تازہ ترین

پیر، 24 فروری، 2020

پاپولر فرنٹ کی قومی جنرل اسمبلی اختتام پذیر؛ملک و آئین کی حفاظت کے لئے وسیع تر تحریک بنانے کی شہریوں سے اپیل

کیرالہ(یواین اے نیوز24فروری2020)کیرالہ کے ملپّورم ضلع میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی تین روزہ قومی جنرل اسمبلی اختتام پذیر ہو گئی ہے، اس کے ساتھ ہی اسمبلی نے تمام شہریوں، طبقات اور سول سوسائٹی کی جماعتوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ ہمارے ملک اور اس کے آئین کو فرقہ پرست فسطائی خطرات سے بچانے کے لئے ایک وسیع تر تحریک کی تعمیر کریں۔ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دن بہ دن وسعت اختیار کرتے پُرامن مظاہروں میں بڑے پیمانے پر عوام کی شرکت کو سراہنے کے ساتھ ساتھ، پاپولر فرنٹ کی این جی اے کے اجلاس نے یاددہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی ایک قلیل مدّتی لڑائی نہیں ہونی چاہئے، بلکہ اس کے ساتھ ہمارے دستور میں مذکور یکساں حقوق اور سماجی انصاف کے لئے ایک عوامی تحریک کی شروعات ہونی چاہئے۔این جی اے کے اجلاس نے موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند دیگر قرادادیں بھی منظور کیں۔ایک قرارداد میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی جنرل اسمبلی نے مرکزی حکومت سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کو ہر حال میں نافذ کرنے کے موقف کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

حکومت کو چاہئے کہ وہ اس قانون کے خلاف سڑکوں پر آئے لاکھوں شہریوں کے جذبات کا احترام کرے اور ثالثی کا طریقہ اپنانے کے بجائے، شہریت قانون کو سرے سے ختم کرے، جس کی وجہ سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد پر حق شہریت سے محروم ہوکر بے وطن ہوجانے کا خطرہ ہے۔ایک دوسری قرارداد میں این جی اے نے تمام غیربی جے پی حکومتوں سے سی اے اے کی مخالفت کو لے کر اپنے موقف کی سچائی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ قرارداد پاس کرنے کی درخواست کی کہ وہ اپنی ریاستوں میں موجودہ شکل میں سی اے اے/این پی آر/این آر سی کو نافذ نہیں کریں گی۔ ساتھ ہی این جی اے نے ان ریاستوں سے این پی آر پر روک لگاتے ہوئے ایک سرکاری حکمنامہ جاری کرنے کی بھی درخواست کی۔ پاپولر فرنٹ کی این جی اے نے بی جے پی کی مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پُرامن مظاہرین کے خلاف ظالمانہ طریقے اختیار کرنا بند کرے۔ایک اور قرارداد میں این جی اے نے قانون کے مطابق کام کرنے والی تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو بدنام کرنے اور دبانے کے لئے اسے نشانہ بنانے اور اس کی تصویر خراب کرنے کی بی جے پی حکومت کی کوشش پر سخت اعتراض جتایا اور حکومت اور اس کی ایجنسیوں سے تنظیم کے خلاف ظالمانہ طریقے اپنانا اور جھوٹی باتیں پھیلانا بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان جی اے نے یوپی کے ایک پولیسیا ریاست میں تبدیل ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ریاست میں لوگوں کے شہری حقوق کی پامالیوں کے خلاف سیکولر جماعتوں سے اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل کی۔ایک دوسری قرارداد میں، پاپولر فرنٹ کی این جی اے نے مسجد کی تعمیر کے لئے حکومت کے ذریعہ دی گئی زمین کو قبول کرنے کے سنی وقف بورڈ کے فیصلے کی مذمت کی اور یہ کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف ایسا کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔این جے اے نے مرکزی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک اور اس کی معیشت کو تباہی سے نکالنے کے لئے ضروری اقدامات کرے اور یہ کہا کہ غربت کو چھپانے کے لئے بنائی جا رہی دیواروں سے گرتی معیشت کو نہیں چھپایا جا سکتااجلاس میں پاس کردہ ایک اور قرارداد میں، قومی جنرل اسمبلی نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ جموں و کشمیر میں لگائی گئی پابندیوں کو ہٹائے اور نظربند کئے گئے سیاسی لیڈران اور دوسرے سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے۔

اسمبلی نے عام انتخابات سے قبل فلسطین میں یہودی بستیوں کی توسیع کے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی۔ایک دوسری قرارداد میں، پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی جنرل اسمبلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ کہ رزرویشن بنیادی حق نہیں ہے، اس سے پسماندہ طبقات اور دلتوں کو اوپر اٹھانے کا رزرویشن کا اصل تصور ہی کمزور ہو جائے گا۔ اجلاس نے یاددہانی کراتے ہوئے کہا کہ رزرویشن کی شق کو بچانا جو کہ ایک شہری حق ہے، شہریت کے لئے جاری احتجاجات میں یہ بھی شامل ہونا چاہئے۔تین روزہ اسمبلی کا اختتام نومنتخب چیئرمین او ایم اے سلام کے خطاب سے ہوا، جنہوں نے تنظیم کے بنیادی اقدار کے تئیں عزم کو دہرایا اور تمام ساتھیوں سے حمایت کی اپیل کی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad