دیوبند کے بعد سہارنپور اور مظفرنگر میں بھی پاسپورٹوں کی دوبارہ جانچ ہوگی
ایس ایس پی ببلو کمار نے دیوبند و آس پاس کے علاقہ کے پاسپورٹوں کی جانچ کی ہدایت جاری کی
دیوبند۔رپورٹ،سمیرچودھری(یواین اےنیوز31اکتوبر2017)دیوبند کے ایڈریس پر بنائے گئے تمام پاسپورٹوں کی جانچ کے خبر آنے کے بعد آج صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے اس کڑی میں ضلع سہارنپور اور مظفرنگر کو بھی شامل کرلئے جانے کی خبر آئی ہے ۔اب دیوبند کے علاوہ سہارنپور اور مظفرنگر میں بھی پاسپورٹوں کی جانچ کی جائے گی۔ ایس ایس پی ببلو کمار نے ایل آئی یو کو اس سلسلہ میںفوری طورپر کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔''روزنامہ خبریں'' گزشتہ دو روز قبل ہی یہ خبر شائع کرچکاہے اب اس میں سہارنپور اور مظفرنگر کو شامل کرنے کی خبر مل رہی ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں سے گرفتار کئے گئے مشتبہ افراد کی کے بعد دیوبند میں یہ بڑی کارروائی کی جارہی ہے۔ جس کے تحت پولیس نے اب دیوبند علاقے کے تمام لوگوں کے پاسپورٹوں کی دوبارہ سے جانچ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس ایس پی ببلو کمار نے ایل آئی یو اور مقامی پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ دیوبند اور اس کے آس پاس کے علاقے کے تمام پاسپورٹ کی جانچ دوبارہ کی جائے۔ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بنگلہ دیش کے کچھ مشتبہ افراد کو اے ٹی ایس کی ٹیم نے دیوبند کے علاقہ اور اس کے آس پاس سے گرفتار کیا تھا،جن میں دو کے پاس سے جعلی پاسپورٹ اور فرضی دیگر دستاویزات فرضی دستاویزات برآمد ہوئے جس کے بعد اس کارروائی کا فیصلہ کیاگیا۔حالانکہ اس کے بعد اب مظفرنگر اور سہارنپور میں بھی اس نوعیت کی کارروئی کئے جانے کی خبر موصول ہورہی ہے مگر ایس ایس پی کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ دیوبند کے مقامی لوگوںکے پاسپورٹ دوبارہ چیک کئے جانے کی جہاں ملک بھر میں چرچاہے وہیں دیوبند کے لوگ اس سے غمزدہ ہیں اور ان کاکہناہے کہ علم وامن کے مرکز دیوبند کو بدنام کرنے کی منظم سازش کی جارہی ہے ۔لوگوں کاکہناہے کہ داخلی سلامتی سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتاہے جو بھی ملک کے خلاف کام کرے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور اگر واقعی دیوبند میں اس قسم کی کسی کارروائی کی ضرورت ہے توہ کی جانی چاہئے لیکن اس طرح پوری دنیا میںدیوبند کے بدنام کرنے سے باز رہنا چاہئے کیونکہ دیوبند نے ہمیشہ پوری دنیا کو امن و سلامتی اوربھائی چارہ کاپیغام دیاہے۔ لوگوں نے اس بات پر بھی دکھ کا اظہار کیاہے داخلی سلامتی کے اس ایشو پر ٹی وی میں بڑی بڑی بحثیں ہورہی ہیں جس سے صرف اور صرف دیوبند کی بدنامی کی جارہی ہے،میڈیا کو بھی اس طرح کے منفی پروپیگنڈہ کے دور رہنا چاہئے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں