۲۲ مارچ کو وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے " جنتا کرفیو " کا اعلان ہے یہ کرفیو کرونا بیماری کے متعلق کہا جارہاہے، جبکہ یہ غیرضروری اور میڈیکل سائنس کے اعتبارسے بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا کل کے اس کرفیو کو لے کر لوگوں کے دلوں میں کافی تشویش اور سوالات ہیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے
کل جو کرفیو ہے وہ مسلط کردہ نہیں ہے بلکہ اس کی اپیل کی گئی ہےاس کے نام سے ہی اس کی قانونی حیثیت طے ہوجاتی ہے کہ یہ عوامی کرفیو ہے کل کا کرفیو پولیس فورس کرفیو نہیں بلکہ پبلک کرفیو ہے، اسے بالجبر نافذ نہیں کیا جاسکتا، اس میں علیحدہ سیکوریٹی فورسز سے زیادہ مقامی ضلعی ایڈمنسٹریشن ہی انچارج ہوتاہے
یہ کرفیو عوام کے ذریعے عوام پر ہے بائے فورس Impose نہیں ہوگا
یہ کرفیو کسی بھی تصادم، فساد یا تناؤ کے پیش نظر نہیں ہے بلکہ یہ ہیلتھ ایمرجنسی کے متوقع خطرے کے پیش نظر ایک سماجی فاصلے کی پریکٹس کی خاطر ہورہاہے، یہ Exercise ہے جس میں Panel Action نہیں ہوتا / یعنی اس کرفیو کی بنیاد پر تعزیراتی کارروائی شہریوں کے خلاف نہیں کی جاسکتی اسی طرح کل کے کرفیو میں ہنگامی ضرورت، حادثاتی ضرورت، میڈیکل اور فائر ایمرجنسی کے تحت باہر نکلنے میں کوئی ہرج نہیں ہے بلکہ اس طرح کے اختیاری کرفیو میں ایک دو فرد بوقت ضرورت کے لیے بھی باہر آسکتےہیں
یہ تو ہے کل کے جنتا کرفیو کی دستاویزی نوعیت البته اس جنتا کرفیو کی اصل ہے سیاسی نوعیت، یہ کرفیو بظاہر گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعے اپیل کیا گیا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ مرکزي گورنمنٹ آر ایس ایس وادی BJP کی ہے، حکمران جماعت " بھارتیہ جنتا پارٹی " ہے بالفاظ دیگر کل بھاجپا والے اس کرفیو میں خاص دلچسپی لیں گے، اور بھاجپا کے سنگھیوں کی شرانگیز سیاست آپ سبھی بخوبی جانتےہیں،
اور ایسی حالت میں جب کہ ان جاہل شریروں کو گورنمنٹ اور نیشن ایکٹ کا بہانہ حاصل ہو ہمارے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم احتیاط کریں اور تدبیر اختیار کرتے ہوئے کل کے جنتا کرفیو میں ایمرجینسی ضروریات کے علاوه سڑکوں اور بازاروں میں اکٹھا ہونے سے بچیں، تاکہ متعصب میڈیا یہ واویلا نا کرے کہ ہم لوگ وباء عام کی روک تھام کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں اور زہریلی سیاست کرنے والوں کو کسی بھی طرح کی شرانگیز اور پروپیگنڈے کا موقع نا ملے، اپنی طرف سے کسی کو بھی زہریلی سیاست کا موقع نا دیں _
سمیع اللّٰہ خان
۲۱ مارچ بروز سنیچر ۲۰۲۰
ksamikhann@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں