پیر طریقت ،استاذ الاستاذہ حضرت مولانا انوار احمد صاحب جامعی خلیفہ ومجاز حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ کا انتقال پرملال
پورے ملک کے علمی حلقوں میں شدید رنج وغم ، نماز جنازہ میں قرب وجوار سے آنے والے انسانوں کا ہجوم
کانپور،رپورٹ،حافظ محمد ذاکر(یواین اےنیوز30اکتوبر2017)شہر کانپور کی قدیم علمی وروحانی شخصیت ،جمعیۃ علماء شہر کانپور کے صدر ،مشرقی یوپی کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ محمود یہ اشر ف العلوم کے صدر المدرسین ،مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ کے خلیفہ و مجاز پیر طریقت استاذ الاساتذہ حضرت مولانا انوار احمد صاحب جامعی 29اکتوبر کی شب 10:30بجے اپنے شیخ کے دیار گنگوہ میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اناّٰ لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاْجِعُوْن۔جنا زہ حضرت کے گھر کرنیل گنج سے 08:15اٹھاکر بڑی عیدگاہ بکرمنڈی لایا گیا،نماز جنازہ حضرت مولانا حفیظ الرحمان صاحب امام وخطیب مسجد ہمایوں کرنیل گنج نے بڑی عیدگاہ میں ادا کرائی، قریب کے ہی بڑے قبرستان میں کانپور شہر و کانپور دیہات ، قنوج ،فتح پور، اناؤ ، ہردوئی ، فرخ آباد ، آگرہ ،دیوبند، سہارنپور، لکھنؤ ، الہ آباد ، اکبر پور ، شاہجہاں پور، باندہ ،بستی ،کوشامبی ، الہ آباد، ہمیر پور ، جالون، مہوبہ ، بارہ بنکی ، بہرائچ ،اوریا، جھانسی ، ایٹہ، اٹاوہ، کاس گنج سمیت مختلف اضلاع سے آئے عوام وخواص اور علماء و شاگردوں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں چھلکتے آنسوؤں کے درمیان سپرد خاک کر دیا گیا۔مولانا کے انتقال کی خبر رات و رات پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی، خبرملتے ہی پورے ملک کے علمی حلقوں میں شدید رنج وغم کے اظہار کے ساتھ ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کے ناظم اور مولانا کے معتمد خاص ،شاگرد رشید حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے بے حد رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا انوار احمد صاحب شروع کے دنوں میں شیخ زکریا ؒ کی مجلس میں حاضری دیتے ہوئے سہارنپور میں اعتکاف بھی فرماتے رہے۔حضرت ؒ کی شہریوں کیلئے نام ونمود ،دکھاوے و ریا سے دور خاموش روحانی خدمات جاری رہیں۔ طلبہ کے درمیان انتہائی با رعب لیکن انتہائی مشفق جب طلبہ سے محبت سے بات کریں تو بالکل بے تکلف جیسے ساتھی ہوں۔جمعیۃ علماء کی خدمات کے حوالے سے کہا کہ حضرت نے بے شمار پروگرام، حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی ؒ سے قریبی وابستگی ،جیسے حضرت کے والد گرامی الحاج کریم بخش ؒ شیح الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے خلیفہ رہے۔ محلہ کرنیل گنج کسی زمانے میں جب بھی کوئی وقت کا قطب اور ولی کانپور آئے تو کرنیل گنج ،ضرور آتے،حضرت مفتی محمود صاحب ؒ عرصہ دراز تک کانپور میں رہے،اہل کانپور خصوصاً اہل محلہ کرنیل گنج نے حضرت ؒ کے ایمان،عقائداور روحانیت سے کافی فیض حاصل کیا۔ خصوصاً کرنیل گنج میں مولانا انوار احمد صاحب نے دور طالب علمی سے مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ کے خاص شاگر د رہے اور حضرت سے بیعت ہو کر خلافت کا روحانی سلسلہ شروع کیا۔
مولانا نے بتایا کہ دہلی میں منعقدہ امن و ایکتا سمیلن کے تاریخی پروگرام میں شرکت کیلئے جمعیۃ علماء کانپور کی مجلس منتظمہ کے وفد مولانا شفیع مظاہری، مولانا نور الدین احمد قاسمی ، مولانا اکرم جامعی، مفتی عثمان قاسمی ، مفتی اسعد الدین قاسمی اور حافظ محمد سلمان کے ہمراہ دہلی تشریف لے گئے تھے ،مولانا انوار صاحب کے ہر وقت ساتھ رہنے والے مولانا شفیع مظاہری اور حافظ محمد سلمان نے بتایا کہ پروگرام میں شرکت کے علاوہ سہارنپور، دیوبند،گنگوہ اور دیگر بزرگوں کی خانقاہوں پر حاضری کا سفر تھا۔ اپنے شیخ کے گاؤں گنگوہ پہنچ کر آپ نے وہاں کے لوگوں سے بات چیت کی اور عشاء کی نماز کے بعد طعام کی بات کہی، چونکہ حضرت سفر میں تھے اس لئے وضو بنا کر حضرت نے بالکل ٹھیک طرح سے دو رکعت نماز عشاء ادا کیں اور دوسری رکعت کے بعد دائیں جانب سلام پھیرتے ہی حضرت کو دل کا اٹیک پڑا اور حضرت داہنے جانب گر پڑے ، جلد ہی قریب کے ڈاکٹر کو دکھایا گیا ، جس نے نبض دیکھ کر حالت بے حد نازک بتائی ،وہیں ایک اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں راستے میں ہی حضرت کی سانسیں تھم گئیں اور وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اناّٰ لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاْجِعُوْن۔
ساتھ میں گئے مولانا نور الدین احمد قاسمی و مولانا اکرم جامعی نے بتایا کہ حضرت مولانا انوار احمد صاحب جامعی کی وفات ملت اسلامیہ کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جامع العلوم پٹکاپور کے انتہائی محبوب اساتذہ میں سے تھے، طلباء کے ساتھ انتہائی شفقت و محبت کا معاملہ فرماتے تھے، آج ہم اپنے انتہائی مشفق مربی استاذ سے محروم ہوگئے،آج ہم نے اپنے سرپرست کو کھو دیا۔
مولاناکے بھائی قمر الزماں نے بتلایا کہ مولانا انوار صاحب ؒ کئی سال تک جمعیۃعلمائے شہر کانپورکے صدر رہے، آپ کی عمر تقریباً71 برس تھی، انتہائی ضعف کے باوجود وقت کی پابندی اورپوری بشاشت کے ساتھ آپ ؒ طالبان علوم نبوت کو فیضیاب فرما رہے تھے۔آپ 1946 ء کوپیدا ہوئے۔تعلیم پوری ہونے کے بعد مشرقی یوپی کے عظیم ادارہ مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کے استاذ مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ ؒ نے جامع العلوم پٹکاپور میں 28سالوں تک درس و تدریس کے علاوہ نائب مہتمم کی ذمہ داری بھی نبھاتے رہے۔ آپؒ نے کچھ سال قلی بازار واقع مدرسہ اشاعت العلوم میں بھی صدرالمدرسین کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں ۔ آپؒ نے 2003 ء میں جاجمؤ میں اشرف آباد محلہ میں اپنے شیخ مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ کی یاد میں اپنے شاگرد رشید مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی کے ساتھ مل کر جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کا قیام فرمایا،اور بطور صدر المدرسین آپ ؒ نے اس ادارے کو اپنی خدمات انجام دیں۔ حضرت مولانا انوار احمد صاحب جامعی 7بھائی اور1بہن تھے ،حضرت کے 4؍بیٹے اور 5بیٹیاں ہیں ۔حضرت کے اہل خانہ کے علاوہ آپؒ کے تمام تلامذہ خدام حضرت کے چلے جانے سے اپنے کو یتیم محسوس کر رہے اور سب ایک دوسرے سے تعزیت کر رہے ہیں ۔ پورے ملک سے تعزیتی پیغام کا سلسلہ جاری ہے۔مولانا اسامہ نے حضرت والا کے لواحقین خاص طور سے آپ ؒ کے بھائیوں اورصاحبزادگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے تمام جماعتی احباب، ذمہ داران مدارس، متعلقین واحباب کو تلقین کی ہے کہ حضرت والا کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا خصوصی اہتمام کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں