جامعہ محمودیہمیں مولانا انواراحمد جامعیؒ کیلئے تعزیتی جلسہ کا انعقاد
کانپور:(یواین اےنیوز31اکتوبر2017)مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی ؒ کے خلیفہ ومجاز استاذ الاساتذہ حضرت مولانا انوار احمد جامعی نور اللہ مرقدہ کے دنیا سے رخصت ہوجانے سے جہاں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد اپنے مشق استاذ سے محروم ہوگئی وہیں جامعہ محمودیہ کے ناظم واساتذہ کرام اپنے صدر المدرسین واستاذ کے چلے جانے سے ایک نہ پرہونے والا خلا محسوس کر رہے ہیں آج جامعہ میں حضرت مولانا انوار احمد صاحب جامعیؒ کے لئے ایصال ثواب وتعزیتی جلسے کا انعقاد ہوا جس میں حضرت ناظم صاحب واساتذہ کرام نے مرحوم کے تعلق مع اللہ، عبادات خصوصاً نمازوں میں خشوع وخصوع ، مہمان نوازی ، حسن اخلاق اور اپنے ساتھ برتے گئے بہتر رویے کو یاد کیا۔جامعہ محمودیہ کے ناظم مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے تعزیتی خطاب میں کہا کہ حضرت کے رہنے سے جو مدرسہ کا نظام تعلیم تھا اس سے میں کہیں بھی جاؤں اطمینان رہتا تھا میرے لئے اور مدرسہ کے لئے وہ تنہائی میں دعائیں کیا کرتے تھے جو مجھے بہت سی پریشانیوں سے بچا لیتی تھیں اللہ تعالیٰ ان جیسا ہمارے لئے کوئی بدل پیدا فرما دے۔ حضرت اپنی روحانی عظمت کو ہمیشہ پوشیدہ رکھتے تھے حتی کہ جب انہیں حضرت مفتی محمودالحسن گنگوہی ؒ سے خلافت ملی تو اس کو بھی بہت دنوں تک پوشیدہ رکھا ۔آج سے دس سال پہلے حضرت کا معمول تھا کہ وہ صبح سے شام تک پانچ ہزار مرتبہ اللہ کا ذکر تنہائی میں کیا کرتے تھے،اب اس وقت کا معمول بہت کوشش کے باوجود معلوم نہ ہوسکا ۔ آپؒ ہمیشہ طلبا کی تربیت بہت اچھے انداز میں فرماتے رہے۔ آپ ؒ کی کوشش رہتی تھی کہ طلباء کے ذہنوں میں کجی نہ آنے پائے ، اساتذہ دل طلباء سے اور طلبا ء کا دل اپنے اساتذہ کے تئیں ہمیشہ صاف رہے ۔ بزرگان دین واکابر کے ہمیشہ معتمد رہے۔ حضرت ؒ 49سال تک تعلیم وتعلم میں مصروف رہے ۔ہزاروں علماء آپ کے شاگرد ہیں اور آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔ مولانا اسامہ قاسمی نے حدیث کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے لیکن تین چیزیں اس کے لئے اعمال میں اضافہ کا سبب بنی رہتی ہیں۔ اس سے مرحوم کو ثواب حاصل ہوتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ جیسے مسجد ،مدرسہ ومسافر خانہ وغیرہ بنوادینا، ایسا کوئی علمی کام کرنا جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے اور نیک اولا دجو اپنے والدین کے لئے دعاء کرتی رہے۔ ہزاروں کی تعداد علماء جو ان کے شاگرد ہیں ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔ مولانا اسامہ نے اپنے خطاب کے دوران طلباء کو نصیحت بھی کرتے رہے کہ حضرت کی تمنا ومنشاء کے مطابق عالم وحافظ بنیں اوروہ طالب علم جو حافظ ہیں چار پانچ دن میں قرآن مکمل کرکے حضرت کو ایصال ثواب کریں ۔ بزرگان دین واساتذہ کرام جو دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ان کے لئے ایصال ثواب کرنا چاہئے اس سے ان کا روحانی فیض حاصل ہوتا ہے۔
اس سے قبل جامعہ محمودیہ کے استاذ مولانا محمد اکرم جامعی نے کہا کہ حضرت مولانا انوار احمد صاحب جامعیؒ نے پوری زندگی تعلیم وتعلم میں گزار دی، 1946ء میں موسیٰ نگر کانپور میں پیدا ہوئے ۔ جامع العلوم پٹکا پور میں پوری تعلیم حاصل کی ۔ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ، مولانا محمدمبین الحق قاسمی، مولانا مفتی منظور احمد مظاہری وغیرہ مخصوص اساتذہ میں ہیں۔ فراغت کے بعد حضرت مفتی محمود حسنؒ کی ایما ء پر جامع العلوم میں تقرر ہوا۔ 28سال تقریباً جامع العلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں حضرت کا درس بہت ہی آراستہ وپیراستہ معلومات سے بھرا ہوا انتہائی والہانہ انداز کا ہوتا تھا ، کنزالدقائق، مقامات حریری ونورالایضاح کا وغیرہ کا درس بہت مشہور تھا ۔ حضرت نماز کے خود بھی بہت پابند تھے بہت اچھی نماز پرھتے تھے اور طلبہ ومتعلقین کو نمازوں کے اہتمام کی خاص تلقین کرتے تھے چنانچہ حضرت کی زندگی کا آخری عمل نماز تھا، اکابر سے گہرا تعلق تھا حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ صاحب ؒ کی مجالس میں کثرت سے حاضر ہوئے ، فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی قدس سرہ سے گہرا اور خصوصی تعلق تھا حضرت ہی سے اجازت وخلافت حاصل ہوئی ۔حضرت مہمان نواز ،طلباء واساتذہ کو جوڑے رکھنے کی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔مولانا افتخار صاحب قاسمی دہلی جو حضرت مولانا کے شاگرد ہیں اور دہلی میں امامت کے فرائض انجام دے رہیں نے مختصر بیان میں حضرت کی گونا گوں خوبیوں کو بیان کیا۔جامعہ کے اساتذہ مولانا محمد شفیع مظاہری، مولانا نورالدین احمد قاسمی، مفتی اسعد الدین قاسمی، مفتی عثمان قاسمی، مفتی عزیز الرحمن قاسمی،مفتی محمد دانش قاسمی ،مفتی محمد عامر قاسمی، قاری عبدالحئی، قاری شمس الہدیٰ قاسمی، مولانا مسعود جامعی ، مولانا عبدالجبار، حافظ عبدالقدوس، وغیرہ نے حضرت مولانا انوار احمد صاحب کے حسن اخلاق ، گہرے لگاؤ ، تعلیم وتربیت کے تئیں لگن وجدوجہد ،اساتذہ وطلباء کے ساتھ شفقت وہمدردی اور محبت کو یاد کیا۔ حضرت مولانا اسامہ قاسمی صاحب نے حاضرین سے عہد لیا کہ حضرت نماز وغیرہ کا اہتمام وتلقین کیا کرتے تھے ہم عہد کریں کہ ہمیشہ نماز کی پابندی کریں گے۔ مولانا نورالدین احمد قاسمی کی دعاء پر جلسہ ختم ہوا ۔ جلسے میں جامعہ کے تمام اساتذہ وطلباء نے شرکت کی۔ جلسے سے قبل قرآن خوانی کا اہتمام کر کے ایصال ثواب کیا گیا۔
اس سے قبل جامعہ محمودیہ کے استاذ مولانا محمد اکرم جامعی نے کہا کہ حضرت مولانا انوار احمد صاحب جامعیؒ نے پوری زندگی تعلیم وتعلم میں گزار دی، 1946ء میں موسیٰ نگر کانپور میں پیدا ہوئے ۔ جامع العلوم پٹکا پور میں پوری تعلیم حاصل کی ۔ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ، مولانا محمدمبین الحق قاسمی، مولانا مفتی منظور احمد مظاہری وغیرہ مخصوص اساتذہ میں ہیں۔ فراغت کے بعد حضرت مفتی محمود حسنؒ کی ایما ء پر جامع العلوم میں تقرر ہوا۔ 28سال تقریباً جامع العلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں حضرت کا درس بہت ہی آراستہ وپیراستہ معلومات سے بھرا ہوا انتہائی والہانہ انداز کا ہوتا تھا ، کنزالدقائق، مقامات حریری ونورالایضاح کا وغیرہ کا درس بہت مشہور تھا ۔ حضرت نماز کے خود بھی بہت پابند تھے بہت اچھی نماز پرھتے تھے اور طلبہ ومتعلقین کو نمازوں کے اہتمام کی خاص تلقین کرتے تھے چنانچہ حضرت کی زندگی کا آخری عمل نماز تھا، اکابر سے گہرا تعلق تھا حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ صاحب ؒ کی مجالس میں کثرت سے حاضر ہوئے ، فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی قدس سرہ سے گہرا اور خصوصی تعلق تھا حضرت ہی سے اجازت وخلافت حاصل ہوئی ۔حضرت مہمان نواز ،طلباء واساتذہ کو جوڑے رکھنے کی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔مولانا افتخار صاحب قاسمی دہلی جو حضرت مولانا کے شاگرد ہیں اور دہلی میں امامت کے فرائض انجام دے رہیں نے مختصر بیان میں حضرت کی گونا گوں خوبیوں کو بیان کیا۔جامعہ کے اساتذہ مولانا محمد شفیع مظاہری، مولانا نورالدین احمد قاسمی، مفتی اسعد الدین قاسمی، مفتی عثمان قاسمی، مفتی عزیز الرحمن قاسمی،مفتی محمد دانش قاسمی ،مفتی محمد عامر قاسمی، قاری عبدالحئی، قاری شمس الہدیٰ قاسمی، مولانا مسعود جامعی ، مولانا عبدالجبار، حافظ عبدالقدوس، وغیرہ نے حضرت مولانا انوار احمد صاحب کے حسن اخلاق ، گہرے لگاؤ ، تعلیم وتربیت کے تئیں لگن وجدوجہد ،اساتذہ وطلباء کے ساتھ شفقت وہمدردی اور محبت کو یاد کیا۔ حضرت مولانا اسامہ قاسمی صاحب نے حاضرین سے عہد لیا کہ حضرت نماز وغیرہ کا اہتمام وتلقین کیا کرتے تھے ہم عہد کریں کہ ہمیشہ نماز کی پابندی کریں گے۔ مولانا نورالدین احمد قاسمی کی دعاء پر جلسہ ختم ہوا ۔ جلسے میں جامعہ کے تمام اساتذہ وطلباء نے شرکت کی۔ جلسے سے قبل قرآن خوانی کا اہتمام کر کے ایصال ثواب کیا گیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں