نئی دہلی،( یو این اے نیوز 25فروری 2020)دہلی کے مختلف حصوں شمال۔مشرقی دہلی میں گزشتہ 48 گھنٹوں کےدوران تشدد پسندانہ واقعات میں 10 لوگوں کی موت ہوگئی اور 186 لوگ زخمی ہوگئے۔دہلی پولس کے ترجمان ایم ایس رندھاوا نے منگل کو نامہ نگاروں کی کانفرنس میں بتایا کہ دہلی پولس کے ہیڈکانسٹبل رتن لال سمیت 10 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔
شاہدرہ کے ڈپٹی کمشنر امیت شرما زخمی ہوئے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ زخمیوں میں 56 پولس اہلکار اور 130 شہری ہیں۔
مسٹر رندھاوا نے لوگوں سے امن قائم رکھنے اور افواہ پر دھیان نہیں دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں دفعہ 144 لگادی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ’’میں خصوصی طور پر شمال مشرقی دہلی کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیں۔ ہم صورت حال کو قابو میں رکھنے کےلئے ڈرون کی مدد لے رہے ہیں۔‘‘
![]() |
| فوٹو ۔ایک شرپسند مسجد پر پٹرول بم پھیکتے ہوا |
انہوںنے دہلی میں پولس فورس کی کمی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمال۔مشرقی ضلع میں بڑی تعداد میں سلامتی فورسوں کو تعینات کیاگیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ سے ایڈیشنل
سلامتی فورس ملاہے اور انہیں متاثر علاقوں میں تعینات کیا جارہا ہے۔
مرکزی ریزرو پولس فورس (سی آرپی ایف) اور آر اے ایف اور دہلی پولس کے ایڈیشنل فورس کو بھی تعینات کیا گیا ہے اب صورت حال قابو میں ہے۔
![]() |
| فوٹو:شر پسند عناصر ایک مسلم نوجوان کو مارتے ہوئے |
مسٹر رندھاو نے بتایا کہ تشدد پسندانہ واقعات کے سلسلے میں 11 ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور کچھ لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کپل مشرا کےبیان پر مسٹر رندھا نے کہا کہ اس کی جانچ کی جارہی ہے۔ ہماری پہلی ترجیح صورت حال قابو میں کرنا ہے، جو انہوںنے کیا ہے۔ تشدد کے سلسلے میں جتنے بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں سبھی کی جانچ کی جائے گی اگر اس میں جو اہم سازشی پایا جائے گا اس کے خلاف زبردست کارروائی کی جائے گی۔ یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں