از:رفیع اللہ قاسمی
کورونا وائرس کی وجہ سے جناب وزیر اعظم نریندر مودی صاحب کی جانب سے آج مورخہ 22/ مارچ کو صبح سات بجے تا رات 9/ بجے کے درمیان ایک جنتا کرفیو پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔میں آج صبح ٹھیک سات بجے اپنے شہر میں گاڑی سے نکلا کہ دیکھوں عوام الناس پر اس جنتا کرفیو کا کتنا اثر ہے؟ صرف دس منٹ میں جائزہ لے کر واپس آ گیا۔ دیکھا کہ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں اور فلیٹوں میں بند ہیں۔ چڑیوں کی چہک اور پھولوں کی مہک کو کوئی سننے والا ہے نہ کوئی سونگھنے والا۔اس اختیاری کرفیو کا اثر اضطراری کرفیو سے کہیں زیادہ نظر آیا۔ آخر کیوں کسی قانون اور سزا کے خوف کے بغیر لوگ گھروں میں قید ہو گئے؟ جب کہ دوسری طرف قانون الہی کے موجود رہتے ہوئے، نافرمانی پر گرفت کا تصور رہتے ہوئے اور آخرت میں جوابدہی کا نظام موجود رہتے ہوئے، جمہوری اور ملکی قوانین کے ہوتے ہوئے اور اس کی خلاف ورزی پر جزا وسزا کے علم کے باجود ہر پل حکم الہی اور ملک کے قوانین کو لوگ توڑتے ہوئے نظر آتے رہتے ہیں۔آخر یہ فرق کیوں ہے؟
اس عارضی اور اختیاری کرفیو کے موقعے پر تمام لوگ نظر بند اس لیے ہو گئے ہیں کیوں کہ اس کا نفع نقصان تمام اہل وطن کی سمجھ میں آگیا ہے۔ احتیاط کریں گے تو فائدہ بھی خود کا ہے اور بے احتیاطی کریں گے تو نقصان بھی خود کا ہے۔ یہ چیز بہت جلد لوگوں کی سمجھ میں آگئی اسی لیے یہ جنتا کرفیو کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔خدائی قانون اور ملکی و جمہوری قوانین میں بھی اتباع کی صورت میں ہر ایک فرد کا فائدہ مضمر ہے اور عدم اتباع کی صورت میں ہر ایک کا نقصان۔ بس اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا شعور اور احساس ہر فرد کو ہونا ضروری ہے۔اگر اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو آئیے اس جنتا کرفیو کے دن عہد کریں کہ ہم خدائی احکامات، اسلامی تعلیمات اور ملکی و جمہوری قوانین کا لازمی طور پر پاسداری کریں گے اور اپنے رب کو خوش کرنے کی کوشش کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں