرام دال کی قیمت اوسطا49/-روپئے فی کلو تھی جو اب بڑھ کر 86/-روپئے فی کلو ہوگئی ہے۔ ارد دال کی قیمت مئی 2014میں 68/-روپئے فی کلو تھی جو اب بڑھ کر 99/-روپئے فی کلو ہوگئی ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں ارہر کی دال کی قیمت میں 24%فیصد اضافہ ہوا ہے۔جس سے فی کلوارہر کی دال 200/-روپئے ہوگئی ہے۔ اسی طرح شکر کے دام بھی گزشتہ سے ایک سال سے فی کلو 50/-روپئے سے تجاوز کرچکی ہے۔ نریندر مودی حکومت کے پہلے ہی سال میں پیاز کی قیمت 100/- روپئے فی کلو سے تجاوز کرچکی ہے۔ سرسوں کا تیل بھی 150/-روپئے فی کلو کی قیمت تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے صورتحال میں ومن انڈیا موؤمنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ تمام ضروری اشیاء کی قیمتوں کو مناسب قیمتوں میں مہیا کیا جانا چاہئے اور دوائیوں کی قیمتوں پر بھی قابو لانا چاہئے۔ ذخیرہ اندوزوں اور کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ ایگری کلچرپروڈیکٹ مارکیٹ کمیٹی کو مضبوط کرنا چاہئے تاکہ تاجروں کی دھاندلیوں کو روکا جاسکا اور اےپی ایم سی کسانوں تک پہنچ کر ان سے خریداری کرسکیں۔ اسی طرح ضروری اشیاء کے در آمد پر سخت کنٹرول کیا جائے اورگندم پر درآمد ڈیوٹی کو دوبارہ نافذ کیا جائے۔ پٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے مارکیٹ سے ڈیلی کیاجائے،مرکزی حکومت کے ڈیوٹی اور ٹیکس کوکم کیا جائے اور رعایتی شرح میں گیس سلنڈر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ 3)۔ نجیب کی ماں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ جواہر لعل یونیورسٹی کا طالب علم نجیب احمد عمر 27سال جو گزشتہ 15اکتوبر 2016سے مبینہ طور پر غائب ہونے کے ایک دن قبل آر ایس ایس کے اسٹوڈنٹس ونگ اے بی وی پی کے اراکین سے ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ نجیب کے لا پتہ ہونے کے بعد جےاین یوکے اس وقت کے ذمہ داروں نے اے بی وی پی  پر نجیب کو اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جس کے بعد دہلی پولیس نے دفعہ 365کے تحت مقدمہ درج کرکے نجیب پر کسی بھی معلومات بہم پہنچانے پر نقد انعام دینے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن نجیب کو لاپتہ ہوئے ایک سال گذر جانے کے بعد بھی پولیس نجیب کو تلاش کرنے میں ناکام ہے۔ نجیب کی ماں فاطمہ نفیس سڑکوں پر احتجاج کرتی آرہی ہیں اور انتطامیہ سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ نجیب کو تلاش کرکے دیا جائے۔ لیکن مدر انڈیا کی پوجا کرنے کی تلقین کرنے والوں نے نئی دہلی میں فاطمہ نفیس کو سڑکوں پر گھسیٹ کر مار کر اپنی اصلیت دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ اس معاملے میں ومن انڈیا موؤمنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ اے بی وی پی کے غنڈوں کو لائی ڈیکٹیٹ کا استعمال کرکے معلومات حاصل کرکے نجیب احمد کی تلاشی کو تیز کریں۔ومن انڈیا موؤمنٹ کے قومی ایگزیکٹیو اجلاس میں قومی نائب صدر محترمہ ترانہ شرف الدین، قومی جنرل سکریٹری محترمہ شاہد ہ تسنیم، سکریٹریان سائرہ بانو،ستارہ بیگم، دیسی بالا سبرامنیم اور دیگر اراکین شریک رہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad