اورنگ زیب عالم مصباحی،گڑھوا رکن مجلس علمائے جھارکھنڈ
مکرمی!آج ہمارے ملک عزیز میں کیا صورت حال ہے یہ کسی پر مخفی نہیں ہے کہ ہر جانب مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پھر گوڈسے پرست گنڈے دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں جہادیوں کو بھگا رہے ہیں۔ پر کیا ان کی یہی دہشت گردوں سے لڑائی ہے کہ وہ کسی مسلمان کو پکڑ کر خوب پیٹیں اس سے جبراً جے شری رام اور دوسرے اس قسم کے نعرے لگوائیں؟
یہ کونسی حب الوطنی ہے کہ وطن عزیز کے اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں۔ بعدہ الزام بھی اسی پر عائد کریں کہ یہ
چور ہے یہ دہشت گرد ہے یہ ریپسٹ ہے۔ واہ جی واہ! انکے دنگے بھی سیکولرزم، وہ ملک کو بیچ دیں تو ڈیولپمنٹ، وہ ہندوستانی سمویدھان پر کیچڑ اچھالیں تو محب وطن، وہ ہندوستانی باشندوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دیں، انھیں جانی مالی اور ذہنی ٹھیس پہونچائیں تو بھی وہ ناگریکتا کے ٹھیکیدار اور ہم حب الوطنی کے کروڑوں دلیلوں کے ساتھ وطن کے لیے جان کی بازی لگائیں تو بھی دہشت گرد، وہ گاندھی کا قتل کریں اور قاتل کو پیشوا مانیں پھر بھی محبوب وطن. ہم صرف ہندوستان میں رہنا چاہیں تو بھی گھسپیٹھی۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
تم قتل بھی کرتے ہو تو چرچا نہیں ہوتا
میں بتاؤں دہشت گردی کیا ہے؟ تم نے گاندھی کو قتل کیا، اور قاتل کو پیشوا بھی مانتے ہو یہ دہشت گردی ہے۔ تم نے گجرات میں دنگے کراکے مسلمانوں کی لاشیں بچھوائی یہ دہشت گردی ہے۔ مسلمانوں سے جبراً لڑائی کرکے یا سازشیں رچ کر ان کی مسجدوں پہ تالے لگواۓ اور ان کی بہت سی مسجدوں کو ڈھاۓ یہ دہشت گردی ہے،اور جگہ جگہ امبیڈکر کی مجسمہ کو ڈھاۓ یہ دہشت گردی ہے۔ مظفر نگر، آسام، گجرات اور کشمیر میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہاۓ اور جو دہلی میں بے قصوروں کی خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے ان کے گھر، دکان اور گاڑیاں جلا دی گئی یہ دہشت گردی ہے. اتنی دہشت پھیلانے کے بعد بھی الزام مسلمانوں پہ ہی ڈالا گیا۔ ارے انھوں نے سیکولرزم، سمویدھان کی اس قدر دھجیاں اڑائی کہ شاید ہمارے ملک کا اقلیتی طبقہ کے لوگ ایسا گمان بھی کرتے تو موقع پر ہی گولی مار دی جاتی اور کئی مرتبہ ایسا ہو بھی چکا ہے۔ میں مسلمانوں کو دہشت گردی کی چھوٹ نہیں دلا رہا ہوں بلکہ میرا مطالبہ دہشت گردوں پر سخت کارروائی کا ہے اب چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو، ایسانہیں کہ مسلمان ہے تو شک کی بنیاد پر جیل، اور گوڈسے پرست کو فسادی ثابت ہونے کے بعد بھی کھلے گھومنے اور فساد پھیلانے کی چھوٹ دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ہمیشہ پاکستان کی دہشت گردی پہ اپنی انتخابی تاوے پر جیت کی روٹی سینکی جاۓ اور پھر آر ایس ایس کے آتنکیوں سے پورے ہندوستان کو اقلیتوں کے خون سے رنگین کیا جاۓ۔
آپ نے کچھ دنوں قبل امولیہ کے بیان پر ہونے والے سنے ہوں گے کہ کس طرح ایک چھوٹی سی لڑکی کو ایک نعرہ کی بنیاد پر زبردستی دھشت گرد اور راج دروہی ثابت کر دیا گیا۔ کیا ہندوستان اتنا کمزور ہے کہ محض ایک کمسن لڑکی کے نعرے سے دیش کو خطرہ لاحق ہونے لگا؟ جبکہ اسے اپنی بات مکمل کرنے کا موقع بھی نہیں ملا نعرہ سنتے ہی اسے اسٹیج سے ایسے اتار دیا گیا جیسے وہ دہشت گرد ہو اور اسٹیج اور عوام میں کھلبلی مچ گئی حالانکہ اس کے انداز تکلم سے ایسا گمان ہوتا تھا کہ جو جملے اس نے فیس بک پر سماج سیوا کرنے والے دیشی اور ودیشی لوگوں اور ان کے ملکوں کو زندآباد کہا شئیر کی تھی وہی بولے گی پر مائیک چھین لی گئی حالانکہ کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ایسا ہی ملتا جلتا فیصلہ سپریم کورٹ کا آچکا ہے.
معاملہ یہ ہے کہ پنجاب کے دو ادھیکاریوں نے خالصتان زندآباد اور راج کرے گا خالصہ کے نعرے لگائے جبکہ ابھیوجن پکچھ پرسٹیوٹر کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ہندوستان مرداباد کے نعرے بھی لگائے۔ اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ دیا کہ" دو لوگوں کے ایک دو بار اس طرح کے نعرے لگا دینا بھارت کے خلاف نہیں مانا جائے گا راج دروہ یا سیکشن ۱۵۳ اے تحت الزام لگانے کے لئے نعرے کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دو فریقوں کے بیچ دشمنی بڑھانے کے لئے اور بھی گمبھیر حرکت کی گئی ہے؟ بعدہ ملزمین کو بری کر دئیے گئے۔ یہاں تو امولیہ نے ہندوستان مرداباد کے نعرے بھی نہیں لگایا لیکن اس پر راج دروہ کا مقدمہ درج کر جیل بھیج دیا گیا۔
پر گجرات، آسام، کشمیر اور دہلی میں فساد کرنے والوں پر حب الوطنی کا ٹھپہ لگایا جا رہا ہے بابری مسجد کے ڈھانے والوں کو کھلے عام چھوڑ کر رام مندر ٹرسٹ میں ذمہ داری مل رہی ہے جو کہ حکومت اور عدالت کی جانب سے ایک انعام سے کم نہیں اور انھیں دہشت گردی کرنے کی کھلی چھوٹ ہے۔ کیا کسی کے جان اور اس کے مذہبی عبادت گاہوں سے کھلواڑ کرنا آئین ہند کے خلاف نہیں؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مذہب وملت سے قطع نظر مطلق دہشت گردوں پہ سخت کارروائی کی جاتی کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کی آستھا کی پرواہ کئے بغیر حقیقت کے موافق فیصلے کئے جاتے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں