تازہ ترین

منگل، 25 فروری، 2020

شاہین باغ کی شیرنیوں کی طرف منسوب کنڈوم والی خبر کی حقیقت ۔بی جے پی آئی ٹی سیل ایک بار پھر۔۔۔۔۔

نئی دلی۔اسماعیل عمران (یو این اے نیوز 25فروری 2020)گزشتہ دو مہینے سے زیادہ روز سے قومی دارلحکومت دلی کے شاہین باغ سمیت ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں جسے لیکر بی جے پی آئی ٹی سیل کی ٹیم سوشل میڈیا پر ہردن کوئی نہ کوئی الزام شاہین باغ میں احتجاج کررہی خواتین پر لگاتا رہا  ہے ۔کبھی انکو پانچ پانچ سو روپے لیکر احتجاج میں شرکت کرنے کی بات کی تو کبھی ایک پلیٹ بریانی پر احتجاج کرنے کی بات کی جبکہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج مسلسل جاری ہے اور حکومت ہر کوشش کر رہی ہے کہ آل انڈیا سطح پر ہو رہے ان مظاہروں کے مرکز دہلی کے شاہین باغ کے احتجاج کو سب سے پہلے ختم کیا جائے۔ اس احتجاج کو ختم کرنے یا شاہین باغ سے منتقل کرنے کے لئے میڈیا میں بھی ماحول بنایا گیا اور عدالت عظمیٰ کی جانب سے سینئر وکیلوں کو شاہین باغ بھیجا گیا تاکہ اس معاملے کا بہتر حل نکالا جا سکے۔ 

 لیکن ان قانونی اور سیاسی اقدامات سے بے خبر سوشل میڈیا پر آئی ٹی سیل اپنے ہی انداز میں نظر آئے ۔ پربھو ساگر نامی فیس بک صارف نے ایک تصویر اپنے پروفائل پر اپلوڈ کی جس کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ؛ثبوت چاہیے تو کمینٹ کریں ۔ دلیل میں بھیجوں گا ۔شاہین باغ کے پیچھے والے نالے میں نگر پالیکا اہلکاروں  کو صفائی کرتے وقت یہ نظارہ دیکھنے کو ملا ۔پربھو ساگر نے جس تصویر کو اپلوڈ کیا تھا اس میں  کثیر تعداد میں کانڈوم  پڑے تھے جس کی مدد سے یہ گمان ایجاد کیا گیا کہ شاہین باغ میں احتجاج کے نام پر اور بھی بہت کچھ چل رہا ہے جو قابل شرم ہے ۔  متعصب فیکٹ چیک ویب سائٹ فیکٹ ہنٹ کے معاون بانی نے بھی اس تصویر کو ٹوئٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ تصویر شاہین باغ کے پیچھے والے نالے سے حاصل ہوئی ہے

 آلٹ نیوز نے انکشاف کیا کہ یہ تصویر تقریباً تین سال پرانی ہے اور اس کوlanhmanh.comنامی ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے جہاں یہ تین سال پرانی اسٹوری میں موجود ہے ۔ یہ ویت نام کی ویب سائٹ ہے جس پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تصویر بوائز ڈار مٹری سے حاصل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ دوسری ویب سائٹوں پر بھی یہ مختلف دعووں کے ساتھ موجود ہے۔ آلٹ نیوز  اس تصویر کےاصل ماخذ تک نہیں پہنچ پایا لیکن اُن کی تحقیق سے یہ پختہ ہو گیا کہ یہ تصویر تین  سال پرانی ہے اور شاہین باغ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے



۔15 فروری کو جامعہ ملیہ اسلامیہ تشدد کی کچھ ویڈیو وائرل  ہوئیں جن کو مین اسٹریم میڈیا میں بھی نشر کیا گیا۔ گزشتہ سال 15دسمبر  کی رات کو دہلی پولیس نے جامعہ کیمپس میں گھس کر طلبا پر ظلم کیا تھا اور یونیورسٹی کے وسائل کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ اس معاملے کے تقریباً ڈیڑھ مہینہ بعد 30 جنوری کو جامعہ میں گوپال نامی شخص نے فائرنگ کی تھی جس میں یونیورسٹی کے طالب علم شاداب فاروق زخمی ہو گئے تھے۔ شاداب فاروق ماس کمیونی کیشن کے طالب علم ہیں اور موسیقی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

اُن کا قد اونچا ہے اور اُن کے سر پر بڑے بال ہیں۔ سوشل میڈیا پر اُن کی تصویر سے سبھی روبرو ہیں۔جب 15 فروری کو پولیس کی ظلم و زیادتی کی ویڈیو وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا میں اُن کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔ 15 فروری کی ویڈیو کے ایک فریم کا سہارا لے کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ لمبے بالوں والا یہ شخص شاداب ہے جو اس رات تشدد میں شامل تھا۔ سوشل میڈیا میں یہ دعویٰ بھگوا ہینڈل سے کیا گیا جس میں کچھ نام نہاد فیکٹ چیکر ویب سائٹ کے بانی بھی تھے۔آلٹ نیوز نے وائرل ویڈیو کے اس فریم کی جانچ کی جس کی مدد سے شاداب کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ اس فریم میں دکھایا گیا تھا کہ فریم کو کیمرے میں 15دسمبر کو قید کیا گیا ہے اور اس کا وقت شام 6 بج کر 5 منٹ اور 30 سیکنڈ ہے۔fake 4آلٹ نیوز نے شاداب فاروق سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے بتایا کہ جس وقت یہ ویڈیو فریم ریکارڈ کیا گیا تھا اس وقت وہ اپنے احباب کے ساتھ جشن ریختہ کے پروگرام میں میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں تھے۔ 

آلٹ نیوز کو شاداب کی دوست نوافاطمہ سے ایک تصویر بھی حاصل ہوئی جس میں شاداب اور اُن کے تمام احباب ایک گروپ فوٹو میں ہیں اور یہ فوٹو جشن ریختہ کا ہی ہے۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے کہ یہ فوٹو اسی وقت کا ہے یا نہیں، آلٹ نیوز نے تصویر کے EXIF ڈیٹا پر تفتیش کی۔ جس سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ جامعہ میں پولیس کے حملے کے وقت شاداب جشن ریختہ میں اپنے احباب کے ساتھ تھے اور وائرل ویڈیو سے ان کو صرف بدنام کیا جا رہا ہے۔فیس بک اور ٹوئٹر پر جامعہ میں پولیس کی بربریت کی ویڈیو آنے کے بعد میڈیا نے بھی اپنا اصل رنگ دکھایا اور جامعہ کے ایک طالب علم کے ہاتھ موجود پرس کو پتھر قرار دیا۔واضح رہے دی وائر نے بھی اس اسٹوری کو شائع کیا ہے ۔ 

فی الحال شہریت ترمیمی قانون کولیکر 23فروری کو معمولی  شروع ہوئی چھڑپ ۔اب ایک خطرناک روپ اختیار کرچکی ہے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب تک سات لوگوں کے مرنے کی تصدیق ہوچکی ہے دلی کے کئی اضلاع میں ایک ماہ تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے ،دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریول دوپہر 12بجے ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ  سے ملاقات کرینگے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad