حمزہ اجمل جونپوری فضا پرسکون تھی آسمان آہستہ آہستہ صاف ہو رہا تھا ستارے اپنی روشنی چھپانے لگے تھے چاند بادلوں کی اوٹ میں پناہ چاہنے لگا سورج نکلنے سے شرمانے لگا کیوں کہ زمین پر ایک ایسا سورج طلوع ہونے والا تھا جسکی روشنی سے پورا عالم ایک ساتھ روشن ہوگا باد صبا آہستہ آہستہ رواں دواں تھی گلوں کی خوشبو پورے عالم کو معطر کر رہی تھی کلیاں مسکرا رہی تھیں پرندے چہچہانے کے لئے بیتاب تھے ہر طرف ایک خوشی کا ماحول تھا عرش پر جشن کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھی
زمین استقبال کے لئے بیتاب ہو رہی تھی تمام مخلوق حیران تھی کہ آج عالم اتنا پرسکون اور خوشگوار کیوں ہے ذات انسان کے سوا ہر کوئی جان چکا تھا دنیا میں کوئی آنے والا ہے جس کے جشن میں ہوائیں رقص کریں گی کلیاں مسکرائیں گی پیڑ پودے گنگنائیں گے چرند پرند حمد و ثنا میں مصروف ہو جائیں گی آسمان شامیانہ بن جائے گا فرشتے سلامی پیش کریں گے اللہ کے دربار سے درود پیش کیا جائے گا غرض یہ کہ یہ عالم جشن میں ڈوب جائے گا۔
صبح صبح عبداللہ بن عبد المطلب کے گھر سے خبر آتی ہے مبارک ہو ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو ہر چیز سے پاک و صاف ہے عبد المطلب بچے کی طرف دیکھتے ہیں اور گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیتے ہیں دوڑتے ہوئے کعبہ میں آتے ہیں سوچے ہیں کیا نام رکھا جائے جسے رہتی دنیا ہمیشہ تعریف کرے ناموں کے الجھنوں میں گم تھے مکہ کی در و دیوار دنیا کی تمام مخلوق اور آسمان و زمین اس بچے کی تعریف میں مصروف تھیں تبھی اچانک عبد المطلب کے دل میں خدا کی طرف سے ایک نام عطا کیا گیا "محمد" جسکے معنی تعریفوں والا یوں اس بچے کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑ گیا مکے کی گلیوں میں اس بچے کی تعریف روزانہ سنی جاتی تھی وقت گزرتا گیا یہ بچہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے لگا قوم نے صادق و امین کے لقب سے نوازا میدان جنگ میں حصہ لینے لگا قریش میں جو آپسی جنگ تھی ختم کر دیا آپ کی شرافت و دیانت کو دیکھ کر قبیلہ قریش کی مشہور و معروف تاجرا خدیجہ بنت خولد نے آپ کو نکاح کا پیغام بھیجا جسے آپ نے قبول کر لیا آپ چالیس سال کے ہوئے نور نبوت سے نوازا گیا۔
کسے معلوم تھا یہ امی بچہ آگے چل کر معلم کائنات داعی الی اللہ رہبر انسانیت مربی عالم محسن انسانیت سرور کائنات رحمت للعالمین شافع محشر تاجدار ختم نبوت امام الانبیاء خاتم الرسل سیدنا و مولانا آقائے نامدار تاجدار مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بن جائے گا۔
آج اس عظیم انسان کی تاریخ پیدائش ہے
جس کے آنے سے دم توڑتی انسانیت نے سانس لینا شروع کر دیا جسکے آنے سے مظلوموں نے ایک سر آہ بھری جسکے آنے سے تمام کائنات نے درود کے گجرے بھیجے جسکے آنے سے ظلم کی چکی میں پستا ہوا انسان راحت کی سانس لیا جسکے آنے سسکتی کائنات نے پھر سے جینے کی قسم اٹھائی جسکے آنے سے بنجر زمین نے زرخیز ہونا شروع کر دیا جسکے آنے سے مکہ کی گلیاں ترانوں سے گنگنا اٹھی جسکے آنے سے ہوا نے عالم میں ایک حسین رنگ گھول دیا جسکے آنے سے ظالم بھی ششدر رہ گیا کائنات کو سجایا گیا ذروں کو سنوارا گیا بکھرے انسانوں کو سمیٹا گیا دم توڑتی انسان کی انسانیت نوازی کی گئی۔
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو دیکھا نہیں یا رسول اللہ ہمیں آپ سے بے پناہ محبت ہے۔
یا رسول اللہ صلی ہم گنہگار ہیں ہم خاطی ہیں لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے امتی ہیں۔
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روز محشر ہم سب پر نظر کرم فرما دیجئے
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت پریشان ہے دعا فرما دیجئے
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے
اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں